اخبار جامعہ
ادارہ
جامعہ فاروقیہ کراچی فیزII کا دورہ
یکم جمادی الاولیٰ بمطابق14 مارچ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم الله خان صاحب زیدمجدہ، حضرت مولانا محمد انور صاحب، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب، حضرت مولانا محمدیوسف افشانی صاحب، مفتی عبدالباری صاحب، مفتی احمد خان صاحب ،مولانا مفتی معاذ خالد صاحب، مولانا عمار خالد صاحب، مولانا مفتی حماد خالد صاحب( رفقاء دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی) جامعہ فاروقیہ فیزII تشریف لے گئے،جہاں حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ او راساتذہٴ کرام نے تعلیمی اور تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا اور طلبہ کی ”نادی“ میں شرکت فرمائی، دارالافتاء کے حضرات مسجد قباء، ساکران (زیر تعمیر) کے سمت قبلہ کی تعیین وتصحیح کے لیے بھی تشریف لے گئے۔
حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کا سفر ماتلی، سندھ
حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم الله خان صاحب زید مجدہ، 8 جمادی الاولیٰ21 مارچ بروز جمعرات ماتلی کے سفر پر روانہ ہوئے، اس سفر میں مفتی معاذ خالد صاحب ، مفتی عبدالرحیم صاحب اور مفتی حماد خالد صاحب حضرت کے ہمراہ تھے، اولاً راستے میں مدرسہ حسان بن ثابت (قائم کردہ مولانا عبدالغفور صاحب، فاضل جامعہ) تشریف لے گئے ، اس موقعہ پر حضرت کو انتظامیہ مدرسہ نے تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
بعد ازیں یہ حضرات شیخ برکھیو تشریف لے گئے جہاں حاجی خان محمد صاحب نے استقبال کیا، طعام کے بعد مدرسہ دارالعلوم الفاروقیہ جہاں مہتمم مدرسہ قاری عبدالمجید صاحب، اساتذہ اور طلبہ نے ان حضرات کا شان دار استقبال کیا کچھ دیر قیام کے بعد یہ حضرات مدرسے کی ایک اور شاخ بیت السلام اور ملحقہ بیت السلام کالونی تشریف لے گئے اس ادارے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نو مسلم خاندانوں کو تعلیم وتربیت اور کفالت کے لیے وقف ہے اندرون سندھ رہنے والے ہندو، عیسائی اور بھاگڑیوں کی ایک بڑی تعداد کفر کے اندھروں کو چھوڑ کر اسلام کی روشنی کی طلب گار ہے مگر دینی یا تربیتی ماحول نہ ہونے اور خاندانی دباؤ کی وجہ سے یا تو آہی نہیں پاتے اور یا دائرہ اسلام میں آکر پھر ہمت توڑ دیتے ہیں ۔ بیت السلام کالونی میں ایسے ہی افراد کو چار مہینے تعلیمی اور تربیتی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور اس دوران ان تمام افراد کو بمعہ اہل وعیال کے طعام وقیام کا خرچ ادارہ ادا کرتا ہے ۔ اللھم زد فزد
کمبوہ میں حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی صاحب شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ، قاسمیہ سجاول بھی حضرت شیخ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے۔
اگلے دن بروز جمعہ22 مارچ کو واپسی ہوئی۔
کار حادثہ اور عیادت
23 مارچ10 جمادی الاولیٰ بروز ہفتہ حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کے نواسے عکاشہ متعلم جامعہ کا شارع فیصل پر کار حادثہ پیش آیا جس میں وہ خود اور ڈرائیور زخمی ہوگئے، حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ اور حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب ودیگر اساتذہ وطلبہ عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
مہمانوں کی آمد
11 جمادی الاولیٰ24 مارچ بروز اتوار حضرت مولانا عبدالستار صاحب، سرپرست بیت السلام ٹرسٹ، جامعہ فاروقیہ کراچی تشریف لائے اورحضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم الله خان زید مجدہ اور حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب سے ملاقات فرمائی۔
13 جمادی الاولیٰ 26 مارچ بروز منگل حضرت مولانا محمدیوسف افشانی صاحب جامعہ تشریف لائے اور طلبہ کرام، تخصص فی الفقہ سال دوم کے مقالات کے عناوین اور تیاری کا جائزہ لیا۔
یک ماہی امتحانات
14 جمادی الاولیٰ 27 مارچ کو جامعہ فاروقیہ کراچی میں تعلیمی سال کے آخری یک ماہی امتحانات کا انعقاد کیا گیا۔
مہمانوں کی آمد
جامعہ ام القریٰ (مکة المکرمة) کے رئیس کلیة الشریعة اور مفتی حرم شیخ عبدالله البارُوم جوان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں، 28مارچ15 جمادی الاولیٰ بروز جمعرات جامعہ فاروقیہ کراچی تشریف لائے، حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب ، حضرت مولانا محمدانور صاحب، حضرت مولانا محمدیوسف افشانی صاحب، رئیس دارالافتاء حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ناظم تعلیمات نے ان کا پُرتباک استقبال کیا ۔ مہمان خانہٴ جامعہ میں حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ اور دیگر اساتذہ جامعہ کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی، ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔
حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کا طلبہ سے خطاب
30 مارچ17 جمادی الاولیٰ بروز ہفتہ حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم الله خان صاحب زید مجدہ نے دوپہر 12:30بجے طلبہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
”نبی پاک کے زمانے سے جتنا بُعد بڑھ رہا ہے اور جتنا فاصلہ زیادہ ہور ہا ہے اسی نسبت سے ضُعف بڑھ رہا ہے اسی نسبت سے امت کے اندر بگاڑ اور خرابی بڑھتی جارہی ہے آپ صلی الله علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اب کوئی نبی تو آئے گا نہیں آپ خاتم الانبیا ہیں، اس لیے نبوت والے کام کی ذمے داری امت پر آ گئی ہے اور امت میں علماء کی جماعت بطور خاص اس فریضے کو انجام دے رہی ہے یہ آپ کے مدارس، الله کا امت پر بہت بڑا انعام ہے، یہاں ہی سے شریعت کے علوم کی حفاظت کا سلسلہ جاری ہے وہ علوم جو ان مدارس کے ذریعے سے پھیلائے جارہے ہیں اگر ان کی رعایت کی جائے تو سب کام ٹھیک ہوتے ہیں، فتوی بھی ٹھیک ہوتا ہے تعلیم ،تصنیف وتالیف بھی ٹھیک ہوتی ہے، تبلیغ بھی صحیح ہوتی ہے، جہاد بھی درست ہوتا ہے اور اگر اس علم کی رعایت نہ کی جائے تو فتوی بھی غلط،تصنیف وتالیف بھی غلط، تبلیغ وجہاد بھی غلط ،سب غلط۔ خیر کی جو اصل بنیاد ہے وہ یہ مدارس ہیں ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو شریعت کے علوم سے واقف بھی کرایا جاتا ہے اور عملی تربیت بھی ہوتی ہے، آپ فقہ پڑھتے ہیں، حدیث پڑھتے ہیں، تفسیر پڑھتے ہیں ان سے پہلے بھی علوم حاصل کرتے ہیں، سب کامقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کو شریعت کا عالم بنایا جائے، اب اس میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو خوب محنت کرتے ہیں، بڑی یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں ان کی توجہ نہ اِدھر ہوتی نہ اُدھر ہوتی ہے، علم کو حاصل کرنے میں ان کا انہماک ہوتا ہے، وہ آگے نکل جاتے ہیں کچھ ایسے بھی ہوتے جو صرف وقت گزارتے ہیں، وہ جیسے آتے ہیں ویسے ہی نکل جاتے ہیں، کچھ درمیانے درجے کے لوگ ہوتے ہیں آج کل مدارس میں طلبہ کو جو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ابھی ان کا ماضی قریب میں نام ونشان بھی نہ تھا ہم طالب علم تھے، بہت بڑے دارالعلوم میں پڑھتے تھے نہ وہاں کمروں کے اندر پنکھے تھے اور نہ وہاں کمروں میں لائٹ تھی اور نہ وہاں طلبہ کے لیے سہولتیں آسائشیں تھیں کچھ نہیں تھا۔ آج کے دور کا اس زمانے سے ہم مقابلہ کرتے ہیں، آج طلبہ کو اتنی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اس کا سوائے اِس کے کہ الله کا شکر ادا کیا جائے اور کچھ نہیں۔ بہرحال میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا آپ کو پوری یکسوئی اور پوری دلچسپی کے ساتھ اپنی قابلیت کو بڑھانا چاہیے اپنے اعمال کو اور اخلاق کو سنوارانا چاہیے اس سلسلے میں جو کوتاہی ہو رہی ہے، اس کو درست کرنا چاہیے۔“
آخر میں حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ نے دعائیہ کلمات کے ساتھ اس مجلس کا اختتام فرمایا۔