Deobandi Books

انعامات الہیہ

ہم نوٹ :

8 - 34
اللہ والے اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن قلب اور آنکھیں لوٹ پوٹ ہوجائیں گی۔ بھائی! اکڑے تو وہ جس کو اپنے اعمال کی قبولیت کا یقین ہو، ابھی جب مرے نہیں تو اللہ کے فیصلے کا علم کیسے ہوگیا؟ اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے ہو؟ اپنے منہ سے خود ہی تعریف کررہے ہو۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا فیصلہ ہو، اس کا خوف کرو کہ نہ معلوم عمل قبول بھی ہے یا نہیں؟ اگر قبول ہے تو سبحان اللہ،  اگر قبول نہیں تو لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ اللہ کی لعنت ہے ایسے عمل پر۔ لہٰذا اس وقت جو لوگ کتاب پڑھیں یا تقریر کریں وہ اس کا مراقبہ کریں کہ معلوم نہیں میرا عمل قبول بھی ہےیا نہیں؟ ورنہ چند بندے چند بندوں کی تعریف کررہے ہیں، چاہے ایک بندہ تعریف کرے یا ایک لاکھ بندے تعریف کریں تو میزانیہ بندہ ہی آئے گا، کیوں کہ بندوں کا مجموعہ بندہ ہی ہوتا ہے۔ بندے کی قیمت مالک لگاتا ہے، اس لیےیہ سوچو کہ ہماری تقریر کی  قیمت کیا ہوگی؟یہ اللہ ہی جانتا ہے، اس لیےنہ اپنے منہ سے میاں مٹھو بنو، نہ لوگوں کی تعریف میں آؤ،کیوں کہ لوگوں کی تعریف میں آنا اور اپنے کو تعریف کا مستحق سمجھنا حماقت اور بے وقوفی ہے۔ ہمارا جن سے پالا پڑے گا یعنی اللہ تعالیٰ جب پاس کردیں اور اللہ راضی ہوجائیں تب سمجھو کہ ہاں پاس ہوگئے۔
ایک لڑکی نے ایک زیور بنایا جس کو جھلنی کہتے ہیں، ناک میں جھولتی رہتی ہے، اس لیے اس کا نام ہی جھلنی رکھ دیا۔ تو محلہ کی لڑکیوں نے اس کی بہت تعریف کی کہ بہن! تم بہت اچھی معلوم ہوتی ہو تو وہ رونے لگی۔ سہیلیوں نے کہا کہ کیوں روتی ہو؟ ہماری تعریف کی تم نے یہ قدر کی؟ ہماری تعریف پر تو تم کو شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ اس نے کہا کہ کیا شکریہ ادا کروں؟ میں نے یہ جھلنی اپنی طبیعت سے بنوائی ہے، معلوم نہیں کہ شوہر کو بھلی معلوم ہو کہ بُری معلوم ہو۔ شوہر جب تعریف کرے گا تب میں خوشی محسوس کروں گی، تمہاری تعریفوں سے میرا کیا بھلا ہوگا؟ جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے وہ اگر خوش ہوگیا تو میرا کام بنے گا۔ ایسے ہی جب اللہ بندے کی تعریف کردے تب ہماری خوشی کا دن ہوگا، ورنہ اگر ساری مخلوق تعریف کرے تواللہ کا شکر تو ادا کرے کہ اس نے ستّاری فرمائی، پردہ پوشی کی، مخلوق میں بڑا دکھایا،یہ اللہ کا کرم ہے، شکرگزار رہو، ناز نہ کرو۔ مخلوق میں تعریف ہو تو یہ حسنہ کی تفسیر ہے 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرضِ مرتب 6 1
3 تقریر اوّل 7 1
4 تشکرعلاجِ تکبّر ہے 7 1
5 کبر کا ایک اور علاج 9 1
6 مومن کے لیے مصیبت کے نافع ہونے کا منطقی استدلال 10 1
7 تکبر کا نقصان اور تواضع کا فائدہ 12 1
8 ایک عجیب تعلیمِ فنائیت 12 1
9 رضا بالقضاء موجبِ اطمینان ہے 13 1
10 گناہ کی ترغیب دینے والا بھی مجرم ہے 14 1
11 موقع فرار پر دعا کے لیے بھی قرار جائز نہیں 15 1
12 تقریر ثانی 18 1
13 صحابہ کا ادب 18 1
14 ستر کے متعلق ایک دلچسپ حکیمانہ جواب 19 1
15 ہجرت سے صحبتِ اہل اللہ پر عجیب استدلال 19 1
16 ہجرت کے بعض اہم اسرار 20 1
17 بیت اللہ کے بے آب وگیاہ وادی میں واقع ہونے کا راز 20 1
18 بیت اللہ کے مختصر ہونے کی عجیب حکمت 21 1
19 آفتابِ نبوت کا مطلع 21 1
20 نفس کا تیل نکالنے سے خدا ملتا ہے 22 1
21 شرح حدیث اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا…الخ 22 1
22 دُعائے قنوت میں مذکورجملہ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ کا مطلب 23 1
23 نفاقِ عملی اور نفاقِ اعتقادی کا فرق 24 1
24 آنکھوں پر دو قدرتی خودکار (آٹومیٹک) پردے 24 1
Flag Counter