Deobandi Books

ماہنامہ الحق جنوری فروری 2014ء

امعہ دا

7 - 89
مسالک اور فرقے اس میں پیش پیش رہے تواس کمی کو پورا کرنے کے لئے آپ نے بھی اپنی بھرپور علمی توانائیاں اس اہم ترین محاذ پر بروئے کار لائیں اور مسلک دیوبند اور خصوصاً دینی مدارس کی آپ نے سب سے زیادہ موثر نمائندگی کی اور فرق باطلہ کے منفی پروپیگنڈوں کا بھرپور تعاقب کیا۔ (گوکہ ذرائع ابلاغ اوروقت کا یہ اہم ترین شعبہ اب بھی علمائے دیوبند اوردینی مدارس کی بھرپور توجہ ونمائندگی کا منتظر ہے) آپ کو اللہ تعالیٰ نے تحریر وتقریر اور اعلیٰ اخلاق سے بھی نوازا تھا۔ نفاست ‘نظافت اورخوبصورتی کے عناصر سے آپ کی شخصیت مرقع تھی۔اوپر سے ذہانت‘ حاضرجوابی او رنکتہ شناسی نے چارچاند لگا دئیے تھے ۔مرنجِ مرنجاں طبیعت کے حامل تھے‘ جس مجلس اورمحفل میں بھی جاتے تو شمع محفل بن کر چمکتے۔
   ؎ 	 آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر 	     اب انہیں ڈھونڈ چراغ زیبا لے کر 
	آپ کی ناگہانی شہادت کا سن کر راقم اور حضرت والد صاحب مدظلہ پر سکتہ طاری ہوگیا ۔دوسرے دن علی الصبح مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ کراچی تشریف لے گئے اور اِن کے عظیم المرتبت والد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسفندریار صاحب اور ان کے صاحبزادوں اور برادران کے ساتھ تعزیت کی۔اور بعد میں اِن کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ جنازہ میں کراچی اور ملک بھر کے علماء ‘طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ نے اس ظلم و بربریت پر وفاقی اور صوبائی حکومت پر بھرپور تنقید اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا کہ حکومتیں جان بوجھ کر علمائے حق کے قتل عام پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور عرصہ دراز سے کراچی کے تمام اہم مدارس کے سرکردہ علماء ومشائخ کو ایک بڑی منظم سازش کے ذریعے وقتاً فوقتاً شہید کیا جارہا ہے اوراب تک کسی بھی بڑے عالم دین کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔
	مفتی عثمان یار خان شہید کے قتل کے بعد کراچی کے تمام علماء اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کا ایک نمائندہ اہم اجلاس منعقد ہوا اور اس میں اس سنگین واقعے کے خلاف بروز جمعہ ۲۴ جنوری کو کراچی میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان ہوا اور یہ ہڑتال کافی موثر ثابت ہوئی۔اہل کراچی نے مولانا عثمان یار خان کی شہادت پر اپنی بھرپور صدائے احتجاج بلند کی۔آخر میں اشکوں کے سیل ِ رواں میں غرق راقم ‘جامعہ دارالعلوم حقانیہ ‘ ادارہ الحق مرحوم ومغفور شہید عثمان یار خانؒ کے والد ِ محترم ‘ تمام پسماندگان ‘برادران اوران کے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ نہ صرف دلی تعزیت کرتا ہے بلکہ خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہے اور قارئین الحق سے ان کے رفع درجات کیلئے دعائوں کی خصوصی اپیل کرتا ہے۔ 
 بناء کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن 
خدا رحمت کند ایں عاشقانِِ پاک طینت را

Flag Counter