حضرت مولانا محمد زبیر الحسن کاندھلوی ؒ کا سانحہ ارتحال
عالمی تبلیغی جماعت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا محمد زبیر الحسن کاندھلوی صاحبؒبن حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی ؒ ۱۸؍مارچ ۲۰۱۴ء کو رحلت فرماگئے۔حضرت متعدد صلاحیتوں اور اوصاف حمیدہ کی حامل شخصیت تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین جماعت کی امارت انہیں نصیب فرمائی تھی آپ اس قدسی صفات قافلہ کے امیراور حدی خواں تھے جو اس دنیا میں ایک بہت بڑا اسلامی ،اصلاحی اور دعوتی انقلاب کا سرچشمہ بننے والا ہے۔ حقیقت میں نفسانفسی اور فساد و بگاڑ کے اس مادیت زدہ دور میں حضرت مولانا محمد زبیر الحسن صاحبؒ اوران کے خاندان کے بزرگوں اوردیگر اکابرین نے جو پیغمبرانہ دعوتی پرچم لے کر اٹھایا تھا وہ آج پوری دنیا میں الحمدللہ سرفراز نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی عمر بھر کی کاوشوں اور کوششوں کو قبول فرمائے او راس عظیم خلاء کو پُر فرمائے ۔امین۔
الحق کے رفیق سفر، ادیب،شائستہ انسان کرنل محمد اعظم کی جدائی
؎ اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی ’’پیاروں‘‘ نے اتنی دور بسائی ہیں بستیاں
عظیم بہادر جرنیل اور عالمی شہرت کے حامل خوشحال خان خٹک کے گائوں اکوڑہ خٹک کی مردم خیز سرزمین ہردور اور ہر عہد میں ملک وملت اورخصوصاً علم و ادب کی جھولی کو یکتا ئے روزگار ادیبوں ،شاعروں، دانشوروں اور سیاسی وعلمی لعل و گوہر سے بھرتی رہی۔ ایک وقت تھا کہ یہاں پر علمی ودینی شخصیات کی کہکشاؤں کی چمک دمک قائم ودائم تھی لیکن اس تازہ حادثے کے بعد پوری کی پوری بزم میں گہرا سناٹا چھا گیا ہے۔پہلے پشتو کے انقلابی شاعر جناب اجمل خٹک صاحب پھر بعد میں عالمی شہرت کے حامل ادیب ،ڈرامہ نویس،شاعر اورخصوصاً مورخ ،وسیرت نگار جناب پروفیسر افضل رضا صاحب اور ان کے بعد مردِ قلندر اور شعر وادب کے جناب سراج الاسلام سراجؔ صاحب اور پھر استاد محترم ہشت پہلو شخصیت کے مالک حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی صاحب ؒ کے بعد کرنل محمد اعظم بھی ہمیں داغ مفارقت دے کر دنیاکے اِس دارالحزن اور غموں کے تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ کر کوچ کرگئے۔
ع گھٹتے جاتے ہیں میرے دل کے بڑھانے والے
کرنل اعظم صاحب کا یوں تو تعلق تلواروسپہ گری سے تھا لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قلم و کتاب کے میدان کا بھی شہسوار بنایا تھا۔ یوں تو کرنل صاحب عمر میں میرے دادا کے برابر تھے لیکن ہم مزاجی ، ہم ذوقی اور شعر وادب کے ساتھ گہری وابستگی کی بناء پر آپ میرے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ پچھلا فروری مجھ پر بہت بھاری گزرا ہے‘ ایک تو جان سے زیادہ عزیز مولانا محمد ابراہیم فانی صاحب ؒ کا انتقال ۲۶ فروری کو ہوا ،ابھی یہ