ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
آپ نے لکھا ہے : بطور ِ ناصح الخ۔ ٭ اِس لیے حدیث شریف میں نصیحت کا حکم آیا ہے اور آپ تو بقول ِ اپنے اہل حدیث ہیں پھر اِس میں بُرا ماننے کی کیا بات ہے؟ آپ نے لکھا ہے : اور اُستاد ا لخ۔ ٭ میں اپنے اُستادوں کی راہ دکھا تا ہوں۔ آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھ سے پڑھیں۔ آپ نے لکھا ہے : مگر وہ ہیں کہاں؟ الخ۔ ٭ چشمۂ طلب صادق لگائیں تو اُستاد ہی اُستاد نظر آنے لگیں گے۔ آپ نے لکھا ہے : بطور ِ ناصح الخ۔ ٭ نصیحت سے کیوں چڑے وہ تو حدیث میں آتی ہے لِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ۔ آپ نے لکھا ہے : آپ کے وسائل الخ۔ ٭ وسائل اور کتابیں زیادہ ہیں اور کتابی علم بھی زیادہ ہے مگر پھر بھی آپ ہی کی نظر میں بے علم بھی ہوں۔ جیسے آپ شروع خط میں لکھ آئے ہیں کہ کتابیں الخ۔ آپ نے لکھا ہے : عمل میں لا کر وقتی ضروریات الخ۔ ٭ میں تو اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ آپ نے زبر دستی اِدھر لگایا۔ آپ نے لکھا ہے : رِکاب تھامنے کو الخ۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضاء وفضل کا طالب ہوں۔ اللہ تعالیٰ دین پر اِستقامت بخشے اور دُنیا وآخرت میں اپنی رضاء اور توفیق ِ مرضیات عطا فرمائے۔ آمین۔ اور یہی دعا آپ کے لیے بھی کرتا ہوں۔ میرے نزدیک اِس سے بڑا تحفہ کوئی نہیں ۔ والسلام حامد میاں غرلہ ٢٠ ذولحجہ ١٣٩٦ ھ جاری ہے