قدیم اور جدید معاشی نظریات کا تعارف
مفتی ابو الخیر عارف محمود
رفیق شعبہ تصنیف وتالیف واستاذجامعہ فاروقیہ کراچی
جاگیردارانہ نظام کازوال اورعہدجدیدکاآغاز
تیرھویں اورچودھویں صدی میں یورپ کے حالات میں بڑے پیمانے پرتبدیلی آناشروع ہوئی،اس کااہم سبب اسلام اورعیسائیت کے درمیان لڑی جانے والی صلیبی جنگیں تھیں،جس کے نتیجہ میں مشرقی بحیرہ روم اور اس کے بڑے جزیرے مسلمانوں کے تسلط سے نکل کراہل یورپ کی دست رس میں آگئے،ان جنگوں کی بدولت جہازرانی اورتجربات ارتقا پذیر ہوئے، تاجروں اورساہوکاروں کاایک بڑاطبقہ وجودمیں آیا،جوان جنگوں میں شریک ہونے والے فوجی سرداروں اورجاگیرداروں کومالی امدادبطورقرض دیاکرتے تھے، تجارتی ترقی اورسرمایہ داروں کے اس نئے طبقے نے آہستہ آہستہ جاگیرداری نظام میں دراڑیں ڈال دیں۔
جاگیرداروں کی چیرہ دستیوں سے یورپی عوام اورحکم ران دونوں تنگ تھے، لہٰذاوہاں کے بادشاہوں نے عوامی تائیدکابھرپورفائدہ اٹھایا اور یورپ کے اکثرممالک خصوصاً انگلستان اورفرانس میں پائدار مرکزی حکومتیں قائم کیں اورتجارت وصنعت کی خودبراہ راست سرپرستی کرکے انہیں خوب ترقی دی۔1453ء میں قسطنطنیہ پرمسلمانوں کے قبضے سے آبنائے باسفورس اور اہل یورپ کی مشرقی ممالک سے تجارتی گزرگاہیں مسلمانوں کے زیرتصرف آگئیں،جس کی وجہ سے اہل یورپ کونئے بحری راستوں کوتلاش کرناپڑا،جب کہ دوسری طرف 1492ء میں عیسائی بادشاہ فرڈی ننڈ(Frdi Nand)اورملکہ ازابیلا (Isabella) کے گٹھ جوڑاورسازشوں کی وجہ سے اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سوسال سے قائم حکومت کاخاتمہ ہوا،وہاں ایک عیسائی ریاست کی داغ بیل ڈالی گئی۔
1598ء میں اہل مغرب نے واسکوڈی گاما(Vascode Gama)کی سرکردگی میں ہندوستان کی سرزمین پرقدم رکھا،جب کہ اندلس کے باشاہ اورملکہ کی سرپرستی میں کولمبس (Columbus) نے مسلمان جہاز رانوں کی مدد سے امریکہ کانیابراعظم دریافت کرلیاتھا۔امریکہ کی دریافت اورہندوستان کے بحری راستوں کی تلاش سے یورپ کی تجارت، صنعت اورزراعت میں نمایاں اورایسی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،جنہیں مجموعی طورسے ایک صنعتی انقلاب سے تعبیرکیاجاسکتاہے،اس صنعتی انقلاب سے اہل یورپ کے لیے صنعت اور تجارت کے لیے ایک وسیع میدان میسرہوا،نئی نئی صنعتیں وجودمیں آنے لگیں،بڑے بڑے شہرآباد ہوئے،غرض سولہویں صدی کے ان بدلے ہوئے حالات کے سامنے قرون وسطی کے جاگیرداری نظام نے دم توڑدیا۔
سترھویں سے اٹھارویں صدی تک مطلق العنان شاہی نظام اپنے پورے جوبن پررہا،ہرطرف خودمختارباد شاہت کاراج تھا،عوام کونہ توشخصی حقوق حاصل تھے اورنہ ہی سیاسی حقوق ،انسانی حوائج اورمصالح عامہ کے حق میں آواز اٹھاناشہنشاہیت کی شان کے خلاف تھا۔یورپ اورکلیسانے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے نتیجے میں ابھرنے والی علمی تحریک کی ابتدا میں شدیدمخالفت کی،اس تحریک کے علم برداروں کوانتہائی شدیداورسخت ترین سزائیں دیں،حتی کہ اس تحریک کے ایک معروف رہنما جان ہس(John Huss) اوراس کے شاگردجیروم(Jerome)کونذرآتش کیا گیا، کلیساکے ان لرزہ خیزمظالم اورنام نہادمذہبی پیشواؤں کی تنگ نظری اور نفس پرستی بالآخران کے لیے موت کاپھندابن کررہی۔
اصلاح مذہب، جدیدسائنسی تحقیقات اورفلسفے میں نئے افکار ونظریات کی نومولودتحریک چوں کہ حقیقی بیداری کانتیجہ تھی،اس لیے تشددسے دبنے کے بجائے مزیدآگے بڑھتی چلی گئی،آزادی فکراورجدت پسندی کے سیلاب نے مذہبی اقتدارکاخاتمہ کردیا،اس نئی تحریک کے نتیجے میں جیسے کلیساکے مذہبی اقتدارکاخاتمہ ہوا،قریب تھاکہ عیسائی مذہب ہی کی جڑیں اکھڑجاتیں اوراس کامکمل خاتمہ ہوجاتا،کہ عیسائیوں میں پروٹسٹنٹ (Protestant)کے نام سے ایک نیافرقہ وجودمیں آیا،جس نے مذہب کودنیاسے جدا قرار دیا، جدیدعلمی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی،حکم رانوں اوربڑے بڑے رئیسوں کی آغوش میں پناہ لے کران کے ہرجائزوناجائزکام کی تائید کی،نتیجہ یہ نکلا کہ روشن خیال اورآزادفکرطبقہ نے نہ صرف مذہب کا انکار کیا، بلکہ وہ سرے سے خداکے وجودہی کے منکربن بیٹھے،یوں اس طرح یورپ میں جنم لینے والے جدیدفلسفہ اورنظریات خالص مادیت،دہریت اورالحادکاشکارہوتے چلے گئے،نئے سیاسی انقلابات اورجدیدمعاشرے نے قدیم مذہب اور اخلاقی روایات کی ہر قیدسے آزادہو کر ایک سیاسی دنیا بنائی، جس میں قدیم جاہلیت کی رسموں، طور طریقوں اورمعاشی اصطلاحات کو جدیدیت اورآزادی فکرکے خوش نمالبادے میں دنیاکے سامنے پیش کیاگیا۔
سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)
گذشتہ صفحات میں جاگیردارانہ نظام کی حقیقت ،پس منظر،زوال کے اسباب اورعہدجدیدکاتذکرہ آچکاہے،اسی کے ذیل میں صنعتی انقلاب کے بارے میں کچھ سطورلکھی گئی تھیں،اب مزیداس بارے میں وضاحت پیش خدمت ہے۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں صنعتی انقلاب نے مزیدترقی کی، بھاپ اوربجلی کی ایجادواستعمال نے صنعت وحرفت ،زراعت ومواصلات کے شعبوں کو چار چاند لگادیے،زندگی کے ہر شعبے میں ہونے والی عجیب وغریب ایجادات سے اہل یورپ کی زندگی کانقشہ ہی بدل گیا،دستکاریوں کی جگہ ملوں،کارخانوں اورفیکٹریوں نے لے لی،گاؤں اوردیہات کے لوگ حصول روزگارکے لیے شہروں کارخ کرنے لگے،جس کے نتیجے میں بڑے بڑے شہر وجود میں آگئے،اسباب راحت وتعیش بآسانی دست یاب ہونے لگے اورنفسانی خواہشات کی تکمیل کاایک نہ رکنے والاسیلاب امڈآیا،مگرخالص مادی اورلادینی بنیاد پرحاصل کی جانے والی صنعتی ترقی اس عیارانہ نظام سرمایہ داری(Capitalism)کاپیش خیمہ ثابت ہوئی،جس کے بے رحم جال میں پھنسنے کے بعدعوام کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھاکہ موت اس جال کی گرفت میں زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، یاجاگیرداروں کی اس چکی میں،جس کے درمیان وہ کئی سال پستے رہے تھے۔
صنعتی انقلاب اوراس کی پیداکردہ خوش حالی پرسود،سٹے اورقمار وغیرہ کے ذریعہ چندسرمایہ داراورمہاجن سانپ بن کربیٹھ گئے،انہوں نے صنعت وتجارت کاجو نظام قائم کیا اسی نظام کو نظام سرمایہ داری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ زیرنظرتحریر میں گفتگونظام سرمایہ داری کے اصل فلسفے سے ہوررہی ہے،اس کی رائج الوقت صورتوں سے نہیں،بعدکے حالات سے مجبور ہوکرمختلف ممالک نے اس نظام میں کچھ ترمیم شروع کی، جس کاسلسلہ آج بھی جاری ہے،صنعت وتجارت میں حکومت کادخل بڑھ رہاہے اورفردکی آزادی گھٹ رہی ہے،تاہم یہ ترمیمیں ایسی جزوی اورغیرمؤثرہیں کہ ان سے معاشرے کے مجموعی حالات پرکوئی گہرااثرمرتب نہیں ہوتااوروہ الجھنیں ختم نہیں ہوتیں جن سے اس نظام کاخمیرتیارہواہے۔
معیشت کے بنیادی ستون کہلانے والے چارمسئلوں کا جوحل اس نظام نے پیش کیاہے،اس پرگفتگوکرنے سے پہلے اس کی حقیقت پرکلام کرنامناسب معلوم ہوتاہے، تاکہ اس نظام کی بنیادوں،اہم اصول اورنتائج سے بھی واقفیت حاصل ہوجائے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت
اس نظام کابنیادی اصول”بے قیدمشقت“ہے،جس کامطلب یہ ہے کہ صنعت وتجارت اورکسب معاش کے تمام طریقے اورمعاشیات کا پورا نظام ہرقسم کے سرکاری قانون اورمذہبی پابندیوں سے کامل طورپرآزادہونا چاہیے، حکومت اورمذہب کویہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ فردکے معاشی اوراقتصادی نظام میں کسی قسم کی مداخلت کرے۔فردکی حدسے بڑھی ہوئی یہ آزادی اس مفروضے پرقائم ہے کہ ہرشخص اپنے اچھے برے کی سمجھ خودرکھتاہے،اس کویہ بتانے کی نہ حکومت کوضرورت ہے کہ وہ اپنامعاشی کاروبارکیسے چلائے اورنہ کسی معلم اخلاق کی ضرورت ہے، جوحرص وطمع سے بازرہنے اورایثاروسخاوت جیسی صفات کی تلقین کرے۔رہامذہب تووہ ایک ڈھونگ ہے،جس کی پیروی آزادی فکرکے اس دورمیں ایک مہذب انسان کوزیب نہیں دیتی۔
انفرادی ملکیت خواہ وسائل پیداوارکی شکل میں ہو،یاعام اشیا ، وہ کلی طورپرآزادہوتی ہیں،خریدوفروخت کی جوبھی صورت فریقین کی باہمی رضامندی سے طے پائے اسے روکنے کانہ مذہب کواختیارہے،نہ کسی حکومت کو،افرادہرطرح سے آزادہوتے ہیں کہ جس طرح چاہیں نفع کمائیں،اس مقصدکے لیے پیداوارکوجس قدرچاہیں گھٹائیں یا بڑھائیں،پیداوارجس قسم کی چاہیں تیارکریں،کسی قسم کی کوئی قانونی یامذہبی تحدیدعائدنہیں کی جاسکتی۔
اس نظام میں جس طرح حصول ”انفرادی ملکیت“کے تمام ذرائع میں فردکوکھلی چھٹی دی گئی ہے ،اسی طرح خرچ وصرف کے معاملے میں بھی اس سے کوئی بازپرس نہیں،مادی منافع کے علاوہ کسی دوسری مدمیں دولت کاخرچ کرنا ناپیدہوتاہے،نہ ہی کوئی مذہب یاقانون فردسے اس کامطالبہ کرسکتاہے۔اس پورے نظام میں ذاتی نفع کوکل معاشی نظام کی روح قراردیاگیاہے،ذاتی نفع کی خاطر ہروہ طریقہ کاراختیارکیاجاسکتاہے،جواس کے لیے مفیدہو،اگرچہ اس میں ملک وقوم کانقصان ہورہاہو،اس حوالے سے وہ کسی کوجواب دہ نہیں۔
بنیادی معاشی مسائل
یہ بات تومعاشی مفکرین کے نزدیک مسلم ہے کہ انسانی ضروریات اورخواہشات انسانی وسائل کے مقابلے میں زیادہ ہیں،دست یاب وسائل کواس طرح استعمال کرناکہ زیادہ سے زیادہ ضرورتیں پوری ہوجائیں،اسے معاشیات،اقتصاداورانگریزی زبان میں اکنامکس (Economics) کہتے ہیں،اس نقطہ نظرسے معیشت کے چاربنیادی مسائل ہیں،جن کو حل کیے بغیرکسی بھی معیشت کی گاڑی نہیں چل سکتی،وہ مسائل درج ذیل ہیں:
ترجیحات کاتعین(Determination of Priorties)
فرداورملک کے وسائل محدودہوتے ہیں،ان کے ذریعے تمام انسانی خواہشات کی بیک وقت تکمیل ناممکن ہے، لہٰذایہ متعین کرناکہ ان وسائل کے ذریعے کن ضروریات کو پورا کیاجائے؟اورکس چیز کی پیداوار کو ترجیح دی جائے،کون سی ضرورت اورخواہش کومقدم کیاجائے اورکس کومؤخرکیاجائے؟اس مسئلہ کانام ”ترجیحات کاتعین“ہے۔
وسائل کی تخصیص(Allocation of Resources)
وسائل پیداوار،سرمایہ،محنت اورزمین کوکن کاموں میں اورکس مقدار سے لگایاجائے؟زمین پرکیااگایاجائے؟کارخانوں سے کس طرح کی اشیاء اور مصنوعات حاصل کی جائیں، اس بات کا فیصلہ ”وسائل کی تخصیص“ کہلاتاہے۔
آمدنی کی تقسیم(Distribution of Income)
مذکورہ بالاوسائل کواستعمال میں لانے کے بعدان سے حاصل شدہ پیداوار،یاآمدنی کوکس طرح اورکن بنیادوں پرتقسیم کیاجائے؟یہ”آمدنی کی تقسیم“کہلاتی ہے۔
ترقی(Development)
معاشی حاصلات کوترقی دیناکہ ان سے حاصل شدہ پیداوارکمیت وکیفیت کے لحاظ سے اچھی ہو، اسباب معیشت میں اضافہ ہو اور نئی نئی ایجادات وجود میں لائی جائیں، تاکہ لوگوں کو ذرائع آمدن بسہولت مہیا ہوں، اورمعاشرہ ترقی پذیرہوسکے، اس بات کومعیشت کی اصطلاح میں ”ترقی“ کے نام سے جاناجاتاہے۔
بنیادی معاشی مسائل کاحل اورسرمایہ دارانہ نظام
ڈاکٹرنورمحمدغفاری صاحب اپنی کتاب ”اسلام کامعاشی نظام“ میں بعنوان”سرمایہ دارانہ نظام کاحل“لکھتے ہیں:”سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کے معاشی مسئلہ کے حل کی بنیاددوباتوں پررکھی ہے:فردکواس کے معاشی مسئلہ کے حل کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے، یعنی اس کی معاشی سرگرمیوں پرکسی قسم کی اخلاقی یاقانونی پابندی نہ ہو،وہ جس طریقہ یاذریعہ سے چاہے،کمائے اوراس کمائی ہوئی دولت کوجس طرح چاہے خرچ کرے،وہ جوذریعہ معاش اپنے لیے چاہے پسندکرے،اسے کوئی روکنے ٹوکنے والانہ ہو۔
ریاست فردکی معاشی سرگرمیوں میں دخل اندازی نہیں کرے گی،بلکہ ان کی دیکھ بھال کرے گی،انہیں قانونی تحفظ دے گی،جس کے عوض فردریاست کوچندٹیکس بطورمعاوضہ حفاظت اورسہولت اداکرے گا۔
سرمایہ دارانہ نظام نے تین اصولوں کی روشنی میں معیشت کے بنیادی مسائل کوحل کرنے کی کوشش کی:
ذاتی ملکیت(Private Property)
اس نظام کاپہلااصول اورفلسفہ یہ ہے کہ انسان ہرقسم کی اشیا چاہے ان کاتعلق استعمال سے ہو،یاپیداوارسے ہو،انہیں وہ اپنی ذاتی ملکیت میں رکھ سکتاہے۔
ذاتی منافع کامحرک(Profit Motive)
پیداوارکے عمل میں ذاتی منافع کے حصول کوبنیادی حیثیت حاصل ہے اوریہی چیزاساسی محرک قرارپایاہے۔
حکومت کی عدم مداخلت (Laissez faire)
”کرنے دو“کی پالیسی کے تحت تیسرااصول یہ اپنایاگیاہے کہ تجارتی معاملات میں حکومت تاجرکوتنگ نہیں کرے،اسے کھلی چھوٹ حاصل ہوگی کہ وہ جس طرح چاہے تجارت کرے، حکومت اس کی معاشی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی، اگرچہ بعدمیں اس پالیسی پرمکمل عمل درآمد نہیں کیا جاسکا، سرمایہ دارانہ ممالک میں حکومت کی مداخلت کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہتی ہے،جواس کے اصول اورفلسفہ کے خلاف ہے۔
معاشی مسائل حل کرنے کاطریقہ کار
معیشت کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے سرمایہ دارانہ نظام نے ذاتی منافع کے محرک کاسہارالیااس نظام کاکہنایہ ہے کہ ان چاروں مسائل کوحل کرنے کاایک ہی طریقہ ہے کہ ہر انسان کوتجارتی اورصنعتی سرگرمیوں کے لیے بالکل آزادچھوڑدیاجائے،اوراسے اختیاردیاجائے کہ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے جوطریقہ بھی وہ مناسب سمجھے اسے اختیارکرے،تومذکورہ مسائل خودبخودہی حل ہوتے چلے جائیں گے،کیوں کہ ہرشخص زیادہ نفع کی لالچ میں وہی کام کرے گاجس کی معاشرے کوضرورت ہے؛کیوں کہ دنیامیں قانون رسدوطلب(Supply and Demand) کارفرما ہے، لہٰذااگرتاجرکوزیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے آزادچھوڑدیاجائے تووہ اپنے نفع کی خاطروہ چیزمارکیٹ میں لائے گا جس کی ضرورت یاطلب زیادہ ہوگی،اسی طرح معاشرے میں انہی اشیا کی پیداواربڑھے گی جن کی معاشرے کوضرورت ہے،اوراتنی ہی مقدارمیں ان کی پیداوارہوگی جتنی اس ضرورت کوپوراکرنے کے لیے واقعتاًدرکارہے،اس کوترجیحات کاتعین کہتے ہیں۔
وسائل کی تخصیص کاتعلق ترجیحات کے تعین سے ہے، لہٰذا رسد وطلب کے قوانین جس طرح ترجیحات کاتعین کرتے ہیں،اسی طرح وسائل کی تخصیص کاعمل بھی سرانجام دیتے ہیں،نتیجتاً ہرمارکیٹ کی طلب کو پورا کیاجاسکے اوراسے زیادہ منافع حاصل ہوجائے،جب کہ آمدنی کی تقسیم کے بارے میں سرمایہ دارانہ نظام کا کہناہے کہ عوامل پیدائش: زمین، محنت، سرمایہ اورآجریاتنظیم کے درمیان آمدنی کی تقسیم کاعمل انجام پائے گا، بایں طور کہ زمین والے کوکرایہ،محنت کرنے والے کواجرت ،سرمایہ فراہم کرنے والے کوسود اورآجرجواس عمل پیدائش کااصل محرک ہے اسے منافع دیا جائے اورعوامل پیدائش کے معاوضے کاتعین بھی طلب ورسدکی بنیادپرہوگا کہ جس کی طلب جس قدرزیادہ ہوگی اس کامعاوضہ بھی اتناہی زیادہ ہوگا۔
باقی رہی بات ترقی کی،توطلب ورسدکے قوانین کی بنیاد پرتاجر جب زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کاطلب گارہوگاتولازماًوہ نئی سے نئی چیزیں، بہترسے بہتراندازمیں مارکیٹ میں لائے گا،جس کے نتیجے میں ترقی کاعمل بھی وجودمیں آجائے گااورمعیشت ترقی پذیرہوگی۔
سرمایہ داریت اور جمہوریت کا اشتراک
یورپ میں معاشی تبدیلیوں کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی ایک ہمہ گیرانقلاب انگڑائیاں لے رہاتھا،آزادفکرطبقہ شخصی حکومتوں کوختم کرکے جمہوری حکومتیں قائم کرناچاہتاتھا،دوسری طرف سرمایہ دارلوگ بھی حکومت کی ان قانونی پابندیوں سے بیزارتھے،جوان کی نفع اندوزی کوپابندکررہی تھیں،اسی کانتیجہ تھاکہ انیسویں صدی میں یورپ کے اکثرممالک جمہوری حکومتوں کے زیراثرآگئے،معاشی وسائل اورملکی دولت پرقابض ہونے کی وجہ سے نئی جمہوری حکومتیں سرمایہ داروں کے قبضے میں آگئیں،یوں یورپ کی کل آبادی دوحصوں میں بٹ گئی،ایک طرف گنے چنے سرمایہ دار،جوپوری دولت اورتمام وسائل پیداوارکے مالک تھے اورعنان حکومت بھی ان کی ذاتی اغراض کے تابع ہوچکی تھی،دوسری طرف وہ بے یارومددگارمفلس لوگ تھے جوانتہائی شدیدمحنت ومشقت کے باوجودبھی زندگی کی بنیادی ضروریات کوترس رہے تھے، مزدوروں اورمحنت کشوں کاطبقہ اپنے معاشی حالات سے تنگ آگیا اورایک عرصہ تک سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پسنے کے بعد انہوں نے اپنے حقوق منوانے کے لیے مزدورانجمنیں قائم کرناشروع کردیں،یورپ کے بعض مفکرین بھی اس تحریک کی حمایت کرنے لگے،یوں یہی تحریک رفتہ رفتہ اشتراکیت کی بھیانک صورت میں ڈھلتی چلی گئی،سوشل ازم کے علم برداروں نے مزدوروں اورمحنت کشوں کے جذبات کوہڑتالوں، توڑپھوڑ،قانون شکنی اورتشددمیں استعمال کرکے متعددممالک میں انقلاب برپاکرکے سوشلسٹ نظام نافذکردیا۔(جاری)