Deobandi Books

نسبت مع اللہ کی عظیم الشان دولت

ہم نوٹ :

19 - 34
شیشی کو اپنے مقابلے میں مت لاؤ کیوں کہ اس کے اندر دس ہزار والا عطر ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو صاحبِ نسبت کردیتے ہیں پھر اس کو اپنے اوپر قیاس مت کرو کیوں کہ اب اس کے دل کی شیشی میں نسبت مع اﷲ کا قیمتی عطر ہے۔
لہٰذاجو لوگ توبہ کرکے نیک زندگی بسر کر رہے ہیں اب ان کے ماضی کا تصور بھی نہ کرو کہ یہ لوگ ماضی میں کیسے تھے،  بعض بندے ندامت سے، آہ و زاری اور استغفار و توبہ سے اتنے اونچے مقام پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے اشارات ان پر اتنے غالب ہوگئے کہ عام آدمی ان کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
استقامت علی التقویٰ کی کرامت
ایک شخص کسی بیوہ کی خدمت سنت سمجھ کر کررہا تھا لیکن اس بیوہ کی نیت خراب ہوگئی، ایک دن اس نے مکان میں بلاکر کہا کہ بیٹا! ٹماٹر لادینا، میں بیوہ ہوں، بیوہ کی خدمت سے بڑا ثواب ملتا ہے، اس شخص نے وعدہ کرلیا۔ یہ شخص صاحبِ نسبت، اللہ والا تھا اور جس کو خدائے تعالیٰ نسبت عطا کرتے ہیں اور جس کو اپنی ولایت سے مشرف فرماتے ہیں تو اس کی علامات مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہیں اِنْ اَرَادَ بِہِ السُّوْءَ اگر وہ بُرائی کا ارادہ بھی کرلے توحق تعالیٰ اسے بُرائی کی طرف جانے نہیں دیں گے، اس کی حفاظت فرمائیں گے لہٰذا جب وہ شخص اس بیوہ کے مکان میں گیا اور بیوہ نے اسے گناہ کی دعوت دی تو اس کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوگئی، اس نے کہا کہ مجھے بہت زور کا استنجا لگ رہا ہے، مجھے لیٹرین بتاؤ۔ اس زمانے کا لیٹرین ایسا ہوتا تھا کہ اس میں کئی من غلاظت پڑی رہتی تھی، جسے بھنگی آکر روز صاف کرتا تھا۔ بس وہ شخص اس غلاظت میں کود گیا، جب بیوہ نے اسے گندگی میں لتھڑا دیکھا تو فوراً گھر سے نکال دیا، اس نے جلدی سے دریا میں جاکر غسل کیا اور اللہ سے رویا کہ یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے بہت بڑے غضب اور قہر کے عمل سے بچالیا، اس کے بعد اس کے سارے جسم میں اللہ نے خوشبو پیدا کردی۔ ایک دن وہ ایک صاحبِ نسبت بزرگ کے پاس سے گزرا، انہوں نے اس کے سر سے پیر تک خوشبو محسوس کی تو اس سے کہا کہ بھائی! تھوڑی سی خوشبو ہمیں بھی لگادو، اس نے کہا کہ خدا کی قسم! میں نے عطر نہیں لگایا، انہوں نے کہا دیکھو بھائی! 
Flag Counter