ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
اكستان |
|
بات سُن کر اختلاف و نزاع شروع کردیا حالانکہ نبی کے سامنے اختلاف و نزاع کا اِظہار مناسب نہیں۔ اُن میں سے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ کیا آپ ۖ دُنیا کو چھوڑرہے ہیں؟ آخر کار آپ ۖ نے فرمایا مجھ کو چھوڑدو کیونکہ اِس وقت میں جس حالت میں ہوں وہ اُس حالت سے بہتر و افضل ہے جس کی طرف تم مجھے متوجہ کررہے ہو۔ (اس کے بعد) آپ ۖ نے اپنی وفات کے وقت تین باتوں کی وصیت کی۔ ایک تو یہ کہ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔ دُوسری یہ کہ جو ایلچی اور قاصد آئیں اُن کے ساتھ عزت و احترام کا وہی معاملہ کرو جو میں کیا کرتا تھا۔ تیسری بات میں بھول گیا۔ ف : تیسری بات کے بارے میں بعض محدثین فرماتے ہیں کہ جیش ِ اُسامہ کی روانگی سے متعلق تھی۔ بعض محدثین کہتے ہیں کہ نماز اور غلاموں کے بارے میں تاکید سے متعلق تھی۔ بعض محدثین کا کہنا ہے کہ تیسری بات آپ ۖ نے یہ فرمائی تھی کہ میری قبر کو بُت نہ بنادینا جس کی پرستش کی جانے لگے، واللہ اعلم۔ حضور ۖ دُنیا سے تین قبیلوں سے ناخوش تشریف لے گئے : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ مَاتَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَکْرَہُ ثَلَاثَةَ اَحْیَائٍ ثَقِیْفٍ وَبَنِیْ حَنِیْفَةَ وَبَنِیْ اُمَیَّةَ ۔ (ترمذی بحوالہ مشکٰوة ص ٥٥١) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا سے پردہ فرماگئے اِس حال میں کہ آپ ۖ تین قبیلوں سے ناخوش تھے۔ (١) بنو ثقیف (٢) بنو حنیفہ (٣) بنو اُمیہ۔ ف : مذکورہ بالا تینوں قبیلوں میں ایسے اَفراد پیدا ہوئے جن سے مخالفین ِ اسلام کو فائدہ پہنچا اور مسلمانوں کو شدید رنج و اَلم اور مصائب سے دوچار ہونا پڑا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ۖ کو آگاہ فرمایا تھا کہ آگے چل کر اِن قبائل سے کیسے کیسے فتنے اور کیسے کیسے ظالم لوگ پیدا ہوں گے اِس لیے آنحضرت ۖ اِن تینوں قبیلوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔