Deobandi Books

نسبت مع اللہ کی عظیم الشان دولت

ہم نوٹ :

23 - 34
کیا اس کو ناراض کرکےاسے دوست بناسکتے ہیں؟ البتہ  استغفار و توبہ سے ماضی کے گناہوں کی تلافی ہوسکتی ہے۔ 
ایک آدمی الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اسے گالیاں بھی بکتے ہیں، اس پر جوتے بھی برسائے جاتے ہیں اور اس پر گندے انڈے بھی پھینکے جاتے ہیں لیکن جب وہ الیکشن جیت گیا، وزیراعظم ہوگیا، اب اس پر انڈا پھینکوگے؟ اسی طرح جب شیطان اور نفس کی جنگ میں سالک جیت گیا، تو اب وہ صاحبِ نسبت ہے، اب وہ اولیاء اللہ سے جڑا ہوا ہے، اب اس کے بارے میں کچھ مت کہو ورنہ اللہ تعالیٰ انتقام لیں گے کہ جب میں نے اس کو اپنی ولایت سے مشرف کردیا اور اب وہ میرا ولی ہے تو غیبت تو عام مسلمان کی بھی حرام ہے چہ جائیکہ ہمارے اولیاء کی غیبت ہو۔
اب میں ولی اللہ بننے کا نسخہ بیان کررہا ہوں۔ آپ لوگ چاہتے ہیں نا ں کہ ہم لوگ ولی اللہ بن جائیں؟ تو اس کے لیے تین کام بیان کررہا ہوں:
نمبر ایک: اہل اللہ کی صحبت یعنی شیخ و مرشد کی صحبت۔
نمبر دو: شیخ کے مشورے سے ذکر اللہ کا التزام۔
 نمبر تین: گناہوں کے چھوڑنے کا  اہتمام۔
 اور گناہ چھوڑنے کا ایسا اہتمام کرو کہ اﷲ سے کہہ دو کہ جان دے دوں گا مگر اے خدا! آپ کو ناراض نہیں کروں گا۔ بس آپ کی طرف سے یہ ارادہ ہونا چاہیے باقی اللہ خود آپ کو سنبھال لے گا جیسے بچہ جب چلتے چلتے گر پڑتا ہے تو ابّا خود ہی آگے بڑھ کر اسے اُٹھالیتا ہے تو ربَّا کا بھی یہی معاملہ ہے، وہ چاہتے ہیں کہ تم ہمت سے کام لو اور جب خطا ہوجائے تو اتنا روؤکہ سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوجائے، زندگی سے بے زار ہوجاؤ، دنیا تاریک ہوجائے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی علامت یہی بیان فرمائی ہے کہ جب میرے بندوں کو، میرے شریف اور مقبول اولیاء اللہ کو میری ناراضگی کا پتا چلتا ہے  تو ان پر دو علامات ظاہر ہوتی ہیںضَاقَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوجاتی ہے، پوری دنیا ان کو تنگ نظر آتی ہے وَ ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمۡ اَنۡفُسُہُمۡ10؎ اور وہ اپنی جانوں سے بے زار ہوجاتے 
_____________________________________________
10؎   التوبۃ:118
Flag Counter