وار سہا بھی نہ گیا تھا کہ دوسرے روز کرنل صاحب جیسے شائستہ ،باذوق،علم دوست،وضع دار،اصول پرست، ملک وملت کا وفادار و جانثار تھے اور بھلے وقتوں کی روایات کے امین ،اردو ادب اور شعر وفن کا حسیں پیکر جیسی بڑی صفات کی حامل شخصیت بچھڑ گئی جوکہ میرے ذاتی نقصان کے علاوہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اورعلم و ادب کی بزم کے اجڑ جانے کے مترادف ہے۔ ؎ ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
کرنل صاحب جن کا گھر ہمارے موجودہ گھر سے متصل تھا، درمیان میں پتلی گلی تھی، موجودہ گھر (برلب دریائے کابل) میں منتقلی سے قبل ایک طویل عرصہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہمارے پڑوسی رہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ماہنامہ’’الحق‘‘ کے مطالعہ میں مشغول ہوگئے‘ اسی دوران راقم کا سفرنامہ ’’ذوق پرواز‘‘ ان کی نظروں سے گذرا ۔میں اِن دِنوں جامعۃ الازھر مصر میں پڑھ رہا تھا۔ واپسی پر کرنل صاحب کے ساتھ اسی مناسبت سے دوستی بن گئی پھر رفتہ رفتہ میرے اصرار پر ’’الحق‘‘ کیلئے مختلف موضوعات پر لکھنا شروع کیااور دارالعلوم کے شعبہ تعلیم القرآن حقانیہ ہائی سکول کی سرپرستی و ذمہ داری بھی کچھ عرصہ اعزازی طورپر فرماتے رہے۔ اس کے بعد دارالعلوم اور شیخ الحدیث قدس سرہ کے انگلش تعارف نامے میں بھی بڑا حصہ لیا۔ بعد میں میری درخواست پر اپنی خودنوشت اور ’’الحق‘‘ و دیگر رسائل میں چھپے ہوئے مضامین کا مجموعہ ’’نقوش آگہی‘‘ بھی مرتب کیا۔ جِسے علمی حلقوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ کرنل صاحب کواللہ تعالیٰ نے بلا کا حافظہ عطا فرمایا تھا۔۸۰۔۸۵ برس کی عمر میں بھی اردو ادب کے تمام بڑے شعرا کا کلام ہروقت نوکِ زباں رہتا۔ حضرت فانی صاحب کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتے ، اِن کے کلام اور اِن کے علم و فن کے بڑے گرویدہ تھے۔ کبھی کبھی اِن کے ہاں دریا کے کنارے سبزہ زار میں ہم تینوں اکٹھے ہوتے تو گھنٹوں اردو ادب اور خصوصاً شعراء کے کلام سے دل بہلاتے۔لطائف ،علمی نکات اور تاریخی واقعات اکثر سننے کے قابل ہوتے۔سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ آخر دم تک طویل بیماری کے باوجود کتاب دوستی اور مطالعہ ترک نہیں کیا۔ خود بھی مطالعہ میں منہمک ہوتے اور دیگر باذوق حضرات کو اپنے زیرمطالعہ کتابوں کا دیکھنے کا مشورہ دیتے، اِن کے پیراگراف سناتے، میرے ناقص علم اورمطالعہ میں اِن کے مشوروں کے بدولت بہت فائدہ ہوا ۔ فوج اور اس کے مختلف شعبہ جات سے آگاہی حاصل ہوئی ۔انگلش لٹریچر اور یورپ کی تاریخ کے بارے میں بھی بہت کچھ اِن سے جانا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمانبردار اولاد نصیب فرمائی۔بڑے بیٹے جناب محمد طیب صاحب اس وقت میجر جنرل کے بڑے عہدے پر فائز ہیں، اب ایف سی کے کمانڈنٹ اور سربراہ ہیںاور دوسرے صاحبزادے فوج میں بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز ہیں او رملک وملت کی خدمت میں شبانہ روز مصروف ہیں۔ ادارہ اِنکے صاحبزادوں، اہل خاندان اور خصوصاً اِن کے بھائی شہریارصاحب کیساتھ دلی تعزیت کرتا ہے بلکہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اور راقم خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہے کہ ہم ایک بہت ہی اہم مخلص سرپرست ساتھی اور بزرگ سے محروم ہوگئے ہیں۔