علماء و فضلاء زروبی‘‘ ہے۔ اول الذکر میں وہ چیزیں ذکر کروں گا جوکہ دوران بستر پیش آئیں یہ اس بارے میں پوری روداد ہوگی او رآخر الذکر میں اپنے آبائی گائوں ’’زروبی ‘‘ ضلع صوابی کے جملہ علمی،ادبی اورمذہبی شخصیات کی زندگی کے حالات واقعات ذکر کروں گا۔
مولانا سعید الرحمن: حضرت! اول الذکر کتاب کے نام کا عروضی وزن کیا ہوگا؟
فانی صاحبؒ: فاعل مستفعل‘ فاعل مستفعل اس کا عروضی وزن ہے ۔
مولانا سعید الرحمن: حضرت !کتاب کا نام تو بڑا زبردست چنا ہے۔
فانی صاحب ؒ: ہاں، ایک شخص کہنے لگا کہ جناب کتاب تو نثر کی ہے اور نام اس کا شاعرانہ ہے؟
تو میں نے اس کو کہا کہ اس کا وزن عروضی یہ ہے ’’داستان دل کشاں در زمان ابتلائ‘‘ اور دوسرے کا نام ہے ’’تذکرہ علماء وفضلاء زروبی‘‘
فانی صاحب ؒ: بیماری کی دو جہتیں ہیں۔ (۱) اچھی (۲) بری
بری جہت ہر کسی کو معلوم ہے‘ لیکن اچھی جہت یہ ہے کہ ہمارے لئے لکھنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔
اسی طرح ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے میرے سامنے ایک شعر پڑھا اور کہاکہ یہ میرا شعر ہے۔ تو میں نے کہاکہ اے اللہ کے بندے ! اگر شعر ہم کہیں تو ہم فارغ ہوتے ہیں۔ تم کس وقت شعر کہتے ہو‘ تو مولانانے برجستہ جواب دیا کہ میں جب حکومت مہمان بن جاتا ہوں یعنی جب جیل میں ڈال دیا جاتا ہوں یا نظر بند ہوجاتا ہوں‘ یا سفر میں ہوتا ہوں یا بیرون ملک سفر پر ہوتا ہوں تو اللہ تعالیٰ موقع فراہم کردیتے ہیں، تواسی طرح ہمارا بھی یہی حال ہے کہ بیماری میں اللہ تعالیٰ نے موقع فراہم کردیا کہ ہم نے کتابیں لکھناشروع کیں۔
ایک مرتبہ زمانہ طالب علمی میں ہم جلالین شریف کے پیریڈ کے انتظار میں کھڑے تھے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب مجھے مخاطب کرکے بولنے لگے اے فانی! شعر سنئے۔
تو میں نے کہا سنائیے جناب! کہنے لگے
جب آگ دی باغبان نے آشیانے کو میرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
تو جواباً میں نے کہا : کس طرح آئے یقین ہم کو کسی کی بات کا منزلوں پر لاکے دھوکہ رہنما دیتے رہے
فانی صاحبؒ: حضرت صدر صاحب ؒ ایک غریب و فقیر انسان تھے‘ بس اپنے کام سے کام رکھتے تھے اور حق گو، حق پرست اور جلالی انسان تھے‘ اور طلبہ کرام پر نہایت شفیق ومہربان تھے۔
حضرت صدر صاحب ؒ کے علمی نکات:
حضرت فانی صاحبؒ: حضرت صدر صاحب ؒ کے علمی نکات کافی زیادہ ہیں۔ایک مرتبہ درس بخاری شریف میں