انسدادِ فواحش، چند تدابیر
مولانا محمد اکرم غنا مظاہری
الله تعالیٰ نے اپنی بے شمار مخلوقات میں انسان کو سب سے افضل واشرف بنایا۔ اس افضل واشرف مخلوق کا مقصدِ تخلیق اعلیٰ، طریقہٴ حیات تمام مخلوقات سے علیحدہ وجداگانہ، ضروریات دیگر مخلوقات سے مختلف، مزاج میں نفاست وپاکیزگی، نفسیات خوش سلیقگی وعمدگی کی خوگر، ضروریات وخواہشات کی تکمیل میں مہذب وشائستگی، اچھے اخلاق وکردار کی پابندی ، معاشرتی تمدن او رمذہبی قوانین کے دائرہ حدود میں رہ کر بے حد محتاط اور شریفانہ انداز میں بشری ونفسانی تقاضوں کی تکمیل اس اشرف ومکرم مخلوق کا طغرہٴ امتیاز ہے۔
مگر موجودہ دور میں انسان ان تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر آزادی وآوارگی کے ساتھ اپنی ضروریات وخواہشات کی تکمیل کا ایسا عادی ہو چکا ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ بے حیائی وفحاشی سے خالی نہیں رہا۔ آرٹ اور ذوق جمال کا خوبصورت نام دے کر عریانیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ادب کے نام پر اخبارات ورسائل اور لٹریچر میں فحش مضامین کی اشاعت عام ہو چکی ہے۔ شہوت انگیز ننگی تصاویر شائع کرکے اسکول وکالج میں کافی مقدار میں پہنچایا جارہا ہے۔ برہنہ تصویریں گھروں اور دوکانوں کی زینت بنتی جارہی ہیں ۔ سرمایہ دار طبقہ عورتوں کی عزت وآبرو کو تجارت کی ترقی کا ذریعہ تصور کرتا ہے ۔ ہر تاجر اپنے اشتہار کے لیے کسی خاتون کی عزت وعصمت کا سودا کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہفت روزہ، پندوہ روزہ ، ماہنامے اور دیگر رسائل کے اند رایسی ایسی تصاویر شائع کی جاتی ہیں کہ کوئی شریف النفس انسان کتابوں کی دوکان اور بک اسٹالوں کے سامنے کھڑا ہونا بھی پسند نہیں کرتا، ترقی یافتہ دور میں انٹرنیٹ اور فون کے ذریعہ جو تصاویر عام کی جارہی ہیں اگر ان تصاویر کو کسی جانور کے سامنے رکھا جائے تو جانور بھی شرماجائے۔ پارکوں ، گارڈنوں کا حال بھی ناقابل بیان ہے، ٹی وی کا فحش ہونا تو شاید لوگوں کے ذہن ودماغ سے نکل چکا ہے ، اب وہ معلومات او رتسکین نفس کا بہترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے ، حد یہ ہو گئی کہ تعلیم ( جس کا تعمیرانسانیت میں اہم کردار ہے ) میں بھی حفظان صحت کے نام پر جنسی وصنفی مضامین کو داخل نصاب کرکے پڑھے لکھے اور شریف مزاج طلباء وطالبات کو بھی بے حیائی کا شکار بنا دیا گیا ہے ، الغرض ہر سو فحاشی وبے حیائی کا بازار گرام ہے۔
انسان کو محض ایک حیوان سمجھ لیا گیا ہے، جس کے لیے اخلاقی، معاشرتی، تمدنی اور مذہبی کسی قسم کی کوئی پابند ی نہیں ۔ حیوانوں کی طرح انسان کے دونوں صنف اختلاط کے ساتھ رہیں او رجب چاہیں جیسے چاہیں حیوانی خواہشات کی تکمیل کرتے رہیں۔ آزادیٴ نسواں اور مساوات حقوق اسی گندی سوچ او رناپاک ارادے کا شاخسانہ ہے۔ الله تعالیٰ نے بنی نوع انسانی کی بقا وتحفظ کے لیے دیگر تمام انواع کی طرح بنی نوع انسانی کو بھی دو صنف بنایا، مرد وعورت او رہر صنف کے جسم وجثہ اور ذہن ودماغ کو مختلف بنایا اور اسی فطری وتخلیقی صلاحیت واستعداد کی بنیاد پر ہر ایک کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی۔ مگر فطرت کے باغیوں نے محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے آزادی نسواں اورمساوات کی آواز بلند کی اور تقاضہٴ فطرت کو عورت کے حق میں ظلم قرار دیا، حالاں کہ صرف تھوڑی سی توجہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فطرت کا قانون عین انصاف ہے ، آزادی او رمردوں کی ہم رکابی (مساوات) سراسر ظلم ہے۔
اگر فطرت انسانی سے بغاوت نہ کی جاتی اور تقاضہٴ فطرت پر عمل کرتے ہوئے مرد وعورت کو اپنی اپنی جگہ رکھ کراس سے متعلقہ ذمہ داری سونپی جاتی تو آج بے حیائی وفحاشی کا سیلاب آتا، نہ عورتوں کی عزت وعصمت سے کھلواڑکیا جاتا اور نہ ہی مظلوم عورتوں پر دوہری ذمہ داری ( تربیت اولاد ماں کے پیٹ سے باشعو رہونے تک اورکسب معاش) کے ذریعے ظلم ہوتا۔ ضرورت ہے اس بات کی فطرت کے تقاضہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورت کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے، اگر اس پر عمل ہو جائے تو ان شاء الله سو فی صد فواحش پر کنٹرول ہو جائے گا۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کو حکومت صرف دیکھ ہی نہیں رہی ہے، بلکہ حکومت ان تمام چیزوں کی مدد کر رہی ہے اور حد تو یہ ہو گئی حکومت فواحشات کے کرنے پرجبر کرتی ہے ، جنسی وصنفی مضامین کا داخل نصاب کرنا اس کی واضح دلیل ہے۔ حکومت کی نظر میں فحاشیت وعریانیت کوئی جرم ہی نہیں ، جب کہ فحاشیت کا رواج انسانی عزت وآبرو پر حملہ ہے، مگر حکومت کی نگاہ میں یہ جرم ہی نہیں، معلوم نہیں”ہتک عزت، کا قانون کس مرض کی دوا ہے؟
انسان نے جب خالق کے عطا کردہ ضابطہٴ حیات کو ترک کرکے اپنے خود ساختہ قوانین پر عمل کرنا شروع کیا تو وہ قدم قدم پر گم راہی کا شکار ہوا، جس طرح آزادیٴ نسواں او رمساوات کو اپنے لیے ترقی سمجھا اسی طرح ”شخصی آزادی“ کو اپنا حق سمجھ کر ترقی وکام یابی کا بہترین ذریعہ سمجھا۔ فطرت کے باغیوں نے” شخصی آزادی“ کا نعرہ بلند کیا ، حقیقت سے نا آشنا افراد نے اس پر فریب ودل فریب نعرے کو تقویت پہنچائی، حکومت نے قانونی حیثیت دے کر فحاشیت کے تمام راستے ہم وار کر دیے۔ جب کہ شخصی آزادی میں جماعت پر فرد کو ترجیح دی جاتی ہے، یعنی ایک شخص کے نفع کی خاطرسب کچھ قربان، خواہ باقی عوام الناس کا قتل ہی کیوں نہ ہو ۔
شخصی آزادی کی بنا پر اگر کوئی مرد وعورت اپنی رضا مندی سے کوئی برا کام کر لے تو کسی کو بولنے کا حق نہ ہو گا۔ اندازہ لگائیے ایسے وقت میں، جب کہ قانون فحاشیت کی آزادی دے ، کس قدر برے حالات ہوں گے ۔ اسی مطلق العنانی کا نتیجہ ہے کہ اختلاط مردوزن عام ہو چکا ہے ، تعلیمی میدان سے لے کر کاروباری دفاتر تک، کوئی شعبہٴ حیات خالی نہیں رہا۔ انسانی بقا کا تعلق اجتماع اور آپسی روابط پر موقوف ہے، لہٰذا انسان کا ہر فعل متعدی ہے، بلکہ انسان کے خیالات کا بھی دوسرے پر اثر ہوتا ہے ۔ جب معاشرہ کے کسی ایک فرد کے برے عمل کا اثر دوسرے تک پہنچتا ہے تو پھر شخصی آزادی کے نام پر جنسی آوارگی میں کسی فرد کو آزاد چھوڑنا کہاں تک درست ہے؟ نیز اگر حکومت جنسی معاملہ میں شخصی آزادی کی بنا پر ہر ایک کو مکمل اختیار دیتی ہے تو پھر دوسرے معاملے میں شخصی آزادی کیوں نہیں ؟ گاڑی چلانے، دواخانہ قائم کرنے، کاروبار چلانے اور دیگر کاموں میں قانون کی پابندی کیوں؟ افسوس! حکومت تمام چیزوں میں جماعت کے نفع وفائدہ کے لیے فرد کو قانون کا پابند بناتی ہے، مگر جنسی اور صنفی چیز میں فرد کو بالکل آزاد کر دیتی ہے جب کہ دیگر چیزوں میں جماعت میں سے کسی فرد کا نقصان یا اسباب کا نقصان ہوتا ہے او رجنسی بے راہ روی میں سیدھے بنی نوع انسان ہی خطرے میں ہے۔
عالم انسانیت کے لیے انتہائی غور وفکر کا مقام ہے کہ جنسی بے راہ روی جو انسانیت کے لیے سم قاتل ہے ، اس کے خلاف کیوں آواز بلند نہیں کی جاتی؟ اگر ملک میں کہیں ایک دھماکہ ہو او راس سے چند جانوں کا نقصان ہو جائے تو پورے ملک میں بے چینی پھیل جاتی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ دن بدن فواحش کی کثرت، نت نئے آلہٴ فواحش کی ایجاد نے انسانیت کو ہلاکت وبربادی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے، مگر اس پر کوئی بے چینی نہیں۔ ضرورت ہے اس بات کی کہ انسانیت کا ہر طبقہ اس میدان میں قدم بڑھائے اور سب مل کر اس جرم کا سد باب کریں۔
علماء اپنی تقریر ووعظ میں اسلامی تہذیب وتمدن کے فوائد او رمغربی تہذیب وتمدن کے نقصانات کو خوب واضح انداز میں بیان کریں! والدین اپنی اولاد کی خوب نگرانی کریں، حضرات انبیا، صحابہ ،اولیا، اکابرین او ربزرگان دین کے طہارت وپاکیزگی کے واقعات سے خوب ذہن سازی کریں۔ تعلیمی ادارے کے ذمہ داران اس بات کا اہتمام کریں کہ الله تعالیٰ نے جس طرح دونوں صنفوں کی ذمہ داریاں الگ الگ رکھی ہیں اسی طرح ان کی ذمہ داری کے اعتبار سے ان کا تعلیمی نصاب متعین کریں ! یہ وہ بنیادی چیز ہے جس سے خود بخود اختلاط مرد وزن ختم ہو جائے گا۔ جوبچیاں مردوں ہی کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیں تو ان کو اس کی تباہی وبربادی کا احساس دلا یا جائے۔ نیز دوران تعلیم اس بات کا مکمل اہتمام کیاجائے کہ بچے اور بچیوں کے لیے نظام تعلیم بالکل الگ ہو ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو انسانیت کی آبروریزی اور انسانیت کے خون کے ذمے دار یہی ادارے والے ہوں گے، جیسا کہ آئے دن کی خبریں اس پر شاہد ہیں ۔ عیاں راچہ بیاں۔ حکومت کے عہدوں پر فائز قائدین کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ ایسا قانون پاس کرائیں جن سے ان فواحش پر روک لگا کر انسانیت کا تحفظ کیا جاسکے۔ سرمایہ دار طبقے کو چاہیے کہ وہ محض اپنے چند پیسوں کے نفع کی بنیاد پر کسی خاتون کی عزت وآبرو کا سہارا نہ لیں۔ آخر وہ ہماری ہی سوسائٹی ومعاشرے کی دوشیزہ ہے، جس طرح ہمیں اپنی ماؤں بہنوں کی عزت عزیز ہے اسی طرح اس بے چارے غریب کی عزت وآبرو کو عزیز رکھیں! صحافیوں وادیبوں کو چاہیے کہ جس طرح جنسی وصنفی خواہش کو عام کرنے کے لیے اخبارات ورسائل کا استعمال کیا جارہا ہے اسی طرح اس کی شناعت وقباحت میں قلم کا خوب استعمال کریں، عریانیت وبے حیائی کی قباحت اورعزت وآبرو کے فضائل اس طرح بیان کریں کہ عوام الناس کے ذہن ودماغ کا رخ تبدیل ہو جائے۔ ماؤں بہنوں سے گزارش ہے کہ مغربی تہذیب کی دلدادہ خواتین کو سمجھائیں، انہیں ان کی عزت وعصمت کی قیمت بتائیں ،اگر سمجھ لیں تو ٹھیک ہے، ورنہ ایسی خواتین کا اپنی مجلسوں ومحفلوں سے بائیکاٹ کر دیں، یاد رہے کہ انسانیت ایک گاڑی کی مانند ہے او رعورت اس کا اہم حصّہ ہے، اگر وہ بھی عام مسافر کی طرح دنیا کی رنگینیوں کو دیکھنا شروع کر دے تو پور ی انسانیت تباہ ہو جائے گی۔ لہٰذا خواتین جنہیں اسلام نے ماں جیسا مقدس مقام دیا ہے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اپنا مقام مرتبہ نہ بھولیں اور اگر کسی کو یاد دلانے کے باوجود یاد نہ آئے تو اس کا بائیکاٹ کریں۔ خدا کی ذات سے امید ہے کہ ہمار ی ان کوششوں سے فواحش پر روک لگانا بہت آسان ہو جائے گا اوران شاء الله ہماری یہ کوشش انسانیت کے دشمنوں کے لیے سد سکندری ثابت ہو گی۔