ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
آپ نے لکھا ہے : ناشر نے محقق کا لفظ میری اِجازت کے بغیر لکھ دہا۔ ٭ سبحان اللہ کیا کہنے! مگر اندر ہی اندر دِل خوش ہوا ہوگا ورنہ مشغلۂ تصنیف ہی چھوڑ دیتے۔ آپ نے لکھا ہے : مجتہد اور حافظ الحدیث لکھا کر الخ۔ ٭ آپ کی تصنیفات ہی نے مجھے یہ سمجھنے پر مجبور کیا ورنہ اپنی علمی تکمیل سے پہلے تصنیف وتالیف میں کیوں قدم رکھا۔ اور کیوں بڑوں بڑوں پر چھینٹے پھینکتے ہیں وہ بھی ایسے کہ جو عقلاً نقلاً دونوں طرح غلط ہوں۔ آپ نے لکھا ہے : صدیق ِ اکبر اور فاروق اعظم کے مناقب بیان کرنے سے الخ۔ ٭ بحمداللہ میں ہرسال دوماہ سے زیادہ یہ بیان کرتا ہوں۔ صدیق ِ اکبر رضی اللہ عنہ سے لے کر سّیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تک۔ اُن کے آگے کے ہم ذمّہ دار نہیں۔ اور یہ آپ کا دُوسروں کا مغالطہ دینا ہے یا خود آپ خود پسندی کا شکار ہیں کہ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ہی یہ کام کررہے ہیں باقی سب ڈرے بیٹھے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے : شان ِ صحابہ کی آواز الخ۔ ٭ پھر تنظیم ِ اہل سنت کے ساتھ مل کر کام کیجیے تاکہ آواز دور دور تک پہنچ سکے۔ ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنانے سے کیا خاص فائدہ ہے؟ آپ نے لکھا ہے :'' مجھے اِس پر ناز ہے'' ٭ فخر اور ناز ہی نے آپ کو بگاڑا ہے۔ فخر اور ناز کے بجائے شکر اور تواضع اِختیار کیجیے۔ آپ نے لکھا ہے : مزدور آدمی بھی الخ۔ ٭بس رضاکار ہی اپنے آپ کو سمجھیں۔ یہی بہتر ہوگا۔ جلدی سے سالار بننے کی کوشش نہ کریں۔ ورنہ ضَلُّوْ وَاَضَلُّوْ کا سخت اندیشہ ہے۔ آپ نے لکھا ہے : مسجدیں بنوائیں۔ ٭ میرا مشورہ ہے کہ ایسے ہی کام کرتے رہیں۔ یہ واقعی اگر اِخلاص کے ساتھ کیے جائیں تو صد قہ جاریہ ہوں گے ۔ مجھے آپ کا تجسس کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اِنَّمَالِاَ مْرِئٍِ مَّانَوٰی۔ آپ نے لکھا ہے :کہ جن کے مدارس الخ۔ ٭ ہمارے مدرسہ سے بحمد اللہ ایسا جاہل کوئی نہیں نکلا۔ کوئی ملے تو میرے پاس پکڑ لائیں۔ وہ