ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
٭ یعنی اِن کتابوں کے اَندر صحت و صداقت کے بجائے کذب و بہتان بھی مانتے ہیں اور پھر بھی قصور علماء دیوبند ہی کا ٹھہراتے ہیں کہ اِن کے بیان میں تضاد ہے۔ آپ نے یہ دو چیزیں جمع کرکے مظاہرۂ کمال کیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے : ''یہ ضرور ہے کہ زندگی طلباء میں نہیں گزری۔'' ٭ کہاں کہاں گزری کچھ اِرشاد فرمایا ہوتا۔ میں نے تو پہلے خط کے جواب میں یہ گزارش کی تھی مگر اُس وقت لتاڑنے کے موڈ میں تھے۔ میرا خط پڑھ کر دیکھ لیں۔ آپ نے لکھا ہے : اُسے لتاڑدیا۔ ٭ جیسے خود اَب آپ کا حال ہے۔ اور خط میں یہی اَنداز اختیار فرمارکھا ہے۔ آپ نے لکھا ہے : دُنیا کی فضاء دیکھئے۔ ٭ جی بقدر ِ ضرورت و جواز دیکھتے رہتے ہیں آپ بھی ذرا کنویں سے نکل کر تدریجًا دریا دیکھیں اور سمندر دیکھیں۔ آپ نے لکھا ہے : علم چند کتابوں کو الخ۔ ٭ جی ہاں علم تو اُردو کے چند رسائل دیکھنے کا نام ہے، فربہ کتابوں سے تو جہالت آتی ہے۔ آپ نے لکھا ہے : '' علم کا مفہوم ذرا وسیع ہے۔'' ٭ وہ بھی اِرشاد فرمایا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ کسی نے خوب کہا ہے وانکس کہ نداند وبداند کہ بداند درجہلِ مرکب ابدالدہر بماند آپ نے لکھا ہے : سیدنا عمر کی مرویات ٥٣٧ الخ۔ ٭ آپ کو یوں لکھناچاہیے تھا کہ سب سے بڑے عالم حضرت ابوہریرہ پھر حضرت عائشہ، ابن ِ عمر اور انس پھر ابن ِ عباس پھر ابن ِ مسعود پھر حضرت علی پھر فاروقِ اعظم ہیں۔ کیونکہ علم کا مدار روایت پر جو ٹھہرا۔ آپ آئندہ فضیلت ِ علمی کے مدار کا اعلان ببانگ ِ دہل اِسی ترتیب سے فرمایا کریں۔ اور کبھی سُنا بھی نہ ہوگا کہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بھی روایت صحیح نہیں ملتی۔ اُن کے علم کے بارے میں بھی رائے عالی کا اظہار ضرور فرمایا کریں۔ واقعی علم اِسی کا نام ہے کہ کہیں سے بے سوچے سمجھے عبارت نقل کردی