Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق جمادی الثانیہ 1433ھ

ہ رسالہ

8 - 18
خیر خواہی کرنا مسلمان کا حق ہے
مفتی محمد جمال الدین قاسمی

ایک مسلمان کی بھلائی چاہنا ، اس کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ کرنا اور اچھے امور کی طرف اس کی راہ نمائی کرنا اس کا حق ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ :

” ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے ، چھینک آئے تو الحمد للہ کہے ، دعوت دے تو قبول کرے ، بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرے ، انتقال ہوجائے تو وہاں موجود رہے اور جب وہ سامنے نہ ہو تو اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے“ ۔ (مسند اسحاق بن راہویہ ، حدیث نمبر : 328، ما یروی عن ابی ادریس )

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ ایک موٴمن کے دوسرے موٴمن پر چھے حقوق ہیں : اس میں بھی مذکورہ امور ہی کو شمار کیا گیا ہے البتہ اس میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ذکر موجود ہوتو بھی اور موجود نہ ہوتو بھی دونوں صورتوں میں ہے ، حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
”وینصح لہ إذا غاب او شہد“ (ترمذی، حدیث نمبر : 2737 ، باب ما جاء في تشمیت العاطس)
” اور مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرے، خواہ وہ سامنے موجود ہو یا نظروں سے دور ہو “ ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہر حال میں اس کا حق ہے اور بعض احادیث میں جو غائبانہ خیر خواہی کا ذکر ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سامنے موجود ہوتو اس کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ نہیں کرنا چاہئے ؛ بلکہ یہ سمجھانا مقصود ہے کہ سامنے تو ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خود کو خیر خواہ ثابت کرتا ہے ؛ البتہ غائبانہ بھی ہو تو اس میں تملق ، چاپلوسی اور دکھاوا مقصود نہیں ہوتا ہے ، واقعی محبت اور اخلاص پر مبنی وہ خیر خواہی ہوتی ہے ، اس پہلو پر توجہ دلانے کے لیے بعض احادیث میں صرف غائبانہ خیر خواہی کا ذکر ہے۔ (جامع العلوم والحکم: 224/1، الحدیث السابع: الدین النصیحة)

اسی طرح اگر کوئی کسی معاملہ میں مشورہ لے یا نصیحت کا طالب ہو تو صحیح مشورہ دینا اوراس میں اس کی خیر خواہی کرنا بھی اس مسلمان کا حق ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ، ان میں سے ایک حق یہ بھی ہے :
” وإذا استنصحک فانصح لہ․ “(مسلم ، حدیث نمبر : 2162، باب من حق المسلم رد السلام)
” اور جب تم سے نصیحت و خیر خواہی کا طالب ہوتو اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرو ۔“

نصوص بالا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا، خواہ وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے ، اسی طرح وہ سامنے موجود ہو یا نہ ہو ، بہر صورت اس کا حق ہے اور اس ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے تعلق سے فکر مند رہنا چاہیے ۔

نصح و خیر خواہی انبیا کا شیوہ تھا
انبیا کرام علیہم السلام کی جماعت اللہ تعالیٰ کے بعد انسانیت کی سب سے بڑی خیر خواہ جماعت تھی ، اپنی اپنی قوم کے تعلق سے جیسی ان کو فکر مندی تھی اور خدا سے ان کا رشتہ جوڑنے اور مضبوط کرنے کے بارے میں جس دل سوزی سے وہ حضرات کام لیا کرتے تھے ،وہ انہی کا حصہ ہے ، کوئی دوسرا ان کی ہم سری کا دعوی بھی نہیں کرسکتا اور اس میں وہ حضرات اتنا آگے بڑھ جاتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے روکنا پڑتا تھا ، (الشعراء : 3) کئی انبیا کے بارے میں نصح و خیر خواہی کا ذکر قرآن پاک میں مذکور ہے ، حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا : ﴿أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْن﴾․(الأعراف : 68)
” میں تمہیں پیغامات پہنچاتا ہوں اپنے رب کے اور میں تمہارا قابل اعتماد خیر خواہ ہوں “ ۔

اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا :
﴿أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنْصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْن﴾․(الأعراف :62)
” تمہیں پیغامات پہنچاتا ہوں اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تم سب کی اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے“

اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے یوں فرمایا : ﴿یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لاَّ تُحِبُّوْنَ النَّاصِحِیْنَ﴾․(الأعراف :79)
” اے میری قوم ! میں نے تو پہنچا دیا تھا تم کو پیغام اپنے رب کا، اورپوری خیر خواہی کی تھی تمہارے لیے، مگر تم لوگ ہو کہ تم پسند ہی نہیں کرتے اپنے خیر خواہوں کو“ ۔

اور حضرت شعیب علیہ السلام نے جب اپنی قوم پر اتمامِ حجت کردی اور قوم اپنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر تلی رہی تو آخر میں انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ﴿یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ﴾․(الأعراف : 93)
” اے میری قوم!بے شک میں نے پہنچا دیے تم کو پیغامات اپنے رب کے اور پوری طرح خیرخواہی کی تمہارے لیے “

خیر خواہی صالحین کی عادت تھی ، انبیائے کرام علیہم السلام کے نقش قدم پر چلنے والے جن کو صلحاء ، دیندار اور متقی کہا جاتا ہے ، وہ بھی عا م مسلمانوں کے تعلق سے شفقت و ہم دردی اور خیر خواہی کا جذبہ رکھتے تھے اور جن کا تعلق خدائے تعالیٰ سے جتنا زیادہ استوار ہوتا تھا ، اس کے بقدر مخلوق خدا سے ان کو ہم دردی اور خیر خواہی ہواکرتی تھی ، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ :

” بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ارشاد فرماتے تھے کہ جس ذات کے قبضہ میں میری جان ہے ، اگر تم چاہو تو میں خدا کی قسم کھاکر کہہ سکتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندے وہ حضرات ہیں جو بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کرتے ہیں اور انہیں ایسے اعمال کی ترغیب دیتے ہیں ، جس سے اللہ ان سے محبت کرنے لگیں اور روئے زمین پر نصح و خیر خواہی کو عام کرتے ہیں “․(جامع العلوم والحکم : 224/1 ، الحدیث السابع)

ابن علَیّہ حضرت ابو بکر مزنی سے نقل کرتے ہیں کہ صحابہٴ کرام ؓ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا جو نمایاں مقام ہے اور ان میں سب سے بڑھ کر صاحب فضل وکمال ہیں ، اس کا سبب صرف نماز اور روزہ نہیں ہے ؛بلکہ ان کو یہ مقام ان کے دلی احوال کی وجہ سے حاصل ہوا ، ان کے دل میں اللہ کی محبت اور مخلوق سے خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ (حوالہ سابقہ ، ص : 225) حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں کہ جن کو بھی اللہ تعالیٰ کا قرب اور ان سے خصوصی تعلق قائم ہوا ہے ، میرے خیال میں نماز و روزے کی کثرت سے نہیں ہوا ؛بلکہ سخاوت ، دل کی صفائی اور لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کے نتیجے میں حاصل ہوا ، (حوالہ سابقہ) حضرت عبد اللہ بن مبارک سے پوچھا گیا کہ بہترا ور افضل عمل کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ سے خیر خواہی سب سے اچھا عمل ہے۔ (حوالہ سابقہ) ظاہرہے کہ جو اللہ کے ساتھ خیر خواہی کرے گا وہ اس کی مخلوق کے ساتھ ضرور خیر خواہی کرے گا ، بعض اسلاف سے منقول ہے کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی مطیع و فرماں بردار ہوجائے ، اگرچہ اس جد و جہد میں میرے گوشت کو قینچی سے کاٹ ڈالاجائے ۔ (حوالہ سابقہ)

حضور صلى الله عليه وسلم کا جریرؓ سے خیر خواہی پر بیعت
حضرت جریر بن عبد اللہ بجلیؓ سے منقول ہے کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں بیعت ہونے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :

” اے جریر ! اپنا ہاتھ بڑھاوٴ ، حضرت جریر ؓنے عرض کیا : آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لینا چاہتے ہیں ؟ آپ صلى الله عليه وسلمنے فرمایا : اسلام لانے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کرو “ ․(المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : 3465، داوٴد بن یزید اودی)

اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہؓ جب ایک جگہ کے گورنر تھے تو اس وقت انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلمکے دست مبارک پر ابتداءً جو بیعت کی تھی اس میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا ذکر نہیں ہوا تھا ، میں بیعت سے فارغ ہوکر جب واپس جانے لگا تو آپ صلى الله عليه وسلمنے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میں صرف مذکورہ امور پر بیعت کرنے سے راضی نہیں ہوں ، تم اس بات پر بھی مجھ سے بیعت کرو کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کیا کروگے ، حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس پر بھی بیعت کی ۔ (حوالہ سابقہ ، حدیث نمبر :2457 ، المستظل بن حصین عن جریر )

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جریرؓ نے حضور صلى الله عليه وسلمسے عرض کیا کہ میں آپ کے دست مبارک پرہجرت کرنے کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلمنے ہجرت پر مجھ سے بیعت لے لی اور یہ شرط بھی لگائی کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروگے ، میں نے اس شرط کو قبول کیا اور اس پر بھی بیعت کی ۔ (حوالہ سابقہ ، حدیث نمبر : 2464 ، زیاد بن علاقة عن جریر)

ان احادیث سے نصح و خیر خواہی کی اور زیادہ اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلمنے بلاکر دوبارہ اس پر بیعت لی اور اپنی طرف سے اس کا اضافہ کرکے اس پر بھی بیعت لی ؛ البتہ بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلمنے جن امور پر بیعت لی تھی ان میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی ابتدا ہی سے شامل تھی ۔(دیکھیے : بخاری، حدیث نمبر: 57، باب قول النبي ا الدین النصیحة الخ)

حضرت معاویہ ؓ، حضرت جریر ؓ کے درمیان خط و کتابت
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہؓ نے اہلِ کوفہ کو ایک فوج تیار کرنے کا حکم دیا ، کوفہ میں حضرت جریر ؓ اور ان کے صاحب زادے بھی قیام پذیر تھے ، حضرت معاویہ ؓ نے ان کو ایک خصوصی خط لکھا کہ فوج میں شرکت آپؓ اور آپ کے صاحب زادے کے لیے ضروری نہیں ہے ، میں آپ دونوں کا اس سے استثنا کرتاہوں۔ حضرت جریر ؓنے حضرت معاویہؓ کو جواباً خط لکھا کہ میں نے حضور اکرم صلى الله عليه وسلمکے دست مبارک پر اسلام پر بیعت کی، آپ صلى الله عليه وسلمنے میرا ہاتھ پکڑ کر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بھی شرط لگائی تھی ، اگر آپ ترتیب دی جانے والی فوج میں ہم لوگوں کی شرکت کے تعلق سے سنجیدہ ہیں تو ہم اس میں ضرور شریک ہوں گے ، ورنہ ہم اتنا مال ضرور دیں گے جس سے ایک فوجی کی ضرورت پوری ہوسکے ۔(الطبقات الکبری، تذکرہ جریر بن عبد اللہ)

سامان خریدتے وقت حضرت جریر ؓکا طرز عمل
حضرت جریر ؓ جس کسی سے کوئی سامان خریدتے اور ثمن بیچنے والے کو حوالہ کردیتے تو فرماتے :
” میں نے تم سے جو چیز خریدی ہے ظاہر ہے کہ وہ مجھے پسند ہے اور جو ثمن ہم نے تمہارے حوالہ کیا ہے وہ اس سامان کے مقابلہ میں مجھے محبوب نہیں ہے ، اب تم کو ایک بار پھر غور کرلینا چاہیے کہ تم یہ سامان مجھ سے بیچنے پر راضی ہو یا نہیں ؟ تمہیں اختیار ہے، چاہے اپنا سامان اپنے پاس رکھو یا سامان مجھے دے کر اس کا ثمن تم لے لو ۔(السنن الکبری، حدیث نمبر : 10451، باب المتبایعان بالخیار)

سامان بیچتے وقت حضرت جریر ؓ کا معمول
جس طرح سامان خریدتے وقت حضرت جریر ؓ سامان بیچنے والے کو اچھی طرح غور و فکر کرنے کی تلقین کرتے تھے ، اسی طرح جب آپؓ کوئی سامان بیچتے تو خریدنے والے کو سامان کے عیوب اور اس کی خرابی سے اچھی طرح واقف کرادیا کرتے تھے ، پھر فرمایا کرتے کہ :
” اب تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو لو، ورنہ چھوڑ دو ، بعض حضرات ان سے کہتے ہیں کہ آپ اس طرح اگر سامان فروخت کریں گے تو گھاٹے میں رہیں گے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کے دست مبارک پر بیعت ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے تعلق سے کی ہے اور عیوب کو چھپاکر سامان فروخت کرنا خیر خواہی کے خلاف ہے ؛ اس لیے میں یہ کام ہر گز نہیں کرسکتا “ (المعجم الکبر للطبراني، حدیث نمبر : 2510 ، عون بن عبد اللہ بن عتبہ عن جریر)

حضرت مغیرہ ؓکی وفات پر حضرت جریرؓ کی تقریر
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ایک جلیل القدر صحابی ہیں ، حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں وہ کوفہ کے گورنر تھے ، ۵۰ھ میں ان کا انتقال ہوا ، ایک روایت کے مطابق انہوں نے اپنا نائب اپنے صاحب زادے عروہ کو بنایا تھا اور دوسری روایت کے مطابق حضرت جریر بن عبد اللہ بجلیؓ کو بنایا تھا ، (فتح الباری: 139/1 ، باب قول النبي ا الدین النصیحة) حضرت جریر بن عبد اللہؓنے ان کے انتقال کے بعد لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی ، جس میں لوگوں سے پُر سکون رہنے کی اپیل کی اور جب تک حضرت امیر معاویہؓ کی طرف سے کسی گورنر کی تقرری نہیں ہوتی ، اس وقت تک کوئی اقدام نہ کریں اور جلد ہی وہ اس کا انتظام کریں گے ، پھر فرمایا کہ اپنے سابق کے لیے دعائے مغفرت کرو ، اگر ان سے کوئی زیادتی کسی کے حق میں ہوگئی ہو تو معاف کردو ؛ کیوں کہ وہ بھی عفو و درگذر سے کام لیا کرتے تھے ، اس کے بعد فرمایا کہ میں حضور صلى الله عليه وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو میں نے آپ صلى الله عليه وسلمسے عرض کیا کہ میں اسلام پر بیعت کرنا چاہتاہوں تو آپصلى الله عليه وسلم نے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بھی شرط لگائی ؛ چناں چہ میں نے اس پر بھی بیعت کی تھی ، اس مسجد کے رب کی قسم ! میں تم سبھوں کا خیر خواہ ہوں ، پھر استغفار کرتے ہوئے ممبر سے نیچے اترآئے ۔ (بخاری ، حدیث نمبر : 58 ، باب قول النبي صلى الله عليه وسلمالدین النصیحة)

بائع کے ساتھ خیر خواہی کا نادر نمونہ
حضرت جریر ص نے حضور اکرمصلى الله عليه وسلم کے دستِ مبارک پر تمام مسلمانوں سے خیر خواہی کی بیعت کی تھی اور وہ اس معاملہ میں کبھی چوکتے نہ تھے ، ایک مرتبہ ان کے ایک وکیل نے تین سو درہم میں ان کے لیے گھوڑا خریدا ، جب آپ ؓ نے گھوڑا دیکھا تو محسوس ہوا کہ یہ تو چار سو درہم کے مساوی ہے تو آپ ؓ نے گھوڑے کے مالک سے فرمایا کہ تم اسے چارسو درہم میں بیچنے پر راضی ہو؟ اس نے کہا بالکل راضی ہوں ، پھر آپ کو خیال ہوا کہ یہ تو پانچ سوکا لگتا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا : اسے پانچ سو میں بیچو گے ؟ مالک نے رضامندی کا اظہار کیا ، پھر ان کو خیال ہوا کہ یہ تو چھ سو درہم کا لگتا ہے، پھر اسی طرح کا سوال و جواب ہوا ، پھر سات سو ، پھر آٹھ سو تک پہنچے اور جس گھوڑے کی قیمت تین سو درہم طے ہوچکی تھی ، بائع بھی تین سو درہم پر دینے کے لیے رضامند تھا ؛ لیکن آپ ؓ نے یہ خیر خواہی کے خلاف سمجھا کہ جو گھوڑا آٹھ سو کا ہو، اسے صرف تین سو میں خریدا جائے ؛ چناں چہ آپ ؓ نے بائع کو آٹھ سو درہم دے کر گھوڑا خریدا ۔ (تہذیب الأسماء واللغات: 148/1، حرف الجیم)

خیر خواہی کا یہ اعلیٰ درجہ ہے ، وہ حضرات اسی کے لیے پیداکیے گئے تھے ، ظاہر وباطن ان کا بالکل یکساں تھا ۔

نصیحت عربی لفظ ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ اگرچہ خیرخواہی سے کیا جاتا ہے ؛ لیکن خیر خواہی کا لفظ نصیحت کے پورے مفہوم کو ادا کرنے سے قاصر ہے ، علامہ خطابی (م:388) فرماتے ہیں کہ لفظ نصیحت بہت ہی جامع کلمہ ہے ، جس کی نظیر دوسری زبانوں میں نہیں ملتی ، دیکھنے میں تو ایک لفظ ہے ؛ لیکن اپنے اندر سامنے والے کے لیے ہرطرح کی خیر و بھلائی کو سموئے ہوئے ہے ، علامہ مازری مالکی (م:536) فرماتے ہیں کہ نصیحت عربی زبان میں ”نصحت العسل “ سے مشتق ہے ، یہ اس وقت بولاجاتا ہے جب کہ موم سے شہد کو اچھی طرح الگ کرلیا جائے اور بالکل صاف ستھرا کرلیا جائے، اس لحاظ سے نصیحت کا مطلب یہ ہوگا کہ مخاطب کو اخلاص کے ساتھ کوئی بات کہی جائے۔ یا ”نصح“ بمعنی سلائی سے مشتق ہے ، اس صورت میں نصیحت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اپنے پراگندہ حال بھائی کے احوال کی اصلاح کی جائے ، جس طرح سوئی سے پھٹے ہوئے کپڑے کی اصلاح کی جاتی ہے ، اسی سے توبہٴ نصوح آتا ہے ، گویا گناہ دین کے قبا کو چاک کردیتا ہے اور توبہ اس کی اصلاح و درستگی کردیتی ہے ۔ (فتح الباری :136/1 ، باب قول النبي صلى الله عليه وسلمالدین النصیحة الخ)

خیر خواہی کی اہمیت
اسلام میں خیر خواہی کی بڑی اہمیت ہے ، اللہ کے نزدیک کسی انسان کے ساتھ خیرخواہی کرنا محبوب ترین عمل ہے ، حضرت امامہؓ آپ صلى الله عليه وسلمکا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
” میرے بندے کے اعمال میں محبوب ترین عمل میرے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے “۔ (مسند احمد ، حدیث نمبر :22191 ،من حدیث ابی امامة الباہلی)

اور طبرانی کی روایت میں ہے : ”أحب عبادة عبدي إلي النصیحة “․ (المعجم الکبیر ، حدیث نمبر : 7880 ، حدیث عثمان بن أبي عاتکة)
” میرے بندے کی میرے نزدیک محبوب ترین عبادت دوسروں کے ساتھ نصح وخیر خواہی کرنا ہے “ ۔

حضرت حسن بصری حضرت ابو الدرداء ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے قسم کھاکر فرمایا کہ :
” اللہ کے نزدیک بندوں میں سے محبوب تر بندے وہ ہیں جو سورج اور چاند کی نگرانی کرنے والے (یعنی موٴذنین) ہیں اور جو چلتے پھرتے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے والے ہیں “۔(الزہد لوکیع ، باب من یحب الرب إلی خلقہ)

حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں اور خیر خواہی جن کا شیوہ ہوتا ہے وہ در حقیقت روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں۔ (شرح صحیح البخاري لابن بطال :130/1) بعض تابعین سے منقول ہے کہ اگر میں جامع مسجد میں داخل ہوں اور وہ لوگوں سے بھری ہوئی ہو اور مجھ سے پوچھا جائے کہ ان سب میں بہتر کون ہے؟ تو میں جواب دوں گا کہ جو لوگوں کے ساتھ زیادہ خیر خواہی کرنے والا ہے اور اگر یہ پوچھا جائے کہ ان میں سب سے بُرا کون شخص ہے ؟ تو میں کہوں گا کہ جو لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ زیادہ کرنے والا ہے ۔ (إحیاء علوم الدین : 77/2 ، کتاب آداب الکسب والمعاش)

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب تر بندے وہ ہیں جو اللہ کی محبت لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورروئے زمین پر نصح و خیر خواہی کرنے کو عام کرنا جن کا عظیم مقصد ہوتا ہے ۔ (الزہد لأحمد بن حنبل، حدیث نمبر : 1648، أخبار الحسن بن أبي الحسن )

خیر خواہی قول و فعل دونوں سے ہو
علامہ ابن بطال (م:449ھ) کہتے ہیں کہ بعض احادیث میں نصح و خیر خواہی کو دین قرار دیا گیا ہے ، تمیم داری کی حدیث میں ہے : ” الدین النصیحة “ (مسلم ، حدیث نمبر : 55، باب بیان أن الدین النصیحة) ”دین خیر خواہی کا نام ہے “ اوردین قول وفعل کے مجموعہ کا نام ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت جریرؓ سے بیعت آپ صلى الله عليه وسلمنے جس طرح نماز وزکوة پر لی، جو اعمال کے قبیل سے ہے ، اسی طرح نصح و خیر خواہی کرنے پر بھی لی ہے ؛ لہٰذا خیر خواہی قول و فعل دونوں سے ہونا چاہیے ، (شرح بخاری لابن بطال : 129/1) قولی خیر خواہی تو یہ ہے کہ جو چیزیں مفید ہوں، خواہ دنیوی لحاظ سے یا دینی اعتبار سے ، اس کی طرف لوگوں کی راہ نمائی کی جائے او ر انہیں باخبر کیا جائے ، اخلاص ، نرمی اور شفقت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا جائے ، عبادات اور دیگر امور خیر میں انہیں رغبت دلائی جائے اور فعلی خیر خواہی یہ ہے کہ بڑوں کی تعظیم و توقیر کی جائے ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا جائے ، جو اپنے لیے پسند ہو وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کیا جائے ، حسد اور دھوکہ دہی سے گریز کیا جائے ، عیوب کو دور کرنے کی فکر اور اس کی پردہ پوشی کی جائے ، ضرر رساں چیزوں سے ان کو محفوظ رکھا جائے ، امور خیر کے لیے راہ ہم وار کی جائے اور ان کے اموال و اعراض کی حفاظت کی شکلیں پیدا کی جائیں۔ (نووی حاشیہ مسلم، حدیث نمبر :95 ، باب الدین النصیحة)

نصیحت کا حکم
علماء کا کہنا ہے کہ نصح و خیر خواہی کرنا فرض کفایہ ہے ، اگر ایک صاحب بھی اس کو انجام دے دیں تو سب سے فریضہ ساقط ہوجائے گا ، نیز نصیحت بقدر استطاعت ضروری ہے ، جب کہ نصیحت کرنے والے کو معلوم ہو کہ مخاطب اس کی نصیحت کو قبول کرلے گا اور کہا مان جائے گا اور یہ بھی اطمینان ہو کہ نصیحت کی وجہ سے اسے ایذا و تکلیف نہیں پہنچے گی اوراگر اس کا خوف ہو تو اسے نصیحت نہ کرنے کی گنجائش ہے اور چاہے تو عزیمت پرعمل کرے اور پیش آنے والی تکلیف کو برداشت کرے ۔ (مرقاة المفاتیح، حدیث نمبر : 4966 ، باب الشفقة والرحمة علی الخلق)

صاحبِ مشورہ کے ساتھ خیر خواہی
نصح و خیر خواہی کا ایک اہم پہلو مشورہ بھی ہے کہ اگر کوئی مشورہ طلب کرے تو ان کو اچھے سے اچھا مشورہ دیا جائے ، حدیث پاک میں مشورہ دینے والے شخص کو امانت دار کہا گیا ہے۔ (حلیة الأولیاء : 190/6، تذکرہ سلام بن أبي مطیع) اس لیے مشورہ دیتے وقت خیر خواہی پورے طور پر ملحوظ رکھے ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ :
” جب میں اپنے پہلے شوہر کی عدت سے فارغ ہوگئی تو مجھے پیغام نکاح معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم دونوں نے دیا تو میں مشورہ کی غرض سے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پہنچی ، اور آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے ان دونوں کے پیغام کا ذکر کیا ، اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ابو جہم تو عام طور پر سفر میں رہتے ہیں ، یا وہ اپنی بیوی کو تنبیہ اور زجر وتوبیخ کرتے رہے ہیں ، اس کے ساتھ خوش گوار زندگی مشکل سے گذرے گی اور جہاں تک معاویہ کی بات ہے تو وہ ایک محتاج وغریب آدمی ہیں ، معاشی پریشانی تم کو لاحق ہوگی ؛ اس لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ، اولاً مجھے یہ مشورہ اچھا نہیں لگا ، مگر آپ صلى الله عليه وسلمکے دوبارہ ارشاد فرمانے پر میں نے اسامہؓ سے نکاح کرلیا اور ان کے ساتھ میری ازدواجی زندگی واقعةً بڑی اچھی رہی “ ۔ (مسلم ، حدیث نمبر : 1480 ، باب المطلقة ثلاثا)

آپ صلى الله عليه وسلمنے اگرچہ پیغام دینے والوں کے عیب کا ذکر کیا ہے ؛ لیکن مقصود چوں کہ مشورہ لینے والی صاحبہ کے ساتھ خیر خواہی کرنا تھا اور اس کے بغیر چوں کہ صحیح خیر خواہی نہیں ہوسکتی تھی ؛ اس لیے آپ صلى الله عليه وسلمکو عیب ذکر کرنا پڑا اور پھر ایک تیسرے صاحب کی نشان دہی اورایک گونہ اس کے ساتھ نکاح کرنے پر اصرار کرکے واقعةً بہت بڑی خیر خواہی آپ صلى الله عليه وسلم نے ان صاحبہ کے ساتھ کی تھی اور بعد میں ان کو بھی آپ صلى الله عليه وسلمکے صحیح مشورہ دینے کا اعتراف کرنا پڑا ۔(جاری)
Flag Counter