او لصًّا ]٢٩٦٦[(٢)واذا اُکرہ الرجل علی بیع مالہ او علی شراء سلعة او علی ان یقرَّ لرجل بالف درھم او یُواجر دارہ واُکرہ علی ذلک بالقتل او بالضرب الشدید او
رابع، ص ٨٦، نمبر ١٨٠٤٠ مصنف عبد الرزاق ، باب طالاق الاکراہ ، ج سادس، ص ٤١٠، نمبر ١١٤٢٢)اس اثر سے معلوم ہوا کہ صرف بادشاہ ہی کی جانب سے اکراہ ہو سکتا ہے۔
لغت توعد : وعد سے مشتق ہے ،دھمکی دے، لص : چور۔
]٢٩٦٦[(٢)اگرکسی آدمی کو مجبور کیا گیا اپنے مال کے بیچنے پر یا سامان خریدنے پر یا کسی آدمی کے لئے ہزار درہم کے اقرار کرنے پر یا اپنے گھر کو اجرت پر رکھنے پر یا مجبور کیا اس کو اس پر قتل کی دھمکی دے کر یا سخت مار کی یا قید کرنے کی،پس بیچ دیا یا خریدا تو اس کو اختیار ہے چاہے بیع باقی رکھے اور چاہے اس کو فسخ کردے اور مبیع واپس لے لے۔
تشریح کسی آدمی کو مجبور کیا کہ وہ اپنا مال بیچ دے۔یا کوئی سامان خریدے۔ یا کسی آدمی کے لئے ہزار درہم کا اقرار کرے۔یا اپنے گھر کو اجرت پر رکھے ۔اور مجبور بھی کیا قتل کرنے کی دھمکی دے کر یا سخت مار کی دھمکی دے کر یا قید کرنے کی دھمکی دے کر ۔اس نے ان مجبوریوں کی وجہ سے سامان بیچ دیا یا خرید لیا تو یہ خریدنا پکا نہیں ہے۔بلکہ اس کو اختیار ہے چاہے تو بیع اور شراء اور اجرت بر قرار رکھے یا چاہے توڑ دے اور مبیع واپس لے لے اور اجرت کی چیز واپس لے لے۔
وجہ ان مسائل کا قاعدہ یہ ہے کہ جو عقدایسا ہو کہ زبان سے نکلتے ہی جاری ہو جاتا ہو چاہے خوشی سے زبان سے نکالے یا مذاق سے نکالے یا کسی کے مجبور کرنے سے نکالے۔ ایسے عقود مجبور کرنے سے بھی کرے تو واقع ہو جائیںگے اور دو بارہ توڑ بھی نہیں سکتا۔ جیسے نکاح، طلاق، رجعت ،آزاد کرنا۔یہ سب کام کسی کے مجبورکرنے سے کیا تب بھی واقع ہو جائیںگے۔ مثلا کسی کے مجبور کرنے سے طلاق دیا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔یا کسی کے مجبور کرنے سے نکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا۔ یا کسی کے مجبور کرنے سے رجعت کی تو رجعت ہو جائے گی۔کیونکہ یہ مذاق سے بھی بولے تو رجعت ہو جاتی ہے،طلاق پڑ جاتی ہے اور نکاح ہو جاتا ہے اور آزادگی بھی واقع ہو جاتی ہے۔
وجہ پہلے کتاب الطلاق میں دلائل گزر چکے ہیں۔
اور ایسے عقد جو زبان سے نکلتے ہی واقع نہیں ہوتا بلکہ راضی خوشی سے عقد کرے تب عقد ہوتا ہے اور بعد میں فسخ کرے تو فسخ بھی ہوجاتا ہے۔ ایسا عقد مجبور اور اکراہ کرکے کرائے تو عقد تو ہو جائے گا لیکن عقد کرنے والے کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو اس کو برقرار رکھے اور چاہے تو اس کو توڑ دے۔ متن کے چاروں عقد ایسے ہی ہیں۔ مثلا مجبور کرکے بیع کروایا تو بائع کو اختیار ہوگا چاہے بیع برقرار رکھے چاہے بیع توڑ کرمبیع واپس کرے۔ مجبور کرکے کوئی سامان خریدوادیا تو مشتری کو اختیار ہوگا چاہے بیع برقرار رکھے اور چاہے تو فسخ کردے اور اپنا ثمن واپس لے لے۔ مجبور کر کے اقرار کروایا تو اس کو اختیار ہے چاہے اقرار پر برقرار رہے چاہے انکار کردے۔ مجبور کرکے گھر کو اجرت پر دلوایا تو اس کو اختیار ہے کہ
حاشیہ : (پچھلے صفحہ سے آگے) اس کو مجبوری شمار نہیں کریںگے۔