ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ بھی جانتے ہیں اور ثَانِیَ الثَّنَیْنِ بھی۔ سیّدالشہداء حمزہ بھی اور سیّدا شباب اہل الجنة بھی جانتے ہیں۔بیان بھی کرتے ہیں۔ ہر ایک کو اُس کا حق دیتے ہیں۔ البتہ آپ کی طرح نہیں ہوتے کہ خلافت حضرت علی سے چھین کر حضرت معاویہ کو دے دیں۔ گویا حضرت علی کو باغی اور حضرت معاویہ کو خلیفۂ وقت اُن کی موجود گی میں بھی مانیں۔ ہاں حضرت علی کے بعد امیرالمؤ منین مانتے ہیں۔ رضی اللہ عنہم۔ آپ نے لکھا ہے : سیدہ فاطمہ کی شان ِ اقدس میں سبائی روایات الخ۔ ٭ سَیِّدَةُ نِسَائِ اَہْلِ الْجَنَّةِ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حق میں اگیا ہے۔ نہیں سرکار! وہ اُن سب کے آسماء گرامی بھی جانتے ہیں۔ آپ بیٹھے بیٹھے فتوی نہ گھڑ دیئے۔ آپ نے لکھا ہے : مگر اَفْضَلُ الْبَنَاتِیْ الخ۔ ٭ کیا حدیث کا ناس کیاہے کیا عمدہ ترکیب ہے یہ کوفہ اور بصرہ کے بیوقوف نحوی آج تک مضاف پر''الف لام'' داخل کرنے سے منع کرتے رہے۔ جزاک اللہ کہ البناتی لکھ کر آپ نے اسے جائز فرمادیا۔ مگر حدیث ِ افضلیت نقل نہیں کی۔ بلا حوالہ ہی زور لگایاہے۔ آپ نے لکھا ہے : آپ نے یا آپ کے بزرگوں نے الخ۔ ٭ میں نے آپ کے بزرگوں کو کچھ کہا ہے جو آپ میرے بزرگوں کو بار بار لپیٹ میں لے آرہے ہیں۔ حالانکہ آپ اُنہیں پوری طرح جانتے بھی نہیں۔ آپ نے لکھا ہے : حروف ابجد الخ۔ ٭ (1)یہ ابجد علوم کونسی اَحادیث ِ صحیحہ مرفوعہ میں آئے ہیں۔ اگر نہیں آئے تو یہ علامت کے طور پر اِستعمال ہونے والی چیز ہوئے۔ اور ہر شخص اورطبقہ کو اِختیار ہے کہ وہ کسی چیز کو کسی کے لیے اشارةً اِستعمال کرلے۔ ایسی صورت میں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ بجائے اِس اِشارہ کے اصل عبارت ہی کیوں نہ لکھ دی جایا کرے ۔ لیکن علامت بنانے سے نہیں روکا جاسکتا۔ ورنہ بسم اللہ کے عدد نکال کر دیکھیں کتنے ہوتے ہیں؟ اور امیر امؤ منین علیہ السلام کے کتنے بنتے ہیں۔ میری اِن سطور کے نیچے اِس رسالہ میں اپنے آپ نکال کر جواب میں اِضافہ فرمادیں۔