Deobandi Books

ماہنامہ الحق جون 2014ء

امعہ دا

55 - 67
فرمانے لگے کہ شہادت بہت بڑا مقام ہے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ جب فوت ہونے لگے تو بستر پر فوت ہوئے اور نہایت رنجیدہ تھے‘ کسی نے اس بارے حضرت صدر صاحب ؒ سے استفسار کیا کہ اتنے سارے غزوات میں شرکت کرنے کے باوجود حضرت خالد بن ولید کو شہادت کی موت کیوں نہ ملی؟
توحضرت صدر صاحب ؒ نے نہایت عجیب وغریب جواب ارشاد فرمایا کہ حضرت خالد کو نبی علیہ السلام نے ’’سیف اللہ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ اگر کفار کے ہاتھوں حضرت خالد بن ولیدؓ کو موت ہوجاتی تو کفار خوش ہوکر کہتے کہ اللہ کی تلوار ہمارے ذریعے ٹوٹ گئی تواللہ تعالیٰ حضرت نبی علیہ السلام کی پیش گوئی کی لاج رکھی۔ اورانہیں بستر پر موت نصیب فرمائی۔
حضرت عمرؓ کے حوالے سے لطیف نکتہ:
دوسرا نکتہ بیان فرمایا کہ حضور ا کا فرمان مبارک ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ابن خطاب رضی اللہ ہوتے‘ کسی نے حضرت صدر صاحب ؒ سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت لاڈلے تھے‘ حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمان کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ اس کے دو جواب ہیں‘ اول ہرجمالی پیغمبر کے بعد جلالی پیغمبر آتا ہے تو ابوبکر صدیق ؓ میں بھی جمالیت تھی‘ اور حضور ا میں بھی جمالیت تھی‘ اور یہ عادت اللہ کے خلاف ہے‘ اور حضرت عمرؓ میں جلالیت تھی‘ اس لئے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔
	دوسری بات یہ کہ فرمایا (لوکان بعدی) تو بعدیت اور معیت میں تضاد ہے اورابوبکر صدیقؓ کے بارے میں فرمایا کہ ان اللہ معنا
حضرت صدرؓ کا تیسرا نکتہ بیان فرماتے ہوئے حضرت فانی ؒ نے حضرت مولانا سعیدالرحمن صاحب مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ غور سے سنیئے جلالین شریف میں کام آئے گا‘قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:   قولہ وما ربک بظلام للعبید
کسی نے پوچھا کہ حضرت کفار کی عمر ۱۰۰ سال ہے یا ۸۰ سال ہے یا کم و بیش اور خلدین فیھا ابدا عذاب لامحدود ہے ۔یہ تو ظلم ہوا‘ تو حضرت صدر صاحب ؒ فرمانے لگے کہ اس کے بہت جواب ہیں لیکن ایک مختصر سا جواب دوں گا کہ یہ کافر ہیں اور کفر ایک لامحدود جرم ہے۔لہٰذا لامحدود جرم کے لئے لامحدود وسزا ہونی چاہیے اور یہ ظلم نہ ہوا بلکہ عین انصاف ہوا۔
مولانا سعید الرحمن :	حضرت آپ مفتی فرید ؒ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

Flag Counter