Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق شعبان المعظم 1434ھ

Œہ رسالہ

10 - 17
دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے لیے چند ضروری ہدایات
مولانا عبد اللہ المدنی البرنی

٭……علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے ۔جس کا ذریعہ تعلق مع اللہ کو مضبوط کرنا اور مخلوق کے ساتھ اخلاق ومعاملات کا درست ہونا ہے۔

٭…… مصلح بننے کی نیت سے علم حاصل نہ کرو، بلکہ صالح بننے کی نیت رکھو، تاکہ حب جاہ سے بچے رہو۔سب سے پہلے اپنے ظاہر وباطن کی اصلاح اور تزکیہ نفس کی فکر کرو ۔جب طالب علم اور عالم دین صالح بن جائے گا تو اللہ تعالی اس کو مصلح بنادے گا۔

٭……نیت کی درستگی کے لیے اگر روزانہ مقصد ِحصول علم کو اساتذہ کرام صبح کے وقت دہرادیا کریں تو بہت ہی نفع ہوگا، انشاء اللہ تعالی۔

٭…… فجر کی نماز کے بعد سب اساتذہ کرام طلبہ کے ساتھ صبح کے مسنون اذکار پڑھیں اور سورہ یاسین شریف پڑھیں ۔

٭…… اس کے بعد نماز اشراق (صلاة الضحی) پڑھ کر ناشتہ کریں۔

٭…… ہرموقع کی مسنون دعا اور آداب طلبہ کو خوب یاد کرادیئے جائیں اور وقتا فوقتا اس کا امتحان بھی ہوتا رہے۔

٭……صف اول اور تکبیر اولی کے فضائل طلبہ کو خوب بتائے جائیں اور طلبہ کو یہ عادت ڈلوائی جائے کہ وہ نماز باجماعت میں مسبوق نہ ہوں۔

٭…… ابتدا ہی سے طلبہ کو اصلاحی تعلق کی اہمیت بتائی جائے اور جس اللہ والے سے عقیدت ومناسبت ہو بیعت کرادیا جائے اور صرف رسمی بیعت نہ ہو، بلکہ اپنے احوال سے مصلح کو مطلع کرتے رہنے اور حسبِ ارشادِ مصلح علااج کرتے رہنے کی تاکید کی جائے۔

٭…… کوئی استاذ کسی طالب علم کے ساتھ ایک لمحہ کے لیے بھی تنہائی میں نہ بیٹھے اوراساتذہ کرام طلبہ سے بدنی خدمت نہ لیں۔

٭…… بے ریش طلبہ کی نگرانی کے ساتھ ان سے احتیاط بھی کی جائے اور باریش طلبہ کو ان سے جدا رکھا جائے۔

٭……شام کے مسنون اذکار بھی طلبہ کو خوب یاد کرادیے جائیں۔ اور ہر درجہ کا نگران اپنی نگرانی میں وہ اذکار پڑھوادیا کرے ۔

٭……روزانہ بعد نماز عصر مسجد میں اجتماعی تعلیم ہو اور کوئی نہ کوئی طالب علم تیاری کرکے پہلے اپنے نگران کو تقریر سنادیا کرے، پھر مسجد میں سب حاضرین کے سامنے بیان کردے ۔ تقریر کا دورانیہ دس منٹ سے زیادہ نہ ہو۔ عربی زبان میں تقریر کرنے کی عادت ڈالیں اور مشق کریں۔اس تقریر میں کھانے پینے، سونے جاگنے اور سفر وحضر کے آداب ومسنون دعائیں اور تعلق مع اللہ ‘ عشق ِالہی اوراصلاح نفس سے متعلق مضامین، اکابرکی کتابوں سے بالعموم اور حضرت حکیم الامت کی تصانیف سے بالخصوص منتخب کیے جائیں۔

٭……جس طالب علم کے اندر جو صلاحیت واستعداد ہو اس کو ترقی دینے اور دین کی نشر واشاعت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جائے۔مثلا کوئی طالب علم تقریر میں مہارت رکھتاہے۔ کوئی تصنیف وتالیف کے ذریعہ دین کی خدمت زیادہ کر سکتا ہے ۔کسی کے اندر فقہی استعداد زیادہ ہے، کوئی علم حدیث سے زیادہ لگاؤ رکھتاہے۔ہرعلمی ودینی صلاحیت واستعداد کو ترقی دی جائے۔

٭…… ہرطالب علم اس بات کو یاد رکھے کہ معاشرہ علماء وطلبہ کو دینی مقتدا جانتے ہوئے بلند اخلاق اور عمدہ صفات ان کے اندر دیکھنا چاہتاہے۔

٭…… حفاظت کے لیے روزانہ21 مرتبہ سورہ قریش ،اول وآخر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھیں اور ہرجمعہ کو ختم خواجگان کا اہتمام کرلیا جائے۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم‘ وصلی اللہ علی سیدنا ونبینا وحبیبنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین․
Flag Counter