حیرت ہے کہ اولیاء اﷲ بغیر دیکھے خدا کو یاد کررہے ہیں، بغیر دیکھے گناہوں کی نقد لذت کو چھوڑ رہے ہیں اور بغیر دیکھے اﷲ سے مانگتے ہیں ؎
عشق من پیدا و دلبر ناپدید
در دو عالم ایں چنیں دلبر کہ دید
میرا عشق تو ظاہر ہے مگر محبوب عالمِ غیب میں ہے، ایسا محبوب کسی نے دیکھا ہے؟ یہی وجہ تھی کہ صحابہ اللہ کو دیکھے بغیر ان پر جان نچھاور کرتے تھے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ عالمِ غیب کا ذکر عالمِ شہادت سے افضل ہے کیوں کہ اولیاء اﷲ خدا کو نہیں دیکھتے اور ضروریاتِ دنیا میں مشغول بھی ہوتے ہیں لہٰذا فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ ہم لوگ تو بالکل فارغ ہیں، سوائے اللہ تعالیٰ کی یاد کے کوئی کام نہیں ہے لیکن ان کو دیکھو کہ بیٹا بیمار ہے، بیٹی بیمار ہے، کسی کی بیٹی کو رشتہ نہیں مل رہا، کسی کی بیٹی کو داماد بھوکا رکھتا ہے، وہ آکر رو رہی ہے کہ ابّا! آپ نے کس ظالم سے رشتہ کرادیا، دو وقت کی روٹی کو بھی نہیں پوچھتا تو سوچو کہ اس وقت باپ کا کلیجہ کیسا منہ کو آرہا ہوگا، جو صاحبِ اولاد ہیں ان سے اولاد کے دُکھ کو پوچھو۔
بیویوں سے حسنِ سلوک کی تعلیم
اسی لیے کہتا ہو ں کہ اپنی بیویوں کو مت ستاؤ ورنہ تمہاری بیٹیوں پر عذاب آئے گا۔ یہ تجربہ کی بات بتارہا ہوں، جس نے اپنی بیوی کو ستایا اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس کی بیٹی کو داماد کی طرف سے کیا ملا۔ یہ عقل کی نہیں تجربہ کی بات بتارہا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کی جو بندیاں تمہارے پاس ہیں ان کو شفقت و محبت سے رکھو، ان کی خطاؤں کو معاف کرو، یہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اس لیے ان کی ٹیڑھی باتوں پر صبر سے کام لو۔ بابا آدم علیہ السلام سو رہے تھے، فرشتوں نے ان کی ایک پسلی نکال لی، اس سے حضرت حوّا کو پیدا کیا۔ تو عورتوں کی تخلیق ٹیڑھی پسلی سے ہوئی۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلْعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَاوَ اِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِہَا اِسْتَمْتَعْتَ بِہَا وَ فِیْھَا عِوَجٌ7؎
_____________________________________________
7؎ صحیح البخاری: 26/7 (5184)،باب المداراۃ مع النساء،المکتبۃ المظہریۃ