Deobandi Books

ہم کس کو ملتے ہیں اور ہم کو کون پاتا ہے ؟

ہم نوٹ :

12 - 34
گٹر لائنیں ہیں، اس لیے وہ ایمان فروشی نہیں کرتے، وہ اللہ کے ہاتھ بِک چکے ہیں اِن کو اپنے بکنے کا احساس ہے کہ:
اِنَّ اللہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ3؎
ہر مؤمن کو اللہ نے خریدا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بکے ہوئے مال ہیں، ہم دوبارہ اپنے کو نہیں بیچ سکتے ان حسینوں سے، حبِّ جاہ سے، وزارت کی کرسیوں سے، سورج اور چاند سے وہ دور ہی سے تاڑ لیتے ہیں کہ ہمارے ایمان کو نقصان پہنچانے والی کوئی شکل آرہی ہے، اس لیے اللہ کی توفیق سے وہ چوکنا رہتے ہیں۔ چوکنا یعنی چاروں کونوں پر نظر رکھتے ہیں کہ کس کونے سے بلا آرہی ہے، جس کونے سے بلا آئے گی اُن کی لَا اِلٰہَ اُس بلا کو بھگاتی رہے گی اور یہ اللہ کی طرف بھاگتے رہتے ہیں، غیراللہ کو یہ لَا اِلٰہَ سے بھگاتے ہیں اور خود بھاگتے ہیں اللہ کی طرف اِلَّا اللہُ سے۔ اُن کے یہی دو کام ہیں کہ غیراللہ کو بھگانا لَا اِلٰہَ سے اور خود بھاگنا اپنے اللہ کی طرف اِلَّااللہُ سے۔ اسی کا نام تصوف ہے کہ بھاگو اور بھگاؤ۔ حضرت یوسف علیہ السلام غیراللہ سے بھاگے تھے، اُس بھاگنے کی برکت سے سب تالے ٹوٹ گئے، شاہی تالے ٹوٹے ہیں معمولی نہیں؎ 
شیخ  پینے  کا  ارادہ    تو   کریں
حوضِ کوثر سے منگالی جائے گی
نسبت مع اللہ کے آثار
ارے دوستو! کچھ ہمت تو کرو اللہ کے راستے میں۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی نصرت آئے گی کہ آپ خود حیران ہوجائیں گے۔ آپ خود انگشت بدنداں ہوں گے کہ یااللہ! میری تو یہ حالت تھی کہ میں کسی حسین سے نظر نہیں بچاتا تھا، اب یہ میرے قلب میں کیا ہورہا ہے، آپ کی تشریف آوری کے آثار نظر آتے ہیں۔ سورج کی آمد کے آثار سورج کی سرخیاں بتاتی ہیں اور اللہ والوں کے قلب میں اللہ تعالیٰ کے متجلی ہونے کے آثار اُن کے خونِ آرزو کی توفیق بتاتی 
_____________________________________________
3؎  التوبۃ: 111
Flag Counter