حبِّ باہ کا کہ میرے نفس کی ساری ڈیمانڈ، ہر بُری خواہش پوری ہوجائے، نہ دیکھوں حلال نہ دیکھوں حرام، وَضْعُ الشَّیْءِ فِی غَیْرِ مَحَلِّہٖ کرتا رہوں یعنی اپنی شئے کو غیرمحل میں استعمال کرتا رہوں، مجھے کوئی پابند نہ کرے، میں ایک سانڈ بن کر زندگی گزارنا چاہتا ہوں اگرچہ مولیٰ سے رانڈ ہوجاؤں لیکن سانڈ کے مزے لے لوں۔ یہ بین الاقوامی گدھا ناقابلِ تلافی خسارے والا ہے اِلَّا مَنْ تَابَمگر جو توبہ کرلے وہ مستثنیٰ ہے۔ توبہ کے معنیٰ ہیں کہ جتنا دور اللہ کی منزل سے بھاگا تھا پھر لوٹ کر وہیں آگیا۔ توبہ نام ہے منزلِ قربِ خدا کی طرف لوٹ کر واپس آجانا۔ تو اب یہ خسارے میں کہاں رہا بھائی! اللہ کی منزل سے اُڑ کر گناہوں کی منزل میں چلا گیا تھا، پھر خیال آیا کہ میں تو بہت ہی بے وقوف ہوں، فوراً لوٹا۔ اور کہاں تک لوٹا؟ منزلِ قربِ خدا تک۔ جس منزل سے گیا تھا اسی منزل پر واپس آگیا لہٰذا اب اس کو حقیر مت سمجھو۔
عاشقانِ خدا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلانِ محبت
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آخر میں یہ اعلان فرمایا کہ اے صحابہ! ایک خوشخبری اور سن لو! نمبر ایک تو یہ کہ میں شکر کررہا ہوں کہ میری اُمت میں اس قدر عظیم الشان اولیاء اللہ پیدا ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اپنے رہائشی گھر سے بے گھر کرکے تمہارے اندر بیٹھنے کا حکم دے رہا ہے۔ سیّد الانبیاء کو ،اُستاد اور معلم کو اورمعلم بھی کیسا کہ جس کی مثال نہیں، ایسا معلم آسمان نے کبھی نہیں دیکھا، زمین نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ زمین و آسمان کبھی دیکھیں گے اور فرمایا کہ دوسری خوشخبری یہ ہے کہ نبی کا مرنا جینا تمہارے ساتھ رہے گا۔ اختر کا شعر ہے ؎
مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہارا
ترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا
اختر کا یہ شعر اُس ذوقِ نبوت اور اُس اعلانِ نبوت کی شرح کررہا ہے۔ جس کو یہ ذوق نصیب نہ ہو تو وہ مرادِ نبوت، ذوقِ نبوت، مزاجِ نبوت، شوقِ نبوت سے محروم ہے۔
صحابہ کی شِدّتِ محبت کی ایک جھلک
آہ! نبی کا یہ اعلان اُن مفلس و نادار و بے نوا عاشقوں کے لیے کتنا بڑا انعام ہے۔