ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
عمر، علی، ابنِ مسعود ، ابنِ عمر، ابنِ عباس، زید بن ثابت اور عائشہ (رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین) ۔ ابن ِ حزم نے کہا یہ ممکن ہے کہ اِن میں سے ہر ایک کے فتوے جمع کرکے ضخیم ضخیم جلدیں بنادی جائیں۔ اُنہوں نے (ابن ِ حزم نے) کہا کہ اِن کے بعد بیس صحابہ کرام کا نمبر ہے : ابوبکر، عثمان، ابوموسٰی، معاذ، سعد بن ابی وقاص، ابوھریرہ، انس، عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص، سلمان، جابر، ابوسعید، طلحہ، الزبیر، عبد الرحمٰن بن عوف، عمران بن حصین، ابوبکرہ، عبادة ابن الصامت، معاویہ، ابن الزبیر، اُم سلمہ۔ (رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین)۔ ابن ِ حزم نے کہا کہ اِن کے ہر ایک کے فتوئوں سے ایک ایک چھوٹا جزء (جلد) تیار ہوسکتا ہے۔ ابن ِ حزم نے کہا کہ اِن کے بعد تقریبًا ایک سو بیس صحابہ کرام ایسے ہیں کہ جن کے فتوے بہت تھوڑے ہیں۔ پھر اُنہوں نے اِن سب کے بھی اَسماء گرامی تحریر کیے ہیں۔ (تدریب الراوی ص ٤٠٤) اَب تو آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ مدینة العلم کے چھ دروازے تھے یا چھبیس دروازے تھے جتنے بھی تھے اُن میں ایک دروازہ حضرت علی بھی تھے۔ آپ بھی سمجھ گئے ہوں گے اور شیعہ بھی فائدہ نہ اُٹھاسکیں گے۔ یہ تھا شیخ الاسلام حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ' کے مکتوب کے پہلے حصہ کا مطلب۔ آپ نے لکھا ہے : ایسی حدیث نہ گزری الخ۔ ٭ بحمد اللہ ہر سال اِن اَحادیث ِ مبارکہ سے آنکھیں منور ہوتی رہتی ہیں۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۔ آمین۔ مگر اِس میں بھی آپ نے وہی بدحواسی کا مظاہرہ کیا۔ جو حدیث آپ کو پیش کرنی چاہیے تھی وہ رہ گئی اور دُوسری لکھ دی۔ حضور! یہاں تو وہ حدیث لانی چاہیے تھی جس میں خواب میں دُودھ کا ذکر آتا ہے اور آپ قمیص والی حدیث لکھی بیٹھے۔ اَب حجابِ اکبر کی نسبت اپنی طرف ہی کرلیں۔ آپ نے لکھا ہے : اور ابن ِ مسعود الخ۔ ٭ یہ آپ نے حدیث بخاری کے ساتھ ملاکر ایسے لکھا ہے جیسے یہ مسلسل روایت ہے۔ پڑھنے والے کو یہی مغالطہ ہوگا۔ اِس کا حوالہ دینا چاہیے تھا اور بالکل یہی قول حضرت عبد اللہ بن عباس کا حضرت علی کے حق میں ابن عبد البر نے استیعاب میں دیا ہے۔ (دیکھیں ج ٢ ص ٤٦٢)