ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
١۔ ب ۔ ج لکھتے جائیں اور عدد گناتے جائیں۔ اتنے اِضافہ کی اِجازت دیتاہوں۔ (2) اِنَّمَالِاَ مْرِئٍ مَّانَوٰی جو آدمی کی نیت ہو وہی معاملہ ہوگا۔ آپ نے لکھا ہے : یہ سنی مسلمان الخ۔ ٭ کیا آپ خود سنی مسلمان نہیں ہیں؟ سُنی کا مطلب ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ اتباع ِ سنت کی کوشش کرنے والا۔ آپ نے لکھا ہے : کیا یہ سمجھتے آرہے ہیں الخ۔ ٭ ہم نے کب ایسا کہا یا لکھاہے۔ اسم پاک میں ''میم'' تین بار اور علیہ السلام کا ''س'' ایک بار آنا چاہیے۔ مگر ہر حرف کے جدا جدا عددنکال کر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور امیر امؤمنین علیہ السلام کے عدد ملا کر رسالہ میںشائع فرمادیں تاکہ عوام کو پورا فائدہ ہو۔ آپ نے لکھا ہے : آپ کی مستند کتب الخ۔ ٭ ذرا پہلے دائیں بائیں دیکھ لیا کریں۔ آپ کی بھی مستند کتب کی حواشی میں ''١٢'' لکھا ہوا ہے۔ یہ میں کتاب میں دیکھنے کے بعد لکھ رہاہوں۔ دیکھیں حاشیہ مقدمہ تحفة ا لاحوذی علامہ مبارک پوری کی حاشیہ کا جگہ جگہ یہی حال ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اہل ِ حدیث پورے تو کیا ہوتے اَدھورے بھی نہیں۔ اسی اُن کے عقائد سے بھی ہٹ کر تجدید کے کام میں لگ گئے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے : فور ً ا حد کہ دیں گے الخ۔ ٭ اگر آپ مقلد اہل ِ حدیث ہوتے تو آپ اَب ضرور یہ تاویل کرلیں گے کہ '' اِنَّمَالِاَ مْرِ مَّانَوٰی'' ورنہ کہیں موقعہ ملے گاتو علامہ مبارک پوری بھی برس پڑیں گے۔ آپ نے لکھا ہے : اثنا عشری الخ ٭ اس نے(غالب نے) اپنی نیت بیان کی ہے۔ خدا کے یہاں اُس کے بارے میں اُس سے سوال ہوگا اور جنہوں نے حسد کی نیت سے لکھا ہے اُن کے ساتھ اُن کی نیت چلے گی۔آپ کا مطلب ہے سب کو ایک ڈنڈے سے ہانکا جائے۔ اگر یہ بحث آپ کے فوائد ِ عظیمہ کا تتمہ ہے۔ مگر میرے نزدیک ایک خلط ِ مبحث