Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق صفر المظفر 1437ھ

ہ رسالہ

14 - 17
نئے زمانے کے چیلنجز اور مسلمانوں کی ذمے داریاں

مولانا اسرار الحق قاسمی
	
دنیا میں ہر سطح پر تبدیلی کی رفتار وقت کے ساتھ تیز ہوتی جارہی ہے، دس سال پہلے کچھ اور تھا تو آج کچھ اور نظر آرہا ہے، تیس سال کی عمر کے جوان اب سے بیس سال پہلے کچھ الگ ڈھنگ سے سوچتے تھے اور آج کے تیس سال کے لوگ کچھ الگ انداز سے سوچتے ہیں، سوچنے کے انداز میں فرق چالیس سال سے زائد عمر کے لوگوں میں بھی آیا ہے، یعنی اب سے بیس تیس سال پہلے چالیس سال کے لوگوں کے خیالات جس قسم کے ہوتے تھے، آج اسی عمر کے لوگوں کے خیالات بہت حد تک بدلے ہوئے ہیں، دراصل ماحول اپنا اثر چھوڑتا ہے، بچوں پر بھی، جوانوں پر بھی اور عمر دراز لوگوں پر بھی، ذرا سوچیے کہ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، رہنے او رکام کرنے کا وہ انداز جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں کیا اب سے بیس تیس سال پہلے جیسا ہے ؟ نہیں، دو تین دہائیوں میں اتنا کچھ بدل گیا ہے جتنا کہ پہلے کئی صدیوں میں بھی نہ بدلتا تھا، اب امیر بننے، کچھ نیاکر گررنے کی خواہش زیادہ تر لوگوں میں پائی جارہی ہے ، آج کا نوجوان ترقی کے اعلیٰ مدارج کو طے کرنا چاہتا ہے، وسائل وذرائع سے اپنے آپ کو لیس کرنا چاہتا ہے او راب امیر بننا، لائف انجوائے کرنا کوئی ناشرمندہٴ تعبیر ہونے والا خواب نہیں لگتا، لیکن اب سے نصف صدی قبل صورت حال مختلف تھی، نوجوانوں میں اپنے مستقبل کو لے کر غیر یقینی کی سی کیفیت تھی اور عام طوپر غریب لوگ ترقی کے بارے میں سوچنے کو ایسا خواب خیال کرتے تھے جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی، مختلف الانواع علوم وفنون نے بنی نوع انسان کی تخیلاتی اور عملی زندگی کا رخ موڑ دیا ہے، جدید ٹکنالوجی نے انسانوں کے کام کرنے اور رہنے سہنے کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس تبدیلی کے بہت سے فوائد بھی سامنے آئے ہیں، لیکن وہیں دوسری طرف ایسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگی کو الجھا دیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بعض ایسے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں جن کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، اگرچہ مسلمانوں کے پاس زندگی گذارنے کا ایک جامع نظام ہے، کیسے کھانا کمانا ہے، کیسے شادیاں کرنی ہیں، کیسے لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا ہے، کیسا پہننا ہے، کیسے رہنا ہے، غرض زندگی گزارنے کے جو پہلو بھی ہو سکتے ہیں اسلام نے ان کا احاطہ کیا ہے اور کسی کو تشنہ لب نہیں چھوڑا ہے، تاہم چوں کہ ماحول وصحبت کا اپنا اثر ہوتا ہے، اس لیے دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کا سامانا ان کو بھی کرنا پڑ رہا ہے اور جو چیلنجز بنی نوع انسان کے سامنے نئے حالات کے پیش نظر آئے، وہ ان کے سامنے بھی آرہے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقوام ان تبدیلیوں کو بہتر خیال کر رہے ہوں او ران کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات کو بھی اپنے حق میں ٹھیک خیال کر رہے ہوں، لیکن ملت اسلامیہ ہر تبدیلی، ہر ماحول اور ہر سامنے آنے والے نتیجہ کو بلاسوچے سمجھے اپنے لیے بہتر نہیں کہہ سکتی، کیوں کہ اسے ہر چیز کو اس راہ نمائی کے آئینہ میں دیکھنا ہو گا جو اسے اسلام نے دی ہے۔

عہد جدید میں جو چیلنجز ملت اسلامیہ کو درپیش ہو رہے ہیں ان میں تعلیمی چیلنجز بھی ہیں، اقتصادی، معاشرتی، تہذیبی، فکری اور سیاسی چیلنجز بھی، مثال کے طور پر تعلیم کے نئے رجحان نے”تعلیم برائے خدمت“ کے مقصد کو ”تعلیم برائے تجارت“ کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے، پہلے تعلیم انسانی خدمت کے جذبے کے تحت حاصل کی جاتی تھی، لیکن اب تعلیم اپنے آپ کو معاشی لحاظ سے مضبوط کرنے کے خیال سے حاصل کی جارہی ہے، تعلیم گاہوں میں ایسے کورسز میں طلباء وطالبات کی لمبی قطاریں، جن کے ذریعہ زیادہ پیسے کمانے کے امکانات ہیں، اس کا بین ثبوت ہیں، مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس رجحان سے متاثر ہے او راس نے بھی اسی پگڈنڈی پر چلنا شروع کر دیا ہے، حالاں کہ تجارت کے مقصد سے تحصیل علم کے اگر معاشی لحاظ سے کچھ فوائد ہیں تو اس سے کہیں زیادہ دیگر انسانی شعبوں میں اس کے نقصانات نظر آئے ہیں، مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر جس کا موضوع امراض کے شکار مریضوں کو بیماریوں سے نجات دلانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے، وہ نئے رجحان کے باعث مریضوں کے لیے اتنا مفید ثابت نہیں ہوتا جتنا اسے ہونا چاہیے تھا، اسے مریض کی جان سے ہم دردی کم اور اس کی جیب پر نظر زیادہ ہوتی ہے ، علاج معالجہ میں تجارت کے تصور نے بہت سے بیماروں کی زندگیوں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اس بات سے انکا رنہیں کیا جاسکتا کہ ایسے ڈاکٹروں کی صف میں مسلم ڈاکٹرز بھی ہیں، لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ خدمتِ خلق کے جذبے کے منافی نہیں ہے ؟ مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے ہر عمل کا الله کے حضور جواب دینا ہے تو ان کے لیے یہ صورت حال کسی اہم چیلنج سے کم نہیں ہے، اقتصادی سطح پر جو چیلنجز سامنے آرہے ہیں، وہ مسلم معاشرہ کے لیے کم خطرناک نہیں ہیں، پوری دنیا میں مادی ترقی کی ہوا چل رہی ہے، بلند وبالا عمارتیں بنانے، گاڑیاں خریدنے، لاکھوں کروڑوں روپے بینکوں میں جمع کرنے اور پرتعیش وپرتکلف زندگی گزارنے کے لیے ڈھیر ساری دولت کے حصول کا جذبہ عوام الناس کے سینوں میں کروٹیں لے رہا ہے، مادیت کا یہ جذبہ لوگوں کو اس بات سے بے نیاز کر رہا ہے کہ آخر آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟ وہ جائز ہیں یا نہیں؟ وہ دولت کسی کو تکلیف پہنچا کر تو حاصل نہیں کررہے ہیں اور کسی کے حقوق تو نہیں مار رہے ہیں؟ دولت کے حصول کی تگ ودونے بھلے ہی بہت سے خاندانوں کو امیر بنا دیا ہے ،مگر اس اثنا میں کتنی دھوکہ دہی ، وعدہ خلافی، حق تلفی اور عہد شکنی ہوئی؟ کتنے جرائم ہوئے؟ کتنی رشوت خوری اور بد عنوانی عام ہوئی، اس کا انداز کیا جاسکتا ہے، ایسے میں مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ کھڑا ہو تا ہے کہ آخر وہ اپنے آپ کو اس سے کیسے بچائیں؟ اگر اپنے آپ کو نہیں بچاتے ہیں تو یقینا بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہو جائیں گے اور اگر بچاتے ہیں تو سماجی تقاضوں کی تکمیل کیسے ہو گی؟ گویا کہ ملت اسلامیہ کے لیے یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

معاشرتی سطح پر امتِ مسلمہ کو نئے نئے چیلنجز کا سامنا ہے، کیوں کہ جدید ٹکنالوجی نے ایسی مصنوعات کا انبار لگا دیا ہے جن کے ذریعہ سے انسان برائیوں کی دلدل میں دھنستا چلا رجارہا ہے، مثال کے طور پر ٹی وی کو لے لیجیے کہ شہروں میں تو بمشکل ہی کچھ گھر ایسے ہوتے ہوں گے جو ٹی وی سے محفوظ ہوں، اس کے علاوہ اب قصبوں اور گاؤوں میں بھی ٹی وی کا استعمال بکثرت ہونے لگا ہے، اب سے چند سال پہلے لوگ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھا کرتے تھے، جو دو یا تین ہزار میں مل جایا کرتا تھا، لیکن اب بلیک اینڈ وائٹ کو کوئی نہیں پسند کرتا، اب زیادہ تر لوگ بڑی اسکرین والا کلر ٹی وی خریدنا چاہتے ہیں، اس ٹی وی کے ساتھ عام طور سے لوگ ڈش کیبل لگاتے ہیں جن میں وقت کو ضائع کرنے والے اور عریاں قسم کے چینل آتے ہیں، رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ تو وی سی آر وغیرہ جیسی چیزیں بھی خریدتے ہیں، جن کے ذریعہ سے وہ سی ڈی یا کیسٹوں کے ذریعہ اپنی من پسند فلمیں دکھاتے ہیں، کئی گھروں میں بڑے بڑے ٹیپ ریکارڈ بھی ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ بڑی بڑی سونگ پیٹیاں بھی، جن کے ذریعہ سے گانے سنے جاتے ہیں او راس کی آواز دوردراز تک جاتی ہے، آج کل موبائل کا بھی ایک فیشن چلا ہوا ہے، وہ بھی متعدد فنکشن والے ۔نئی نسل کا خیال ہے کہ اگر موبائل میں ایف ایم ریڈیو سننے کی سہولت نہ ہو، انٹرنیٹ اور ویڈیوریکارڈنگ نہ ہو تو پھر بات ہی کیا ہوئی؟! ان تمام چیزوں کے ساتھ نئی نسل کی دلچسپی کو کیسے کم کیا جائے؟ کیسے انہیں معاشرتی برائیوں سے نکالا جائے؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، ہماری قوم میں شادی کے موقع طرح طرح کی رسومات او رجہیز کے لین دین کا رواج بھی بڑھ رہا ہے، جس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آچکے ہیں، جہیز نہ دیں تو پریشانی اور دیں تو معاشرہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

ملتِ اسلامیہ کے سامنے فکری وتہذیبی سطح کے جو چیلنجز ہیں وہ بھی کم اہم نہیں ہیں ، مغربی اقوام وملل کی کوشش یہ ہے کہ مسلم تہذیب کو ختم کر دیا جائے، اگرچہ مغرب اور اسلام کے درمیان تہذیبی تصادم خاصے طویل عرصہ سے چل رہا ہے، تاہم موجودہ دور میں جب کہ مغرب نے آلات ووسائل کے میدان میں حیرت انگیز ترقی حاصل کی ہے تو ملت اسلامیہ کے لیے مغرب کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنا اور اپنی تہذیب کا تحفظ مشکل ہو گیا ہے، کیوں کہ مغربی ممالک واقوام نے اپنے جال ہر طرف سے ڈال دیے ہیں، ٹی وی، ریڈیو، انٹر نیٹ، ذرائع ابلاغ اور دولت کی ریل پیل کی وجہ سے اپنی تہذیب کو موثر کن انداز میں دور دراز تک لے جانا ان کے لیے آسان ہو گیا ہے، نہ جانے کتنی اقوام مغرب کے آگے اپنے آپ کو سرنگوں کرچکی ہیں، کتنی تہذیبیں مغربی تہذیب میں ضم ہو چکی ہیں، بہت سے مسلمان بھی مغربی تہذیب کے عملی طور پر دل دادہ ہیں، جب کہ یہ تہذیب اپنے اندر چمک تو رکھتی ہے، مگر حقیقی روشنی سے محروم ہے او رانسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے، گویا کہ نئے زمانہ میں مسلمانوں کے سامنے چیلنجز کا ایک سلسلہ ہے ،جس کا مقابلہ کرنا ان کے لیے انتہائی ضروری ہے، اگر مسلمان ان چیلنجز کا سامنا کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر کما حقہ عمل پیراہو جائیں، اپنے اخلاق وکردار کو بہتر بنائیں، دنیا کی چمک دمک پر نہ جائیں اور سادہ وصالح زندگی گزاریں۔

Flag Counter