ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو کا نام اِس رسالہ میں بھی نہ ہوگا۔ اِس لیے آپ نے بھی نہیں لکھا۔ اِسی طرح نہ اس نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہوگا نہ آپ نے لکھا۔ کسی نے سچ کہا ہے نقل را ہم عقل باید اچھا آپ سچ سچ چپکے سے مجھے ہی خط میں بتلادیں کہ اپنی طرف سے یہ عبارت جو بلاحوالہ کرکے آپ نے لکھی ہے کہاں سے چُرائی ہے۔ بلاحوالہ تو اِس لیے لکھی ہے کہ آپ کے محقق ہونے کا سکہ جم جائے۔ اگر اِس رسالہ والے نے بھی حوالہ نہ دیا ہو تو مجھ سے پوچھ لیں۔ میں بتلادوں گا اِنشاء اللہ تعالیٰ۔ آپ نے لکھا ہے : فقہی مسائل میں الخ۔ ٭ مگر پھر وہ خلیفہ رابع ہونے کے آپ کی نظر میں اہل نہیں اور علم کے پچیس تیس دروازوں میں سے ایک دروازہ اُن کو ماننے کے لیے آپ تیار نہیں۔ ہم نے تو شروع سے ہی یہی کہا ہے کہ آپ منجملہ اور دروازوں کے ایک دروازہ ہیں اور اِس حدیث میں شیعوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر آپ ڈر کا مارے بُرا حال ہے۔ آپ نے لکھا ہے : دُگنی ہونی چاہیے تھی الخ۔ ٭ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ حضراتِ شیخین سے اِن کا مقابلہ غلط ہے۔ فی نفسہ اِن کے علم کے بارے میں ذرا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ کی باتیں بھی سُنیے کہ ''قراء سبعہ میں سے حضرت عاصم کی سند حضرت علی حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت زید سے ملتی ہے۔ اور حضرت حمزہ القاری کی سند حضرت عثمان اور حضرت علی سے ملتی ہے۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ صحابہ کرام میں آپ مکثرین ِ حدیث میں ہیں۔ بظاہر تو کتب ِ معتبرہ میں آپ کی روایات مرفوعہ چھ سے کے قریب ہیں۔ لیکن درحقیقت آپ کی مرفوع روایتیں بھی ہزار سے زیادہ مل سکتی ہیں۔ اور حدیث کے بعض اَبواب تو ایسے ہیں کہ آپ سے پہلے وہ کسی سے مروی نہیں۔ آپ ہی اِس دروازہ کو سب سے پہلے کھولنے والے ہیں۔ منجملہ اِن کے آنحضرت ۖ کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں جو باب ہے۔ (وہ اِس کی مثال ہے) ص ٢٧٣ ازالة الخفائ۔ اِس سے اگلے صفحے پر اِرشاد فرماتے ہیں کہ منجملہ اِن اَبواب کے ایک باب نمازِ مناجات کا ہے الخ۔ منجملہ اِن اَبواب کے ایک باب نوافل اَوقاتِ یومیہ کا ہے۔ اور مسائل و فتاوی و احکام میں بہت نقل کیے گئے ہیں۔ خصوصًا امام شافعی کی کتابوں میں اور مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ِ ابی شیبہ (میں اِن کا) خاصہ حصہ