ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
ور تطویل ِ لاطائل ہے۔ جواب اِس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ کی اِس رفتار کو تھوڑا سا بند لگ جائے اور آپ نے ہی مجھے تقاضے کرکے بلکہ دھمکیاں دے کر جواب پر مجبور کیاہے۔ آپ نے لکھا ہے : حافظ شیرازی الخ۔ ٭ اَب حافظ شیرازی کے پیچھے پڑگئے۔ آپ نے لکھا ہے : حافظ شیزازی نے بھی ١٢ کی الخ۔ ٭ حوالہ آپ نہیں لکھتے تاکہ پتی چل سکے کہ یہ شعر واقعی اُس کا ہے یا الحاق ہے۔ یعنی کسی نے لکھ کر اُس کی طرف منسوب کردیا۔ بہت سے اہل ِ باطل مثلاً مرزائی خواہ مخواہ بھی کسی بڑے افسر کو جو اچھا خاصا مسلمان ہو مرزائی مشہور کردیتے ہیں۔ اور یہ حرکت پہلے سے بھی ہوتی آئی ہے۔ نیز یہ بھی امکان ہے کہ یہ شعر اُنہی کا ہو مگر پہلے کا ہو۔ بعد میں اُن کی اصلاح ہوگئی ہو۔ کیوںکہ اُنہوں اپنے وقت کے ایک سُنی ولی سے یہ گزارش کی تھی آنکہ خاک را بنظر کیمیا کنند آیا بود کہ گوشیۂ چشمے بما کنند اور اُنہوں نے اِس کے جواب میں فرمایا تھا ''نظر بتوکردیم '' واللہ اعلم بحقیقة الحال۔ اِس لیے کسی کے بارے میں فیصلہ دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ آپ نے لکھا ہے : جب مرحوم آپ کی طرح سوچتے ہیں الخ۔ ٭ خدا کرے کہ میں اُن کی طرح سوچنے لگوں۔ آپ نے لکھا ہے : اُن دنوں صوفی عبداللہ الخ ٭ اور اُس زمانے میں آپ کی طرح سوچتے ہوں گے۔ آپ نے لکھا ہے : موحوم گھو م پھر کر اِس کی تردید الخ۔ ٭ یعنی اگر فقط ترجمہ کردیا جاتا تو تائید ہوجاتی مگر اُن کا قاعدہ یہ تھا کہ ایک حدیث جہاں جہاں جس کتاب میں آئی ہے ہر کتاب فورًا کھول کر صحہ نکال کر بتلا تے تھے جیسے اُنہوں پوری تیاری کر رکھی ہو۔ اُن کے بعد حضرت مدنی شیخ الحدیث ہوئے تو اُن کا بھی بعینہ یہی طرز رہا۔ اِس کا نام ہے داریةًپڑھانا۔ اور اگر کوئی ترجمہ ہی کر کے پڑھا دے تو داریةً پڑھنا پڑھانا ہوتاہے۔ داریةً پڑھا نے میں پہلے تو کتاب کی حدیث ِ پاک اور اُس کا مطلب ترجمہ، لغات بیان کیا جاتا ہے پھر مسالک ائمہ اور اُن کے دلائل پھر