Deobandi Books

ماہنامہ الحق جنوری فروری 2014ء

امعہ دا

6 - 89
آہ !  مفتی عثمان یار خان کی شہادت

 اٹھے جاتے ہیں اب اس بزم سے ارباب نظر
 گھٹتے جاتے ہیں میرے دل کے بڑھانے والے

بدقسمت ملک اور خون آشام شہرِ کراچی عرصہ دراز سے عرصہ مقتل بنا ہوا ہے۔اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے مل کر اہل وطن کو آگ و خون کے سمندر میں ڈبو دیا ہے۔ ہرجانب اور ہرسو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے‘گناہگار اور بے گناہ دونوں کو ایک ہی تیر سے مارا جارہا ہے‘ جہاں عوام الناس اور حکومت کی فورسزکوایک دوسرے کے ہاتھوںمروایا جارہا ہے وہیں مسلم معاشرے کے پُرامن اور معزز طبقہ علماء کو بھی چُن چُن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خصوصاً کراچی میں اب تک درجنوں متعدل مزاج ‘ امن وآشتی کے علمبردار علمائے کرام اور نامور ‘باصلاحیت ‘علم وتحقیق سے وابستہ شخصیات کوناکردہ جرائم کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں برادرِ مکرم مفتی عثمان یار خان کو بھی گزشتہ ماہ دو ساتھیوں کے ہمراہ انتہائی بیدردی کے ساتھ شہید کردیا گیا ۔انا للہ وانا الیہ راجعون 
	دل و جان سے زیادہ عزیز محترم عثمان کو مرحوم کہنا اور ان کے بارے میں تعزیتی کلمات لکھنا اس کیلئے دماغ ابھی تک مائل نہیں ہورہا اور نہ ہی ہاتھ لکھنے پہ قادر ہورہے ہیں کہ کیسے زندہ و جاوید دوست اور سراپا زندگی کے استعارے کو بے رحم موت کے قافلے کا ہم سفر قرار دوں ۔
مرا در دیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد 
وگردم در کشم ترسم کہ مغز استخوان سوزد
 برادر ِاور دوست عثمان یار کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار اور متعدد صلاحیتوں سے نوازاتھا۔آپ دینی علوم و فنون کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ تھے۔ آپ اپنے عظیم المرتبت اور نامور والد گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسفندیار خان صاحب مدظلہ کے بڑے صاحبزادے تھے او رجامعہ دارالخیر گلستان جوہر کے مدیر اور ماہنامہ ’’ندائے الخیر‘‘ کے مدیراعلیٰ اور جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی رہنما تھے۔ حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ کے ساتھ آپ کی محبت وعقیدت اور جماعتی وابستگی مثالی تھی۔عمربھر ہرقسم کے بحرانوں میں جمعیت علماء اسلام کا ساتھ مرتے دم تک نبھاتے رہے۔راقم اور برادرم مولانا حامد الحق کے ساتھ بھی حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر آپ نے زندگی بھر تعلق اوردوستی کو قائم رکھا۔ آپ درس و تدریس ‘سیاست اور صحافت اور اپنے عظیم علمی مرکز کی بھاری ذمہ داریوں کواحسن طریقے سے نبھا رہے تھے۔ آپ جدید دور کے تقاضوں سے خوب واقف تھے‘ اِسی لئے جب پاکستان میں نجی ٹیلیویژن چینلز نے اپنے پروگراموں میں مذہبی پروگرام بھی شامل کئے تودیگر تمام
Flag Counter