اِدھر گیا اور ڈھکن اُدھر لہٰذا حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ متقی چاہے نوّے سال کا ہوجائے اسے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرنا چاہیے ؎
بھروسہ کچھ نہیں اس نفسِ امّارہ کا اے زاہد
فرشتہ بھی یہ ہوجائے تو اس سے بدگماں رہنا
جب تک موت نہ آجائے اس وقت تک اپنے نفس پر اطمینان نہ کرو، اﷲ کی غلامی کی زنجیر و طوق اپنی گردن سے مت ہٹاؤ وَاعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ14؎ جب تک موت نہ آجائے آدمی اپنے کو خطرہ میں ہی سمجھے کیوں کہ مرتے مرتے بھی بدنظری کرسکتے ہو، اسی لعنت والے عمل کی حالت میں روح نکل سکتی ہے۔ ایک شخص کو دس سال ہوگئے، ایک گناہ بھی نہیں ہوا، وہ کہنے لگا کہ کوئی بات نہیں، ہمارا نفس تو حسینوں سے بالکل محفوظ ہوگیا ہے، ہمارا نفس بڑا مقدس ہے، تو یہ نفس کا دھوکا ہے جیسے میں نے بلّی اور چوہے کا مسئلہ بیان کیا،تو سمجھ لو کہ جو چوہے اور بلّی کا تعلق ہے وہی ہمارے نفس اور گناہوں کا تعلق ہے۔
مجلس صیانۃ المسلمین کا یہ اجتماع اگر نافع نہ ہوتا تو ہر سال پاکستان کے گوشے گوشے سے حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے عاشق اور پروانے یہاں جمع نہ ہوتے، ہم اس موقع کو غنیمت جان کر شاہراہِ ولایت کے کچھ تذکرے کرلیتے ہیں۔
بس اب دعا کریں کہ جو کچھ سنااور سنایا اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں، ہم سب کو اللہ والا بنائیں،اولیائے صدیقین کاملین کی خط منتہیٰ تک پہنچادیں، ہماری دنیا بھی بنادیں آخرت بھی بنادیں اور ہم سب کو اور ہماری قیامت تک آنے والی ذرّیات کو تقویٰ والی حیات عطا فرمادیں، آمین۔
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ
بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
_____________________________________________
14؎ الحجر:99