Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق جمادی الاول 1438ھ

ہ رسالہ

12 - 18
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

مفتی محمد عبدالله قاسمی
	
30/ربیع الاول 1438ھ مطابق 30/دسمبر2016ء جمعہ کی شام محدث جلیل حضرت مولاناعبدالحق صاحب اعظمی نائب شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبندنے اپنی زندگی کی آخری ہچکیاں لیں اورجان جان آفرین کے سپردکی،مولانامرحوم کے سانحہٴ ارتحال کی خبرسن کرعلمی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی اورہندوستان کی پوری فضا سوگوار ہوگئی، کیوں کہ وہ شمع بجھ گئی جو پچھلی کئی دہائیوں سے بزم علم وادب میں روشنی پھیلاتی رہی، وہ بلبل ہزارداستاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیاجس کی مترنم آواز نہ صرف ایشیا کی عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند میں گونجتی تھی، بلکہ ملک کے کونے کونے میں گونجتی رہی، وہ پیرمیخانہ اٹھ گیاجس کے دولت کدہ پرعلم وآگہی کے رندان قدح خوارجمع ہوتے تھے، وہ معالج اورطبیب رخصت ہوگیاجس کے اثر انگیز مواعظ اخلاقی بیماریوں کے لیے نسخہ اکسیرہوتے تھے،ملت کاوہ حدی خواں اٹھ گیاجوکارواں کومنزل مقصودکی جانب محوسفررکھتاتھا۔

مولانامرحوم 6/رجب 1345ھ مطابق 10/ جنوری 1927ء پیرکے روزجگدیش پور-جواعظم گڑھ کے مضافات میں واقع ہے -پیداہوئے،6/سال کی عمرہی میں والدماجدکاسایہ سرسے اٹھ گیااور والدماجدکی پدرانہ شفقتوں سے محروم ہوگئے،والدصاحب کے انتقال کے بعدآپ  جون پورکے مشہورعالم دین مولانامحمدمسلم صاحب کی کفالت میں رہے،ابتدائی تعلیم مدرسہ بیت العلوم سرائے میر۔۔۔جس کا سنگ بنیادعالم ربانی ،حضرت مولانا عبد الغنی صاحب پھول پوری نے رکھا ہے۔۔۔میں حاصل کی،وہاں آپ نے نحو،صرف ،منطق اورفقہ کی ابتدائی کتابیں پڑھیں،پھر یوپی کی مشہورومعروف اوربافیض دینی درس گاہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم مئوناتھ بھنجن میں مشکاةتک زیرتعلیم رہے،پھرآپنے برصغیرکی شہرہ آفاق یونی ورسٹی دارالعلوم دیوبند۔۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے ہندوستان کے خزاں رسیدہ چمنستان علم وادب میں بہارآئی اوراس کے برگ وبارکوبالیدگی عطاہوئی اورجس کے فیض لہرسے آج تک دنیا کا چپہ چپہ سیراب ہورہاہے۔۔۔۔۔ کاقصدکیااوروہاں ماہراور متبحراساتذہ سے حدیث کی کتابیں پڑھیں،آپکے اساتذہ میں شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنی، جامع المعقولات والمنقولات علامہ ابراہیم بلیاوی، شیخ الادب حضرت مولانااعزازعلی صاحب امروہوی ،  حضرت مولانا فخرالحسن صاحب مرادآبادی  ،شیخ ظہوراحمددیوبندی  خاص طورسے قابل ذکرہیں، ان حضرات کی علمی سرپرستی نے آپ کی شخصیت میں نکھارپیداکیااورعلمی، ادبی اورفکری غذامہیاکی،چناں چہ کچھ ہی سالوں کے بعدچشم فلک نے دیکھاکہ وہ آسمان دین ودانش پرماہ وپروین بن کرجلوہ گرہوئے،جس کی تابانی اورضیاپاشی سے راہ علم کے مسافرنہ صرف مستفید ہوئے؛بلکہ وہ کاروان علم کے راہ نماورراہ بربن گئے۔

درس نظامی کی تکمیل کے بعدآپ مدرسہ مطلع العلوم بنارس، مدرسہ حسینیہ جون پوراوردارالعلوم مئوناتھ بھنجن میں تدریسی خدمات بحسن وخوبی انجام دیتے رہے،زیادہ ترحدیث کی کتابیں پڑھانے کاآپ کو موقع ملا،پھر1402ھ مطابق 1982 ء میں دارالعلوم دیوبندمیں خصوصا بخاری شریف پڑھانے کے لیے بلایاگیااورتادم مرگ دارالعلوم دیوبند میں بخاری شریف جلدثانی کابرابردرس دیتے رہے اوردارالعلوم دیوبندکے بام ودر کو خیرالبشر کے عطربیزدہن سے جھڑے ہوئے موتیوں سے جگمگاتے رہے،آپایک کام یاب اورمقبول مدرس تھے،مفوضہ کتابیں بڑی خوش اسلوبی اورعمدگی سے پڑھاتے تھے، آپ بڑے باہمت اور اوقات درس کے بہت پابندتھے،آپ کادرس نہایت جامع اور پر مغز ہوتا تھا، طریق استدلال اورتفہیم مقال کا انداز نرالا اور دلنشیں تھا،ایک طرف مولانامرحوم حدیث کے مضمون کوعام فہم اورسادہ اندازمیں بیان کرنے پرقدرت رکھتے تھے تودوسری طرف باہم متعارض احادیث میں تطبیق دینے اورہرحدیث کاصحیح محمل متعین کرنے میں محدثانہ اورعالمانہ شان کے مالک تھے،مولانامرحوم کادرس خشک اوربے کیف نہیں ہوتاتھا؛بلکہ دوران درس گاہے بہ گاہے مزاحیہ جملے اور ظرافت آمیزنکتے بھی بیان کرتے،کبھی اکابردیوبندکے واقعات اور اپنی طویل زندگی کے خوش گوارتجربات بڑے لطف اورمزے لے کرسناتے ؛جس کی وجہ سے درس کامزہ دوبالا ہوجاتا اورطلبہ بڑے ذوق وشوق اوراہتما م سے آپ کاسبق سماعت کرتے،کائنات کی بہترین ہستی کے ارشادات وفرامین سے آپ  کی محبت وشیفتگی کایہ عالم تھاکہ آپ پورے نشاط کے ساتھ گھنٹوں حدیث کادرس دیتے اوردرازی عمر کے باوجودآپ کے چہرے پرتھکن اوراضمحلال کے آثارظاہرنہیں ہوتے تھے، حدیث شریف سے آپ  کے قلبی لگاؤاورغایت ادب کایہ حال تھاکہ عشاء کے بعد جب بخاری شریف کادرس دینے کے لیے آتے توپہلے غسل فرماتے،صاف کپڑے زیب تن کرتے اوردارالحدیث کارخ کرتے، مولانا کایہ معمول کئی سالوں تک رہا،بعدکوجب پیہم امراض اوربیماریوں کے ہجوم نے ضعیف ولاغرکردیاتویہ معمول باقی نہ رہ سکا۔

آپایک جلیل القدرمحدث ،بلندپایہ فقیہ اورمادرعلمی دارالعلوم دیوبندکی پیشانی کاجھومرتھے اورعلمی کمالات اورگوناگوں امتیازات وخصوصیات کی وجہ سے مولانا مرحوم اپنی مثال آپ تھے،چناں چہ جس طرح سورج کی روشنی پھیل کرتیزہوجاتی ہے اورشمیم گل باغ سے نکل کرعطرفشاں بن جاتی ہے،اسی طرح مولاناکے مختلف علوم وفنون پردست رس اوران کے علمی کمالات کاآوازہ دارالعلوم دیوبندکی چہاردیواری تک ہی محدودنہیں رہا؛بلکہ دارالعلوم دیوبندکی چہاردیواری سے نکل کرصرف ہندوستان ہی نہیں ؛بلکہ پورے برصغیرکے چپہ چپہ میں آپ کی تگ وتازپہنچی ، اوربرصغیرکے گوشہ گوشہ میں بخاری شریف کی پہلی اورآخری حدیث کادرس دینے کے لیے بلایاگیااوراس کے لیے آپ  نے دسیوں ممالک کاسفربھی فرمایا۔

مولانا مرحوم جہاں ایک عظیم محدث اورمقبول استادتھے وہیں ایک خوش بیان واعظ بھی تھے،وعظ ونصیحت کی غرض سے آپ کواصلاحی جلسوں میں ملک کے اطراف واکناف سے مدعوکیا جاتا،آپ اپنی گوناگوں مصروفیات اورامراض کے ہجوم کے باوجوددعوتی اسفارفرماتے، اورخلق خداکواپنے قیمتی نصائح سے مستفید فرماتے،آپ کے مواعظ ونصائح دل بے تاب اور شب بے خواب کاترجمان ہواکرتے تھے اورآپ  کے مواعظ ونصائح سے ایسامحسوس ہوتاتھاکہ آپ اپنے جذبات کوعشق کے پیالہ میں رکھ کرخون جگراوردرددل کی شراب طہور ملاکر سامعین کے دلوں میں اتاردیناچاہتے ہیں۔

آپکی زندگی کاایک امتیازی اوراہم وصف یہ تھاکہ آپ طلبہ پربے حدشفیق اورمہربان تھے اورطلبہ سے بے پناہ محبت اورہمدردی رکھتے تھے،درازی عمراوربوڑھاپے کی وجہ سے مزاج میں تھوڑاسا چڑچڑاپن اور سختی آگئی تھی؛ جس کی وجہ سے بسااوقات طلبہ پر جلدی خفا ہوجاتے؛لیکن بہت جلدہی مان جاتے اورناراضگی کا اثردورہوجاتاتھا، حضرت مولانا مرحوم ایک خوش مزاج ،ملن سار، ہردلعزیز اور بلند حوصلہ انسان تھے ، نزاعی امورسے مولانا مرحوم اپنے کودوررکھتے تھے،تعصب وتحزب اورحسدوعداوت سے مولانا کا دل آئینہ کی طرح صاف وشفاف تھا، آپ کی پوری زندگی ریاضت ومجاہدے اورمسلسل جدوجہدسے عبارت تھی ،کم ہمتی اورسستی وکاہلی کوکبھی آپ  نے راہ نہ دی ،کبھی کسی عہدہ اور منصب کی نہ طلب رہی اورنہ دادوتحسین کی پروا ؛بلکہ زندگی بھربے لوث اور مخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے مولانا مرحوم ضعف ولاغری کے علاوہ کئی بیماریوں کے شکارتھے،طاقت وقوت کی فصل بہار رخصت ہورہی تھی،زندگی کی شمع فروزاں جھلملارہی تھی ،لیکن چشم فلک گواہ ہے کہ بیماریوں کے ہجوم اورضعف ولاغری سے دل برداشتہ ہوکران کے سفینٴہ حیات نے کوئی ساحل عافیت تلاش نہیں کیا ؛بلکہ آخری سانس تک علم حدیث کی آب یاری کرتے رہے،یہ ٹھیک ہے کہ موت کے بے رحم پنجہ نے مولانامرحوم کوموت کی ابدی نیندسلادیا؛لیکن مولانا مرحوم کی مخلصانہ خدمات وکارنامے اوران کی صفات وخوبیوں کاگلشن ہمیشہ سرسبزوشاداب اورسدابہاررہے گااوراس کی خوش بو اورمہک صدیوں تک قلب ودماغ کومعطرکرتی رہے گی اوررفتارزمانہ اور گردش لیل ونہارکی وجہ سے اس گلستاں پرخزاں کاسایہ نہیں پڑے گا۔

آپ ایک مختصر سی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، آپ کو 29/ دسمبر 2016ء کو پیٹ میں انفکشن کی شکایت ہوئی اور دیوبند میں واقع ڈی کے جین ہاسپٹل میں داخل ہوئے، جہاں دوسرے روز یعنی30/ دسمبر2016ء کو89/ برس کی عمر میں عشاء کی اذان کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے رب العالمین سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون، دوسرے دن سنیچر31/ دسمبر2016ء کو نماز جنازہ ادا کی گئی اور قاسمی قبرستان میں مدفون ہوئے۔

اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کوغریق رحمت فرمائے، جنت کے اعلی علیین میں ان کوٹھکانہ نصیب فرمائے، اوران کے پس ماندگان کوصبرجمیل عطافرمائے۔آمین ثم آمین ۔

Flag Counter