Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

91 - 485
وزنین لم یتشاغل بینھما الا بعمل الوزن لم یحنث ولیس ذلک بتفریق]٢٧٢٩[ (٨٦)ومن حلف لیاتینَّ البصرة فلم یأتھا حتی مات حنث فی آخر جزء من اجزاء حیوتہ۔
 
وجہ  کیونکہ یہ تومجبوری ہے۔اور محاورے میں اس کو متفرق طور پر وصول کرنا نہیں کہتے ہیں۔محاورے میں اس وقت متفرق طور پر وصول کرنا کہیںگے جب ایک مرتبہ وزن کرکے تھاڑا سا لے لے پھر مجلس بدل جائے پھر دوسری مجلس میں تھوڑا سا وزن کرکے وصول کرے تب متفرق طور پر لینا شمار کریںگے۔
 اصول  مجبوری میں ایک ہی مجلس میں دو مرتبہ وزن کرنا متفرق طور پر لینا نہیں ہے۔یہ ایک ہی مرتبہ وصول کرنا ہے۔
]٢٧٢٩[(٨٦) کسی نے قسم کھائی کہ ضرور بصرہ جائے گا،پس وہ وہاں نہیں گیا یہاں تک کہ انتقال کر گیا تو زندگی کے آخری لمحے میں وہ حانث ہوگا۔  
وجہ  کیونکہ زندگی بھر امید کی جائے گی کہ وہ کبھی نہ کبھی بصرہ جائے گا۔البتہ موت کے وقت اندازہ ہوا کہ قسم کے مطابق بصرہ نہ جا سکا (٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے کہ آپۖ نے فرمایا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریںگے لیکن صلح حدیبیہ کے وقت واپس آگئے تو حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا آپۖ نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کا طواف کریںگے تو آپۖ نے فرمایا یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال طواف کریںگے۔جس کا مطلب یہ نکلا کہ زندگی میں کبھی بھی طواف کریںگے یہی کافی ہے۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ عن المسور بن مخرمہ ومروان قالا خرج رسول اللہ ۖ زمن الحدیبیة ... قلت او لیس کنت تحدثتنا انا سنأتی البیت فنطوف بہ ؟ قال بلی ! فاخبرتک انا نأتیہ العام ؟ قال قلت لا! قال فانک اتیہ ومطوف بہ (الف) (بخاری شریف ، باب الشروط فی الجہاد والمصالحة مع اہل ا؛حرب وکتابة الشروط ص ٣٧٧ نمبر ٢٧٣١ ٢٧٣٢ کتاب الشروط) اس حدیث میں ہے کہ زندگی میں کبھی بھی طواف کرسکوگے۔یہی مطلب ہے میرے اس کہنے کا کہ آپ لوگ بیت اللہ کا طواف کریںگے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری لمحے میں معلوم ہوگا کہ اب یہ قسم پوری نہیں کر سکے گا اس لئے اس وقت اس کو حانث قرار دیا جائے گا۔
 
حاشیہ  :  (الف)حضورۖ حدیبیہ کے زمانے میں مدینہ سے نکلے ... حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کیا آپۖ نہیں فرماتے تھے کہ ان شاء اللہ ہم بیت اللہ جائیںگے؟ آپۖ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ لیکن کیا یہ بتایا تھا کہ اس سال ہی جائیںگے؟ میں نے کہا نہیں ! آپۖ نے فرمایا تم لوگ بیت اللہ جاؤگے اور طواف بھی کروگے۔

Flag Counter