اللہ والے اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن قلب اور آنکھیں لوٹ پوٹ ہوجائیں گی۔ بھائی! اکڑے تو وہ جس کو اپنے اعمال کی قبولیت کا یقین ہو، ابھی جب مرے نہیں تو اللہ کے فیصلے کا علم کیسے ہوگیا؟ اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے ہو؟ اپنے منہ سے خود ہی تعریف کررہے ہو۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا فیصلہ ہو، اس کا خوف کرو کہ نہ معلوم عمل قبول بھی ہے یا نہیں؟ اگر قبول ہے تو سبحان اللہ، اگر قبول نہیں تو لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ اللہ کی لعنت ہے ایسے عمل پر۔ لہٰذا اس وقت جو لوگ کتاب پڑھیں یا تقریر کریں وہ اس کا مراقبہ کریں کہ معلوم نہیں میرا عمل قبول بھی ہےیا نہیں؟ ورنہ چند بندے چند بندوں کی تعریف کررہے ہیں، چاہے ایک بندہ تعریف کرے یا ایک لاکھ بندے تعریف کریں تو میزانیہ بندہ ہی آئے گا، کیوں کہ بندوں کا مجموعہ بندہ ہی ہوتا ہے۔ بندے کی قیمت مالک لگاتا ہے، اس لیےیہ سوچو کہ ہماری تقریر کی قیمت کیا ہوگی؟یہ اللہ ہی جانتا ہے، اس لیےنہ اپنے منہ سے میاں مٹھو بنو، نہ لوگوں کی تعریف میں آؤ،کیوں کہ لوگوں کی تعریف میں آنا اور اپنے کو تعریف کا مستحق سمجھنا حماقت اور بے وقوفی ہے۔ ہمارا جن سے پالا پڑے گا یعنی اللہ تعالیٰ جب پاس کردیں اور اللہ راضی ہوجائیں تب سمجھو کہ ہاں پاس ہوگئے۔
ایک لڑکی نے ایک زیور بنایا جس کو جھلنی کہتے ہیں، ناک میں جھولتی رہتی ہے، اس لیے اس کا نام ہی جھلنی رکھ دیا۔ تو محلہ کی لڑکیوں نے اس کی بہت تعریف کی کہ بہن! تم بہت اچھی معلوم ہوتی ہو تو وہ رونے لگی۔ سہیلیوں نے کہا کہ کیوں روتی ہو؟ ہماری تعریف کی تم نے یہ قدر کی؟ ہماری تعریف پر تو تم کو شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ اس نے کہا کہ کیا شکریہ ادا کروں؟ میں نے یہ جھلنی اپنی طبیعت سے بنوائی ہے، معلوم نہیں کہ شوہر کو بھلی معلوم ہو کہ بُری معلوم ہو۔ شوہر جب تعریف کرے گا تب میں خوشی محسوس کروں گی، تمہاری تعریفوں سے میرا کیا بھلا ہوگا؟ جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے وہ اگر خوش ہوگیا تو میرا کام بنے گا۔ ایسے ہی جب اللہ بندے کی تعریف کردے تب ہماری خوشی کا دن ہوگا، ورنہ اگر ساری مخلوق تعریف کرے تواللہ کا شکر تو ادا کرے کہ اس نے ستّاری فرمائی، پردہ پوشی کی، مخلوق میں بڑا دکھایا،یہ اللہ کا کرم ہے، شکرگزار رہو، ناز نہ کرو۔ مخلوق میں تعریف ہو تو یہ حسنہ کی تفسیر ہے