ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
وجہ ترجیح مسلک ِ مختارمگر یہ سب حدیثوں ہی کے روشنی میں ہوتا ہے۔ سند پر بھی بحث ہوتی ہے۔ متن پر بھی اور طرق ِ حدیث پر بھی۔ اِس میں کیا خرابی ہے۔ مگر چونکہ آپ کبھی کنویں سے نہیں نکلے ہوں گے اِس لیے شاید آپ اِس طریقہ کا علم بھی نہ ہو۔ حضرت صوفی صاحب رحمة اللہ علیہ کے بارے میں جہاں تک میں نے سُنا ہے وہ یہی ہے کہ ایک متقی بزرگ تھے۔ اُنہوں نے ہر گز یہ قصہ نہ گھڑا ہوگاجو آپ نے اُن کی طرف منسوب کیاہے جو عقلاً اور قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے۔ حضرت شاہ صاحب کے زمانہ میں دَورہ حدیث میں طلبہ کی تعداد یعنی صحاح ِ ستہ کی جماعت میں کم وبیش ایک سو ہوتی تھی۔ اسی تناسب اگر دیکھا جائے تو رہائش پزیر (باہر سے آئے ہوئے جو وہاں کے ہاسٹل میں رہتے تھے اُن) طلبہ کی کل تعداد پانچ سو کے قریب ہوگی۔ اِس سے زیادہ نہیں۔ اِن میں اہل حدیث طلبہ کی تین سو تعداد ہو یہ بالکل ہی بے بنیاد ہے۔ بلکہ تاریخ دیو بند میں بھی اہل حدیث طلبہ کی کسی سال بھی اتنی تعداد مختلف جماعتوں میں اوپر سے نیچے تک ساری جماعتیں ملاکر بھی کبھی نہیں ہوئی۔ اِس لیے یہ قصہ ہی من گھڑت ہے۔ اور کذب وافتراء کا پلندہ ہے۔ میں تو باشندہ بھی دیو بند ہی کا ہوں۔ وہیں ہمارا جدی محلّہ ''سرائے پیر زادگان''کے نام سے موسوم چلاآرہاہے۔ نیز آپ کے اِس واقعہ سے پڑھنے والے کے ذہن میں اہل حدیث کی مذمت ہی آئے گی کہ بڑے تقیہ باز ہوتے ہیں۔ آئندہ اِسے نہ دُہرائیں۔ اور اگر یہ واقعہ آپ نے خود گھڑا ہے تو پہلے کسی باخبر سے مشورہ کر کے گھڑا ہوتا اور اگر آپ نے نہیں گھڑا تو اُس سے لڑیں جس نے یہ گھڑا ہے۔ (اور اُس سے کہیں دارالعلوم دیو بند کے دفتر خط لکھ کر پورے حالات معلوم کر لے اور تفریق بین المسلمین کے جرم ِ عظیم سے ہمیشہ کے لیے توبہ کرلے)۔ آپ نے لکھا ہے : فرمایا کرتے تھے کہ تمام زندگی الخ۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے مقبولان ِ بارگاہ کا یہی حال کرتا ہے کہ اُن کی نظر اپنی نیکیوں پر نہیں ہوتی اور آخر وقت اِس حالت کا غلبہ ہوجاتاہے اور فقط خدا کی رحمت پر نظر رہ جاتی ہے۔ اِس طرح اُن کی نیکیوں کی قیمت اللہ تعالیٰ بڑھا دیتے ہیں۔ یہ خدا رحمت ِ خاص ہوتی ہے۔ یہی حال کبارصحابہ کا ملے گا۔ حضرت ابو بکر آخر ایسی ہی باتیں اِرشاد فرماتے تھے۔ حالانکہ وہ افضل البشر بعد الانبیاء علیہم الصلوٰة والسلام تھے۔ اور حضرت عمر اِرشاد فرماتے تھے لَیْتَنِیْ کُنْتُ تِبْنَةً کاش میں تنکا ہوتا (یعنی مکلف نہ ہوتا)اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کلمات تو بخاری شریف میں موجود ہیں کہ رشتہ دار صحابی نے (قریب الوفات) حاضر ہونے کی اِجازت چاہی ۔ ٓپ