ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
ذکر فرمایا گیا ہے الخ۔ اور توحید و صفات کے باب میں (جو فن ِ کلام ہے) آپ ہی سب سے پہلے کلام فرمانے والے ہیں۔ اور بابِ تصوف میں آپ انتہاء وسیع سمندر تھے الخ۔ اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں آپ مسائل ِ دینیہ میں اُن کے مشیر اور تدبیراتِ ملکیہ میں اُن کے وزیر تھے۔ اور یہ حضرات اُن کی تعظیم و توقیر میں بہت بہت آگے گئے ہیں۔ (حضرت شاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں) ''وایشاں درتعظیم و توقیر اُو دُور دُور رفتہ'' ص ٢٧٤ ازالة الخفائ۔ حضرت شاہ صاحب نے جہاں حضرت سیدنا فاروقِ اعظم کے حالات تواضع وخشیت وغیرہ ذکر فرمائے ہیں۔ اُن میں یہ واقعہ بھی نقل فرمایا ہے کہ ''حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ طالب کے پاس پہنچے۔ اُنہوں نے عرض کیا مَرْحَبًا یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ آپ نے اِس مسئلہ کا ذکر فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ جناب نے مجھے کیوں نہ بلا بھیجا۔ تو آپ نے جواب دیا کہ میں تمہارے پاس آنے کا زیادہ مستحق ہوں'' (ازالة الخفاء ص ١٥٧) ابوبکر ابن العربی فرماتے ہیں کہ اگر حضرت علی کے ساتھ یہ معاملات نہ گزرے ہوئے تو ہم یہ نہ جان سکتے کہ باغیوں سے جنگ کے کیا احکام ہیں۔ یہی اہل ِ علم کا قول ہے۔ اُنہوں نے مناظروں وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ (العواصم ص ١٩٤) تو یہ باب اور بڑھالیں (مناظروں اور قتال اہل ِ بغی اور اُن کے احکام کے) آپ نے ایک خط میں مجھے تدریب الراوی کے مطالعہ کی بھی ہدایت فرمائی تھی۔ میں نے حسب ِ ہدایت اُس کا مطالعہ کیا تو اُس میں یہ لکھا ہے کہ ''حضرت مسروق رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ صحابۂ کرام کا علم اِن چھ حضرات میں آگیا عمر ۔ علی ۔ اُبَیٔ ۔ زید ۔ ابوالدرداء ۔ ابنِ مسعود ۔ پھر اِن چھ کا علم حضرت علی اور حضرت عبد اللہ کے پاس جمع ہوگیا''۔ حضرت مسروق کی یہ روایت حضرت شعبی نے بھی نقل فرمائی ہے۔ لیکن اِس میں حضرت ابوالدرداء کے بجائے حضرت ابوموسٰی کا نام لیا ہے رضی اللہ عنہم۔ اِس سے آگے فرماتے ہیں وَقَالَ الشَّعْبِیُّ الخ یعنی ''رسول اللہ ۖ کے صحابۂ کرام میں چھ حضرات سے علم حاصل کیا جاتاتھا اور حضرت عمر، عبد اللہ اور زید آپس میں ایک دُوسرے سے علوم میں مشابہت رکھتے تھے اور ایک دُوسرے سے حاصل کرتے تھے۔ اور حضرت علی اور ابوموسٰی اشعری اور اُبیٔ کا علم ایک دُوسرے سے ملتا جُلتا تھا اور ایک دُوسرے سے استفادہ کرتے رہتے تھے۔ اور ابن ِ حزم نے کہا ہے کہ صحابہ کرام میں علی الاطلاق سب سے زیادہ فتاوی والے حضرات سات ہیں :