کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
تنخواہ مجہول ہونے کیصورت میں اجارہ کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ایک ڈاکٹر کے ساتھ ملازمت کر رہا ہے، جس کو عوامی اصطلاح میں اسسٹنٹ کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر زید کو کوئی مستقل تنخواہ نہیں دیتا، بلکہ ٹیسٹ اور ایکسرے پر جو ڈاکٹر کی کمیشن ہوتی ہے و ہی زید کی تنخواہ ہوتی ہے،اب زید اس تنخواہ یعنی اس کمیشن کے پیسے سے کلینک کا کرایہ او ربجلی کا بل بھی ادا کرتا ہے۔
اب زید کے لیے ایسی تنخواہ لینا جائز ہے جو کہ بذریعہ مجہول کمیشن حاصل ہو رہی ہے ؟او راگر جائز نہیں ہے تو برائے مہربانی جائز صورت بتائیں۔
برائے مہربانی قرآن واحادیث کی روشنی میں جواب دیں۔
جواب… صورتِ مسئولہ میں جس معاملہ کا ذکر ہے وہ اجارہ کا معاملہ ہے اور اس معاملہ کے درست وصحیح ہونے کے لیے منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اجرت (تنخواہ) معلوم ہو، ورنہ عقدِ اجارہ فاسد ہو جاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں چوں کہ تنخواہ مجہول ہے، اس لیے یہ اجارہ فاسد ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ ملازم (زید) اجرتِ مثلی(جو عام طور پر اس جیسے ملازم کی اجرت ہوتی ہے) کا مستحق ہے۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ ٹیسٹ او رایکسرے کا کمیشن ڈاکٹر خود وصول کرے اور کلینک کا کرایہ او ربجلی کا بل بھی ڈاکٹر اداکرے، البتہ ملازم کے ذمہ جو کام ہوں گے، ان کی تعیین کی جائے اور اس کے لیے معلوم تنخواہ مقرر کی جائے اور کسی قسم کا کرایہ وبل وغیرہ اس کے ذمہ نہ ڈالا جائے۔
کمیشن پر چندہ کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مذکورہ مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک مدرسہ کے مہتمم سے معاہدہ کیا کہ آپ کے مدرسے کے لیے چندہ کروں گا، اگر تیس ہزار کیاتو پندرہ ہزار میں لوں گا اور مہتمم نے اس کے ساتھ اسی معاہدے پر ستخط کیا، کیا از روئے شریعت اس طرح مدرسہ کا پیسہ چندہ والے کو دیاجا سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ جدید فقہی مسائل جلد نمبر196/4،ط:زمزم) میں اس کو عرف کی بنیاد پر جائز قرار دیا ہے، اسی طرح فتاوی دارالعلوم زکریا میں بھی( 648/5 )عرف کی بنیاد پر جواز کو ترجیح دی ہے، بقیہ اکثر فتاوی میں قفیز الطحان کی بنیاد پر ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا آپ حضرات آخری فیصلہ صادر فرما کر مشکور وممنون فرمائیں۔
جواب… واضح رہے کہ یہ معاملہ اجارہ کا ہے اور اجارہ میں اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے ، جب کہ یہاں اجرت مجہول ہے اور اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے اجارہ فاسد ہو جاتا ہے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ اس میں اجیر کے عمل سے حاصل ہونے والی چیز کو اجرت بنایا ہے، حالانکہ اجیر کے عمل سے حاصل ہونے والی چیز کو اجرت بنانا درست نہیں۔
لہٰذا ان دو وجوہات کی بنا پر یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں۔
مکان نام کرانے سے ہبہ تام ہوجاتا ہے یا نہیں؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہٰذا کے بارے میں کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو اس کی خدمات سے خوش ہو کر اپنا مملوکہ رہائشی مکان ہدیة دے دے، بایں صورت کہ زبان سے کہہ دے کہ میں نے یہ مکان تمہیں دے دیا اور رجسٹری بھی بیٹے کے نام کروا دی، لیکن عملی طور پر باپ بیٹا دونوں اسی مکان میں رہائش پذیر رہے، بالکلیہ طور پر مکان فارغ کرکے بیٹے کے تصرف میں نہیں دیا گیا۔
(الف) تو اس صورت میں محض رجسٹری بیٹے کے نام کروادینے سے بیٹا اس مکان کا مالک بن چکا یا نہیں؟ نیز! باپ کے مرنے کے بعد اس مکان میں بیٹے کے ساتھ اس کے دیگر ورثہ کا بھی شرعی حصہ ہو گا یا نہیں؟
(ب) بیٹے کو بینک سے قرض لینے کی ضرورت پیش آئی، اس کے لیے چوں کہ قرضہ لینے والے کا اپنا مکان ہونا ضروری ہوتاہے اور اس مکان کے کاغذات بینک میں گروی رکھنے پڑتے ہیں، اس لیے اس شخص نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر یہ پلاننگ کی کہ باپ نے اپنے مکان کی رجسٹری اپنے بیٹے کے نام کروا دی، ( لیکن عملی طور پر باپ بیٹا دونوں اسی مکان میں رہائش پذیر رہے،بالکلیہ طور پر مکان فارغ کرکے بیٹے کے تصرف میں نہیں دیا گیا) پھر بیٹے نے اس مکان کے کاغذات بینک میں گروی رکھ کر قرضہ لے لیا، اس صورت میں بیٹا اس مکان کا مالک شمار ہو گا یا نہیں؟
2..اب باپ کے فوت ہو جانے کے بعد بیٹا قرضہ ادا نہ کر سکا، حتی کہ عدالتی کارروائی کے بعد بینک اس مکان کامالک بن گیا، اس صورت میں کیا بیٹے کے ذمے دیگر ورثہ کو کچھ دینا لازم ہے یا نہیں؟ بینک سے قرضہ بیٹے نے اپنے لیے لیا تھا، باپ کے لیے نہیں۔
3..موجودہ دور میں جب کہ گھروں کے اندر سامان بکثرت ہوتا ہے، واہب کے لیے بوقت ہبہ اپنا تمام سامان نکالنا ممکن نہیں ہوتا،محض رجسٹری کروالی جاتی ہے اور واہب وموہوب اکٹھے رہائش پذیر رہتے ہیں۔ کیا اس موجودہ دور میں رجسٹری کروالینا جو کہ ایک مضبوط ترین قانونی کارروائی ہے، قبضہ کے قائم مقام نہیں بنے گا؟
جواب… واضح رہے کہ ہبہ(ہدیہ) کے تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ چیزمکمل طور پر اس شخص کے حوالے کی جائے جس کوہدیہ کی گئی ہے اور ہدیہ کرنے والے کا اس چیز سے کوئی تعلق ( تصرف یا منفعت) باقی نہ رہے، صورت مسئولہ میں چوں کہ ہدیہ کرنے والا بذات خود ہدیہ شدہ گھر میں تادم مرگ رہائش پذیر تھا، اس لیے محض نام کرانے سے یہ ہدیہ شرعا تام نہیں ہو ا ہے، لہٰذا باپ کے مرنے کے بعد متعلقہ مکان سب ورثاء کے درمیان مشترکہ ہے اور جس بیٹے کے نام محض رجسٹری ہوئی تھی وہ مالک نہیں بنا ہے۔
(ب) صرف کاغذات نام ہونے اور گروی رکھوانے سے متعلقہ مکان اس بیٹے کی ملک شمار نہیں ہو گا۔
2..صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہے اور بیٹے نے واقعتا بینک سے قرضہ اپنے لیے لیاتھا، تو اس صورت میں بینک کا قرضہ ادا کرنا اس کے ذمے خود واجب ہے اور مکان تمام ورثاء کا مشترکہ حق ہے، کیوں کہ ہبہ کی صورت میں ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ مکان باپ کے فوت ہونے کے بعد شرعاً تمام ورثاء کا حق بن گیا اور رہن کی صورت میں چوں کہ بیٹے نے کاغذات اپنے قرضے کے عوض رکھوائے تھے اور پھر بینک نے مکان پر قبضہ کیا، تو چوں کہ متعلقہ بیٹے نے اپنے قرضے کا بدلہ دوسرے کے مال مرھون سے چکایا ہے؛ اس لیے اس پر مکان کی قیمت کا ضمان آئے گا۔
3..اس سوال کا جواب سوال نمبر (الف) کے جواب کے ضمن میں موجود ہے، باقی متبادل صورت یہ ممکن ہے کہ والد صاحب اپنا سازو سامان بیٹے کوعاریت کے طور پر دے دیں، پھر مکان ہبہ کر دیں یا ساز وسامان سمیت مکان ہبہ کر دیں، بشرطیکہ واہب کی اہلیہ ہبہ کے وقت متعلقہ مکان میں موجود نہ ہو۔
امتحان پاس کرنے کے لیے رشوت میں حرام رقم دینا کیسا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا بیٹا سول ہسپتال میں ڈپلومہ ڈسپنسر کر رہا ہے، اب اس کے پیپرز ہیں، امتحان میں پاس کرنے کے لیے قابلیت کے بجائے رشوت مانگی جارہی ہے، پہلے رشوت کے چکر میں میرے رشوت نہ دینے پر بچے کا سال ضائع ہو چکا ہے، آپ سے پوچھنا ہے کہ میرے سیونگ اکاؤنٹ میں پیسوں پر جو منافع آتا ہے وہ سارا میں ضرورت مندوں کو دے دیتی ہوں تاکہ کسی کی ضرورت پوری ہو سکے، میں خود پر او راپنے بچوں پر خرچ کرنے کو حرام سمجھتی ہوں، اب میرا بیٹاضد کر رہا ہے کہ رشوت کے بغیر یہاں سب ناممکن ہے، آپ مجھے ان پیسوں میں سے دے دیں، ناجائز کام کے لیے ناجائز پیسہ، آپ میری راہ نمائی فرمائیں کیوں کہ میں رقم نہیں دوں گی تو میرا کام ناممکن ہو گا۔ شکریہ
جواب… واضح رہے کہ حرام مال کا رشوت میں بھی دینا جائز نہیں، بلکہ اصل مالک تک پہنچانا ممکن ہو، تو اس تک پہنچانا ضروری ہے، ورنہ ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق کو دیا جائے۔
باقی رہا کہ امتحان پاس کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے، یا نہیں؟ تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ لڑکا اگر واقعی قابل ہے اور اس قدر صلاحیت رکھتا ہے کہ بغیر رشوت دیے امتحان پاس کرناممکن ہوتا تو پا س کر لیتا، لیکن ادارے کا نظام ایسا ہے کہ رشوت دیے بغیر امتحان پاس کرنا ممکن نہیں، تو اگر حلال مال سے رشوت دی جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن رشوت لینے والا بہرحال گنہگار ہو گا۔
تنبیہ… سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا سودی لین دین ہونے کی بنا پر جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب کیا جائے ۔
فون پر نکاح کا حکم
سوال… حضرت یہاں پر ایک مسئلہ پیش آیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک لڑکا او رلڑکی آپس میں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے، لڑکا سعودی عرب میں مقیم ہے اور لڑکی دوسرے ملک میں ہے ، لڑکی کا والد راضی ہے لیکن والدہ راضی نہیں ہے، لہٰذا لڑکی نے چھپ کے فون پر نکاح کر لیا ہے اور نکاح کرتے وقت لڑکے کے ساتھ دوگواہ بھی موجود تھے،ا لبتہ نکاح پڑھانے والا بھی عالم دین ہے، لہٰذا علمائے کرام اور مفتیان حضرات کیا کہتے ہیں شریعت میں اس مسئلہ کے بارے میں ،اس کے لیے جامعہ فاروقیہ کے دارالافتاء سے تصدیق شدہ ایک فتوی چاہیے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔
جواب… نکاح کے منعقد ہونے کے لیے مجلس عقد میں گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرنا شرط ہے، جس کے لیے ضروری تھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں اس مجلس میں موجودہوتے یا دونوں یا ان میں سے کسی ایک کی طرف سے وکیل بالنکاح موجود ہوتا، جب کہ صورتِ مسئولہ میں اس طرح نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں مجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوا۔
قضاء نمازیں ذمے میں باقی ہوں تو نوافل کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
اگر کسی شخص کے ذمے قضا نمازیں ہوں تو کیا یہ شخص ( تہجد، اشراق، چاشت، اوابین اور نماز پنجگانہ کے نوافل) ادا نہیں کر سکتا، جب کہ یہ اول قضا نمازیں بھی ادا کرتا ہو؟
جواب… افضل وبہتر یہی ہے کہ جب تک ذمے میں قضاء نمازیں باقی ہوں تو تہجد ونوافل چھوڑ کر قضاء نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرے؛ اس لیے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ، کسی وقت بھی آسکتی ہے اور مرنے کے بعد جو فرض نمازیں ذمے میں قضاء باقی ہیں ان کے بارے میں تو پوچھ ہوگی، نوافل کے بارے میں کوئی پوچھ نہ ہوگی، البتہ اگر نوافل بھی قضاء کے ساتھ ادا کرے تو جائز ہے۔
کسی دوسرے سے استخارہ کرانا
سوال…اگر کوئی شخص کسی مقصد کے لیے استخارہ کرنا چاہتا ہو تو کیا یہ استخارہ کسی اور سے کرواسکتا ہے یاکہ اسے استخارہ بذاتِ خود کرنا ہو گا؟ دونوں میں سے کون سی صورت بہتر ہے؟
جواب…استخارہ کسی کام میں الله تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں، جو شخص اپنے کسی اہم کام میں خیر کا طلب گار ہواسے خود الله تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے۔ نیز !احادیث میں استخارہ خود کرنے کا حکم ہے، لہٰذا آدمی کو اپنے اُمور میں خود استخارہ کرنا چاہیے، استخارہ کے بعد جس طرف قلبی رحجان زیادہ ہو اس پر عمل کر لے، اگر ایک دفعہ کرنے سے کچھ سمجھ نہ آئے، تو کئی دفعہ کرے۔
پنش کی رقم پرزکوٰة کا حکم
سوال…اگر کسی ریٹائرڈ شخص نے اپنی ماہانہ پنشن وصول کرنے کے لیے بنک اکاؤنٹ کھولا ہو تو کیا اسے بھی زکوٰة ادا کرنی ہو گی یا نہیں؟
مذکورہ مسئلے کا جواب دے کر مشکور فرما دیں۔
جواب… پنشن کی مد میں ملنے والی رقم اگر بقدر نصاب ہو یا پہلے سے موجود رقم کے ساتھ مل کر نصاب کے بقدر ہو جائے، تو اس رقم پر سال پورا ہونے کے بعد زکوٰة کی ادائیگی واجب ہوگی، البتہ سال کے دوران جو مزید رقم حاصل ہو، چاہے پنشن کی صورت میں … یا کسی اور طریقے سے ہو، اس کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا۔
کمزوری اور بیماری کی وجہ سے نماز کو چھوڑنےیا وقت سے مؤخر کرنے کا حکم کیا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ… ہمارا دوست ہے، وہ بیمار ہے اور اس کی بیماری یہ ہے کہ اس کے پٹھے کمزور ہیں جسم میں طاقت نہیں، اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو خود اٹھ نہیں سکتا دوسرا اس کو اٹھاتا ہے اور چلنے کا انداز بھی کافی ڈھیلا ڈھیلا ہے، اس کا کہنا ہے کہ سردی کے موسم میں رات لمبی ہوتی ہے تو میری نیند پوری ہو جاتی ہے او رجسم کو سکون مل جاتا ہے تو میں وقت پر اٹھ کر نماز پڑھتا ہوں، جب کہ گرمی کے موسم میں راتیں چھوٹی ہوتی ہیں تو نیند پوری نہیں ہوتی، جسم کو سکون حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا میں طلوع آفتاب کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد اٹھ کر نماز پڑھتا ہوں، لیکن نماز قضا ء ہوجاتی ہے، اب اگر میں اپنے اوپر زبردستی کرکے وقت پر اٹھ جاؤں تو وضوء کرتے ہوئے کافی تکلیف ہوتی ہے اور بہت مشکل ہوتا ہے اور نماز پڑھنے کے بعددن کے 10،11بجے تک بخار کی کیفیت ہوتی ہے، سر اور جسم میں درد ہوتا ہے او رایک صورت یہ ہے کہ اگر میں وقت مقررہ پر اٹھ کر تیمم کے ساتھ فوراً نمازپڑھ کر دوبارہ جلدی سو جاؤں تو تکلیف پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، لیکن کیا اس صورت میں میری نماز قابل قبول ہو گی؟ یا میں کیا صورت اختیار کروں؟
جواب… نماز اسلام کا ایک اہم رکن ہے، اس کو چھوڑنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں اور اس کو قضاء کرنا سخت عذاب کا باعث اور سبب بنتا ہے۔
اور تیمم کرنا بھی بوقت مجبوری جائز ہے، لہٰذا آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ آپ اپنے پاس پانی اور بڑا طشت رکھیں جب بھی بیدار ہوں ، تو جلدی سے وضو بنا کر نماز پڑھ لیا کریں۔ ان شاء الله آپ کی نماز بھی قابل قبول ہو جائے گی اور زیادہ تکلیف بھی نہ ہو گی، دعا ہے کہ الله تعالیٰ آپ کو شفاء کاملہ سے نوازے۔ آمین!