پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی
چوتھا طریقہ اللہ کی یاد میں رونے کا کیا ہے؟ تمہارے آنسو زمین پر گرپڑیں تاکہ یہ زمین قیامت کے دن تمہارے رونے کی گواہی دے۔ حاکم کی روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے:
مَنْ ذَکَرَ اللہَ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ حَتّٰی
یُصِیْبَ الْاَرْضَ مِنْ دُمُوْعِہٖ لَمْ یُعَذَّبْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ15؎
یعنی جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور اللہ کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں یہاں تک کہ کچھ آنسو زمین پر گرجائیں، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو عذاب نہ دیں گے۔
اب آپ کہیں گے کہ یہاں تو قالین بچھی ہوئی ہے، زمین کہاں ہے، تو سنگ مرمر بھی مٹی کے حکم میں داخل ہے۔ جس چیز سے تیمم ہوسکتا ہے وہ خالقِ ارض کے یہاں مٹی ہی کے زمرے میں ہے، لہٰذا فرش پر چلے جاؤ جہاں قالین نہیں ہے یا ہمارے ساتھ سندھ بلوچ چلو، ہم آپ کو رونے کے لیے زمین ہی زمین دیں گے، مگر یہ نہ سمجھ لینا کہ پلاٹ الاٹ کردیں گے، صرف زمین دیں گے رونے کے لیے۔ آپ جس کی زمین پر دو رکعت پڑھ کے رولیں مجھے اُمید ہے کہ زمین کا مالک آپ کو کچھ نہیں کہے گا، بلکہ دوڑ کر آئے گا اور دُعا کی درخواست کرے گاکہ ہمیں بھی دُعا میں یاد رکھنا مولوی صاحب! تو رونے کی چار قسمیں ہوگئیں۔
۵) گناہ گاروں کی آوازِ گریہ کی محبوبیت
آج ایک نیا علمِ عظیم پیش کرتا ہوں جو گریہ وزاری کی پانچویں قسم ہے۔ توبہ کی تینوں قسموں سے اور رونے کی چار قسموں سے آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوجائیں گے، حبیب ہوجائیں گے، مگر آج ایک علمِ عظیم اللہ نے عطا فرمایا جس سے آپ صرف محبوب ہی نہیں احب ہوجائیں گے۔ ایک ہے حبیب اور ایک ہے احب یعنی سب سے زیادہ پیارا، مبالغہ کا صیغہ ہے کہ اللہ کا سب سے زیادہ پیار مل جائے۔
_____________________________________________
15؎ کنزالعمال:432/1(1830)، باب فی الذکر وفضیلتہ،مؤسسۃ الرسالۃ