ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
نے منع فرمایا وہ آئیں گے تو تسلی کے کلمات میں تعریفی جملے بھی کہیںگے۔ مگر پھر کہنے سُننے پر اِجازت دے دی۔ اُنہوں نے جو کلمات تسلی اِستعمال کیے وہ اِسی قسم کے تعریفی تھے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہ سُننا چاہتی تھیں۔ اُن کے جانے بعد آپ نے فرمایا لَیْتَنِیْ کُنْتُ نَسِیًا مَّنْسِیًّا یہی حال بزرگان ِ دین کا چلا آرہا ہے۔ یہی حال حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ ا للہ علیہ کا تھا۔ یہی حال حضرت مولانا انورشاہ صاحب رحمہ اللہ کا تھا اور حضرت السید حسین احمد مدنی علالت کے باعث آخر حیات میں چند روز جماعت کے لیے نہیں جاسکے تھے تو اُس پر افسوس فرماتے تھے اور افسوس کرتے کرتے آگے بڑھ جاتے تھے کہ ساری زندگی برباد ہوگئی۔اَعْلَی اللّٰہِ دَرَجَاتِہِمْ فِیْ اَعْلٰی عِلِّیِیْنَ وَضَاعَفَ حَسَنَاتِھِمْ وَاَدَامَ بَرَکَاتَھِمْ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ آمین آپ کا یا کسی اور کا اِن حضرات کے اِن کلمات کو اِس حالت ِ حقیقی پر جو نہایت درجہ محمود ہے محمو ل نہ کرنا اور بالکل ظاہر پر ہی حمل کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے معاذاللہ کوئی شیعہ اِن اَکابر ِ صحابہ کے اِن کلمات کو اُن پر علی الاطلاق صادق کرنے کی ناپاک کوشش کرے۔ شاید آپ کا مطلب یہ ہے کہ شاہ صاحب کے بارے میں جو بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ وہ افسوس فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ساری عمر حنفیت کی تائید میں صرف کردی۔ اِس پر پچھتاتے تھے اور پچھتانا بجا تھا۔ تو یہ غلط ہے۔ بلکہ یہ پچھتا نا اِسی قسم کا تھا جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا ہے کیونکہ ہر آدمی کو شریعت نے حق دیا ہے کہ وہ اپنی آبروکی حفاظت کرے، اپنی جان کی حفاظت کرے، اپنے مال کی حفاظت کرے حتٰی کہ اِس مین مارا بھی جائے گا تو شہید ہوگا۔ (اور سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی حفاظت ِ عزت ِ نفس کی قسم سے تھی ) تو کیا اِن مسائل کی حفاظت اور انہیں مدلل کرنا ثواب نہ ہوگا کہ جن پر جملہ عقائد عبادات معاملات اور اَحکام قضاء و اِفتاء کا مدار ہے۔ اگر اُنہوں نے اپنی عمر اِس کام میں صَر ف کی تو عین دین ہی کے کام میں صَر ف کی۔ اِس وہ مطلب نکالنا جو آپ سمجھے ہیں دُرست نہیں بلکہ اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ آپ نے لکھا ہے : اِن کلمات سے طبیعت مکدر ہو گئی الخ۔ ٭ حالانکہ میرا مطلب یہ تھا کہ اور ہے کہ آپ کی سمجھ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُن کا صحیح حق دینے کی بات آرہی ہو۔ تَعَلِّیْ پر آپ نے محمول کر کے غلطی کی ہے۔