محبت کی کوئی بات سنائیں۔ اگر یہ اس کو غیبت کرنے سے روک دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ دونوں جہاں میں اس کو جزا دے گا،لیکن اگر وہ طاقت ہونے کے باوجود مداہنت یعنی بے جا نرمی کی وجہ سے منع نہیں کرتا،غیبت سنتا رہتا ہےتو اس کا کان مجرم ہوگیااور اس پر اللہ تعالیٰ کی وعید ہے أَدْرَكَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اللہ دونوں جہاں میں اس کو پکڑے گا۔ محدثین نے اس کی شرح یہ کی ہے:اَیْ اَخَذَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ دونوں جہاں میں اس کی رُسوائی ہوگی۔ اسی لیے بعض بزرگوں نے یہ شرط لگائی کہ مجھ سے دوستی کی بنیاد کی پہلی شرط یہ ہے کہ جب میری مجلس میں آنا کسی کی بُرائی مت کرنا۔
تو اگر کسی میں غیبت کرنے والے کو روکنے کی طاقت نہ ہو تو اس مجلس سےاٹھ جائے۔ اور اگر کوئی تلوار اور خنجر لیے ہوئے ہو کہ نہیں سنو گے تو مار دوں گا تو مجبوراً بیٹھ جاؤ مگر دل سے بُرا سمجھو،لیکن ایسے حالات بہت شاذ و نادر ہیں کہ غیبت سنانے میں کوئی تلوار بھی استعمال کرتا ہو، ورنہ عام حالات میں یہی حکم ہے کہ اس مجلس سے اٹھ جاؤ ورنہ اتنا ہی کہہ دو کہ ان میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں، نرمی سے سمجھا کر کہہ دو کہ بھائی مسلمان ہیں، ان میں کچھ خوبیاں بھی ہیں لہٰذاان کی بُرائیاں مت بیان کیجیے، ہوسکتا ہے کہ ان کا کوئی عمل اللہ کے یہاں قبول ہوگیا ہو اور وہ بخش دیا جائے اور اللہ کی نظر میں ہمارا آپ کا کوئی عمل قابلِ گرفت ہو اور وہ قابلِ عذاب ہوجائے تب کیا ہوگا؟
حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حالات میں لکھا ہے کہ جب کوئی ان کے سامنے غیبت کرتا تھا تو سر جھکائے بیٹھے رہتے تھے اور جب وہ اپنی بات ختم کرلیتا تھا تو فرماتے تھے کہ تم غلط کہتے ہو،تمہاری سب باتیں غلط ہیں۔بس اس کا منہ چھوٹا سا ہوجاتا تھا اور زندگی بھر کے لیے توبہ کرلیتا تھا کہ اب حاجی صاحب سے کسی کی غیبت نہیں کروں گا۔اور حضرت حاجی صاحب بھی ایسے سنتے تھے کہ وہ دل میں سوچتا تھا کہ بس آج تو میں نے کامیابی حاصل کرلی، حاجی صاحب سے خوب بُرائی کرکےان کا دل اس سے بُرا کردیا، لیکن حاجی صاحب کا آخری جملہ دیکھیے، جب وہ دیکھتے تھے کہ اب یہ تھک گیا ہے،اس نے اپنا کام پورا کرلیا ہے تب فرماتے تھے کہ جتنی باتیں آپ نے کی ہیں سب غلط ہیں۔ لیکن اس پر عمل کرنا ہمارے اور آپ کے لیے جائز نہیں ہے کیوں کہ کسی کی غیبت سننے کے بعد ہوسکتا ہے کہ ہم یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ