Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق جمادی الثانیہ 1434ھ

ہ رسالہ

8 - 16
موٴمنین کی اہم صفات
سورہٴ الموٴمنون کی ابتدائی11آیات کی روشنی میں
مولانا محمد نجیب قاسمی
﴿قَدْ اَفْلَحَ الْمُوٴْمِنُوْن، اَلَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْن، وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْن، وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوةِ فَاعِلُوْن، وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْن، اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْن، فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ، وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْن، وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ یُحَافِظُوْن، اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْن، الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْس، ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن﴾․ (سورہٴ الموٴمنون 11-1)
ان ایمان والوں نے یقینا کام یابی حاصل کرلی جن کی نمازوں میں خشوع وخضوع ہے… جو لغو کاموں سے دور رہتے ہیں… جو زکوٰة کی ادائیگی کرتے ہیں… جو اپنی شرم گاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں ،سوائے اپنی بیویوں اور اُن کنیزوں کے، جو اُن کی ملکیت میں آچکی ہوں، کیوں کہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔ ہاں! جو لوگ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں…اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں…اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں…یہ ہیں وہ وارث جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ (جو انس وجن وتمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے، جو خالق مالک رازق کائنات ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، جو انسان کی رگ رگ سے ہی نہیں، بلکہ کائنات کے ذرہ ذرہ سے اچھی طرح واقف ہے۔) نے انسان کی کام یابی کے لیے ان آیات میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے علاوہ 7 صفات ذکر فرمائی ہیں کہ اگر کوئی شخص واقعی کام یاب ہونا چاہتا ہے تو وہ دنیاوی فانی زندگی میں موت سے قبل ان سات اوصاف کو اپنے اندر پیدا کرلے۔ ان سات اوصاف کے حامل ایمان والے جنت کے اُس حصہ کے وارث بنیں گے جو جنت کا اعلیٰ وبلند حصہ ہے، جہاں ہر قسم کا سکون واطمینان وآرام وسہولت ہے، جہاں ہر قسم کے باغات، چمن، گلشن اور نہریں پائی جاتی ہیں، جہاں خواہشوں کی تکمیل ہے، جس کو قرآن وسنت میں جنت الفردوس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے…۔ یہی اصل کام یابی ہے کہ جس کے بعد کبھی ناکامی، پریشانی، دشواری، مصیبت اور تکلیف نہیں ہے،لہذا ہم دنیاوی عارضی ومحدود خوش حالی کو فلاح نہ سمجھیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کی کام یابی کے لیے کوشاں رہیں۔

ایمان والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا ، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو پیغمبر تسلیم کیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوئے۔ انسان کی کام یابی کے لیے سب سے پہلی اور بنیادی شرط اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے، اس کے علاوہ انسان کی کام یابی کے لیے جو سات اوصاف اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان آیات میں ذکر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں:

خشوع وخضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی
خضوع کے معنی ظاہری اعضا کو جھکانے (یعنی جسمانی سکون) اور خشوع کے معنی دل کو عاجزی کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ رکھنے کے ہیں۔ خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم نماز میں جو کچھ پڑھ رہے ہیں اس کی طرف دھیان رکھیں اور اگر غیر اختیاری طور پر کوئی خیال آجائے تو وہ معاف ہے، لیکن جونہی یاد آجائے دوبارہ نماز کے الفاظ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ غرضیکہ ہماری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ نماز کے وقت ہمارا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہم نماز کے کس رکن میں ہیں اور کیا پڑھ رہے ہیں؟ اسی طرح ہمیں اطمینان وسکون کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے جیساکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔ ایک اور صاحب بھی مسجد میں آئے اور نماز پڑھی، پھر (رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور) رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: جاؤ! نماز پڑھو کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گئے اور جیسے نماز پہلے پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھ کر آئے، پھررسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو آکر سلام کیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ !نماز پڑھوکیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ اُن صاحب نے عرض کیا: اُس ذات کی قسم جس نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے نماز سکھائیے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھرقرآن مجید میں سے جو کچھ پڑھ سکتے ہو پڑھو۔ پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے کھڑے ہو تو اطمینان سے کھڑے ہو، پھر سجدہ میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سجدہ سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں کرو۔ (صحیح بخاری)

لغو کاموں سے دوری
لغو اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لا حاصل ہو، یعنی جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ مولائے حقیقی نے ان ا ٓیات میں ارشاد فرمایا کہ لغو کاموں کو کرنا تو درکنار اُن سے بالکل دور رہنا چاہیے…، ہمیں ہر فضول بات اور کام سے بچنا چاہیے قطع نظر اس کے کہ وہ مباح ہو یا غیر مباح کیوں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”مِنْ حُسْنِ اِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَالَایَعْنِیْہ“․ (ترمذی) انسان کا اسلام اسی وقت اچھا ہوسکتا ہے جب کہ وہ بے فائدہ اور فضول چیزوں کو چھوڑدے۔

زکوة کی ادائیگی
انسان کی کام یابی کے لیے تیسری اہم شرط زکوٰة کے فرض ہونے پر اس کی ادائیگی ہے، زکوة اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے ایک ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز کے بعد سب سے زیادہ حکم زکوة کی ادائیگی کا ہی دیا ہے۔ سورہٴ التوبہ آیت نمبر 34۔ 35 میں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لیے بڑی سخت وعید بیان فرمائی ہے جو اپنے مال کی کما حقہ زکوٰة نہیں نکالتے۔ اُن کے لیے بڑے سخت الفاظ میں خبر دی ہے، چناں چہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے پاس سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اُس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو (اے نبی صلی الله علیہ وسلم) آپ اُن کو ایک دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے، یعنی جو لوگ اپنا پیسہ، اپنا روپیہ، اپنا سونا چاندی جمع کرتے جارہے ہیں اور اُن کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، اُن پر اللہ نے جو فریضہ عائد کیا ہے اُس کو ادا نہیں کرتے، اُن کو یہ بتادیجییکہ ایک دردناک عذاب اُن کا انتظار کررہا ہے۔ پھر دوسری آیت میں اُس دردناک عذاب کی تفصیل ذکر فرمائی کہ یہ دردناک عذاب اُس دن ہوگا جس دن سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اُس آدمی کی پیشانی ، اُس کے پہلو اور اُس کی پشت کو داغا جائے گااور اس سے یہ کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، آج تم اس خزانے کا مزہ چکھو، جو تم اپنے لیے جمع کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس انجام بد سے محفوظ فرمائے ، آمین…۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد تزکیہ نفس لیا ہے، یعنی وہ ایمان والے اپنے آپ کو برے اعمال اور اخلاق سے پاک صاف کرتے ہیں ۔

شرم گاہوں کی حفاظت
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنسی خواہش کی تکمیل کا ایک جائز طریقہ، یعنی نکاح مشروع کیا ہے۔ انسان کی کام یابی کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ ہم جائز طریقہ کے علاوہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اس آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ﴾ یعنی میاں بیوی کا ایک دوسرے سے شہوت نفس کو تسکین دینا قابل ملامت نہیں، بلکہ انسان کی ضرورت ہے۔ لیکن جائز طریقہ کے علاوہ کوئی بھی صورت شہوت پوری کرنے کی جائز نہیں ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ﴾یعنی جائز طریقہ کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے زنا کے قریب بھی جانے کو منع فرمایا ہے:﴿ وَلاتَقْرَبُوا الزِّنَی اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَّسَاءَ سَبِیْلاً﴾ (سورہٴ الاسراء 32) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:﴿ اَلْعَیْنُ تَزْنِیْ وَزِنَاہَا النَّظُرُ﴾․ یعنی آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور اس کا زنا نظر ہے۔

آج روزہ مرہ کی زندگی میں مرد وعورت کا کثرت سے اختلاط، مخلوط تعلیم، بے پردگی، TV اور انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم خود بھی زنا اور زنا کے لوازمات سے بچیں اور اپنے بچوں، بچیوں اور گھر والوں کی ہر وقت نگرانی رکھیں، کیوں کہ اسلام نے انسان کو زنا کے اسباب سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ زنا کے وقوع ہونے کے بعد اس پر ہنگامہ، جلسہ وجلوس ومظاہروں کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حتی الامکان غیر محرم مردوعورت کے اختلاط سے ہی بچا جائے۔

امانت کی ادائیگی
امانت کا لفظ ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اٹھائی ہو اور اس پر اعتماد وبھروسہ کیا گیا ہو، خواہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے۔ حقوق اللہ سے متعلق امانت فرائض وواجبات کی ادائیگی اور محرمات ومکروہات سے پرہیز کرنا ہے اور حقوق العباد سے متعلق امانت میں مالی امانت کا داخل ہونا تو مشہور ومعروف ہے، اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی کو بتلائی تو وہ بھی اس کی امانت ہے، اذن شرعی کے بغیر کسی کا راز ظاہر کرنا امانت میں خیانت ہے۔ اسی طرح کام کی چوری یا وقت کی چوری بھی امانت میں خیانت ہے۔ لہذا ہمیں امانت میں خیانت سے بچنا چاہیے۔

عہد وپیمان پورا کرنا
عہد ایک تو وہ معاہدہ ہے جو دو طرف سے کسی معاملہ میں لازم قرار دیا جائے، اس کا پورا کرنا ضروری ہے، دوسرا وہ جس کو وعدہ کہتے ہیں، یعنی کوئی شخص کسی شخص سے کوئی چیز دینے کا یا کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرلے، اس کا پورا کرنا بھی شرعاً ضروری ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ اگر ہم کسی شخص سے کوئی عہد وپیمان کرلیں تو اس کو پورا کریں۔

نماز کی پابندی
کام یاب ہونے والے وہ ہیں جو اپنی نمازوں کی بھی پوری نگرانی رکھتے ہیں۔ یعنی پانچوں نمازوں کو ان کے اوقات پر اہتمام کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت وتاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے، مگر ضروری ہے کہ اس پرپابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط وآداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لیے ضروری ہیں،جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ﴿وَاَقِمِ الصَّلاةَ، اِنَّ الصَّلاةَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ﴾․(سورہٴ العنکبوت:45) نماز قائم کیجیے، یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی الله علیہ وسلمکی خدمت میں آیا اور کہا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے، مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا کہ ُاس کی نماز عنقریب اُس کو اِس برے کام سے روک دے گی۔ (مسند احمد، صحیح ابن حبان، بزار)

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی کام یابی کے لیے ضروری سات اوصاف کو نماز سے شروع کیا اور نماز پر ہی ختم کیا، اس میں اشارہ ہے کہ نماز کی پابندی اور صحیح طریقہ سے اس کی ادائیگی انسان کے پورے دین پر چلنے کا اہم ذریعہ بنتی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں سب سے زیادہ نماز کی ہی تاکید فرمائی گئی ہے۔ کل قیامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ نماز کے علاوہ تمام احکام اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطہ دنیا میں اتارے، مگر نماز ایسا مہتم بالشان عمل ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر حضرت جبرائیل کے واسطہ کے بغیر نماز کی فرضیت کا تحفہ اپنے حبیب صلی الله علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو نمازوں کا اہتمام کرنے والا بنائے۔ آمین، ثم آمین۔

ان سات اوصاف سے متصف ایمان والوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے 10اور 11 آیات میں جنت الفردوس کا وارث بتلایا ہے۔ لفظ وارث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح مورث کا مال اس کے وارث کو پہنچنا قطعی اور یقینی ہے، اسی طرح ان سات اوصاف والوں کا جنت الفردوس میں داخلہ یقینی ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو ان سات اوصاف کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس کا وارث بنائے، آمین۔ 
Flag Counter