دعا کی حقیقتاور مصائب سے نجات
مولانا حذیفہ وستانوی
جو مانگنا ہے خالقِ ارض وسما سے مانگ
کیوں مانگتا ہے بندوں سے اپنے خدا سے مانگ
موٴمن ہے تو، تو بس اسی حاجت روا سے مانگ
اللہ کے سوا کوئی حاجت روا نہیں
موٴمن ہے تو، تو بس اسی حاجت روا سے مانگ
اللہ رب العزت نے کائنات کو وجود بخشا اور کائنات کا نظام چلانے کے لیے اسباب کو پیدا کیا اور مخلوق کو ان اسباب کو اختیار کرنے کا مکلف کیا تو اللہ کی ذات خالق الخلق بھی ہے اور مسبب الاسباب بھی ہے، یعنی کائنات کے ذرہ ذرہ کو اسی نے وجود بخشا اور وجود بخشنے کے بعد اس کو ویسے ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ پورے نظام کائنات پر نظر رکھتے ہوئے اسی کی مرضی کے مطابق نظام کائنات جاری وساری ہے، کائنات کا ہر چھوٹا بڑا حادثہ اسی کی مشیت کے مطابق رونما ہوتا ہے، وہ علیم بھی ہے، بصیر بھی ہے، خبیر بھی ہے، حکیم بھی ہے، رب بھی ہے، مدبر بھی ہے، قادر مطلق بھی ہے، مصرف حقیقی بھی ہے، مقتدر بھی ہے، عزیز بھی ہے، مہیمن بھی ہے، جبار بھی ہے، قہار بھی ہے، ایک خالق ،رب اور معبود حقیقی اور رب ذوالجلال میں جتنی صفات و کمالات ہونے چاہئیں وہ تمام بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اوربے حدوحساب، کمالات بدرجہٴ اتم صرف اور صرف اسی کے شایانِ شان ہیں اور وہی اس کا مالک ہے، وہی بلااسباب کے بھی اپنی قدرت کاملہ کے ذریعہ کسی بھی طرح انقلاب پیدا کرنے والا ہے؛ اس لیے موٴمن اور مسلمان کی نگاہ اسباب کے اختیار کے بعد بھی اسی مسبب الاسباب پر رہنی چاہیے۔ کیوں کہ اسباب کے اختیار کے بعد بھی کوئی نتیجہ اسی وقت برآمد ہوسکتا ہے جب اللہ رب العزت کا منشا شامل حال ہو؛ اگر اللہ نہ چاہے تو کائنات میں بسنے والی تمام طاقتیں بھی اس چیز یا حادثہ کو منظرعام پر نہیں لاسکتیں۔ قرآن کا اعلان ہے: ﴿و ما تشاوٴن الا ان یشاء اللہ﴾ تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، ہاں! مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
اسی لیے اگر تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو معلوم ہوگا واقعتا کرنے دھرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی ہے۔ اسی لیے جب بھی اللہ کے نیک بندے مشکل حالات سے دوچار ہوئے تو انہوں نے اللہ ہی کو پکارا اور غیر مساعد حالات میں بھی اللہ نے ان کی دعاوٴں کے طفیل انہیں نجات سے ہم کنار کیا۔ آپ انبیائے کرام، صحابہ اور علما و اولیا کی سیرتیں اٹھاکر دیکھ لیں۔
حضرت آدم علیہ السلام نے ندامت کے آنسو بہائے تو اللہ کو غفار وستار پایا۔
حضرت نوح علیہ السلام نے مظلومیت کے عالم میں پتھروں کے نیچے پکارا تو اسے غم خوار و مددگار پایا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے تعاقب میں موجیں مارتے ہوئے سمندر کے پاس پکارا تو اسے نجات دہندہ پایا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماریوں کے صدہا زخموں میں چور ہوکر اسے پکارا تو وہاں شافی الامراض پایا۔
حضرت یونس علیہ السلام نے سمندر کی تاریکی میں مچھلی کے پیٹ میں پکارا تو وہاں اسے نجات دہندہ پایا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے کنوئیں کی اندھیری تہہ میں پکارا تو وہاں اسے ارحم الراحمین پایا۔
حضرت سارہؓ نے ظالم بادشاہ کے محل میں عفت و پاک دامنی کے تحفظ کی خاطر پکارا تو وہاں اسے احکم الحاکمین پایا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ حضرت ہاجرہؓ نے اپنے معصوم بچے کے پانی کے لیے صفا مروہ کی پہاڑیوں میں پکارا تو آبِ زم زم کی شکل میں وہاں اسے فریاد رس پایا۔
امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر و حنین میں دشمنوں کے مقابلہ کے لیے پکارا تو آندھی اور فرشتوں کی شکل میں وہاں اسے ناصر و مددگار پایا۔
صحابہٴ کرام نے سانپ، شیر اور پھاڑ کھانے والے درندوں سے بھرے ہوئے افریقہ کے جنگلوں میں پکارا تو وہاں اسے مہربان پایا۔
اسی لیے تو قرآن میں بھی بارہا اللہ نے بندوں کو دعا کی تلقین کی ہے، کہیں ﴿ادعونی استجب لکم﴾ کہیں ﴿اجیب دعوة الداع اذا دعان﴾ کہہ کر۔
برکات الدعا کی تقریظ میں مفتی اسماعیل کچھولوی صاحب مدظلہٗ العالی بڑی عمدہ بات تحریر فرماتے ہیں:
”تخلیق آدم کے پہلے ہی واقعہ سے ہمیں راہ نمائی ملتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے جب حکم کی تعمیل میں چوک ہوگئی تو آپ نے اپنی ذات اور کمزوری کو سامنے رکھ کر دربارِ الٰہی میں روتے روتے دعا کی اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا عشق حاصل کرلیا۔“ (برکات الدعاء:ص31)
احقر کہتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی دعا کی برکت سے صرف ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھولے گئے، بلکہ ان کی نیک اور صالح ذریت کے لیے بھی قیامت تک جنت کے دروازے کھول دیے گئے۔ تو کیسا عظیم فائدہ حاصل ہوا آدم علیہ السلام اور ذریت آدم کو اور یہ سب دعا کی برکت سے !! لہٰذا دعا سے غفلت بڑے خسارے اور نقصان کا باعث ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس غفلت کے انجام بد سے انسان دوچار ہوتا ہے۔
اللہ ہماری دونوں جہانوں میں انجام بد سے حفاظت فرمائے۔ آمین یارب العالمین!
دعا کے لفظی و اصطلاحی معنی
دعا کے لفظی معنی، پکارنے کے ہیں اور اکثر اس کا استعمال کسی حاجت و ضرورت کے لیے پکارنے میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لفظ دعا کے معنی ایک یہ بھی ہیں کہ کسی کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکارا جائے۔ آیت کریمہ میں ہے: ﴿اُدعوا ربکم﴾یعنی پکارو اپنے رب کو حاجت کے لیے۔ (رواہ النسائی، و ابوداوٴد) ماخوذ از برکات دعا:ص 111
دعا کی حقیقت معلوم نہیں
عارف باللہ، جماعت تبلیغ کے بانی و روح رواں، حضرت مولانا الیاس صاحبؒ فرماتے ہیں:” مسلمان دعا سے غافل ہیں اور جو کرتے ہیں ان کو دعا کی حقیقت معلوم نہیں۔ مسلمانوں کے سامنے دعا کی حقیقت کو واضح کرنا چاہیے، دعا کی حقیقت ہے اپنی حاجتوں کو بلند بارگاہ میں پیش کرنا، پس جتنی وہ بلند بارگاہ ہے اتنا ہی دعاوٴں کے وقت اپنے دل کو اس کی طرف متوجہ کرنا اور الفاظِ دعا کو تضرع و زاری سے ادا کرنا چاہیے اور یقین و اذعان (بھروسہ) کے ساتھ دعا کرنا چاہیے، اس نہج سے دعا کرنے والوں کی دعا ضرور قبول کی جائے گی، کیوں کہ جس سے مانگا جارہا ہے وہ بہت ہی سخی اور کریم ہے، اپنے بندوں پر رحیم ہے، زمین و آسمان کے خزانے سب اسی کے قبضہٴ قدرت میں ہے۔“ (برکاتِ دعا: ص113)
سمجھتا ہے خدا کو صرف جو حاجت روا اپنا
وہ غیراللہ کے در کا کبھی سائل نہیں ہوتا
خدا سے مانگ لے جو مانگنا ہو اے مسلم!
یہی وہ در ہے جہاں آبرو نہیں جاتی
یہ ہوئی دعا کی تعریف اور اس کی حقیقت اکابرین امت رحمہم اللہ کی زبانی۔
دعا کا مقام و مرتبہ
دعا کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اسلام نے دعا کو عبادت قرار دیا اوراللہ نے امر کے صیغوں کے ذریعہ دعا کی تلقین کی ﴿ادعونی﴾ تم مجھ سے مانگو۔ اور اللہ کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے پر ایسے لوگوں کو متکبر کہا اور ان کو سخت وعید سنائی، جیسا کہ سورہٴ غافر کی آیت 6 میں ہے اور حدیث میں ہے ”الدعاء ہو العبادة “ دعا عبات ہے۔ (المفرد، احمد، سنن اربعہ)
حدیث پاک میں مزید وضاحت کے ساتھ دعا سے غفلت کی صورت میں وعید بیان کی گئی ہے۔ ”من لم یسأل اللہ یغضب علیہ“۔ (ترمذی، مسند احمد، الادب المفرد، ابن ماجہ، حاکم، بزار)
کہ جو اللہ کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔
دعا کو اقرب الی القبولیت بنانے کا طریقہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” دعا تمام عبادات کا مغز اور خلاصہ ہے۔“ اس حدیث پاک کی شرح میں حجة الاسلام حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ عبادت سے مقصد اظہارِ عبودیت و بندگی ہے اور اس کا راز اسی میں ہے کہ بندہ اپنی شکستگی و عاجزی اور پروردگارِ عالم کی عظمت وقدرت کو دیکھے اور یہ دونوں باتیں (عاجزی اور عظمت) دعا میں بطریق اتم موجود ہیں، اسی لیے دعا میں تضرع و زاری جس قدر زیادہ ہوگی اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ (برکات دعا: ص111)
مشکلات کو دور کر دینے والی غیبی چیز
ایک عارف ربانی نے کیا ہی عجیب نکتہ کی بات کہی ہے، فرمایا: دعا پر اعتماد ہی نیکی ہے، جب ہم تنہائی اور خاموشی میں دعا مانگیں تو ہم اس یقین کا اعلان کررہے ہوتے ہیں کہ ہمارا پروردگار تنہائی میں ہمارے پاس ہے اور وہ خاموشی کی زبان (یعنی دل میں مانگی جانے والی دعا) بھی سنتا ہے۔ دعا میں خلوص آنکھوں کو نم (اشک بار) کر دیتا ہے اور یہی دعا کی منظوری (قبول ہو جانے) کی دلیل ہے۔ دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا آنے والی بلاوٴں کو ٹال دیتی ہے۔ دعا میں بڑی طاقت و قوت ہے۔ جب تک سینے میں ایمان ہے دعا پر یقین رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ہماری دعاوٴں کی افادیت سے محروم و مایوس نہ ہونے دیں۔(برکات دعا: ص58)
رحمت سے غفلت
مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں: ”آج کل مسلمانوں کے مصائب اور تباہی و بربادی کے جہاں بہت سے اسباب جمع ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیابی کے لیے دعا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ مصائب و آفات کے وقت انسان سینکڑوں قسم کی جائز و ناجائزتدبیروں میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بڑی تکالیف بھی اٹھاتے ہیں، بعض اوقات وہ تدبیریں الٹی پڑکر نقصان بھی دے جاتی ہیں۔ ایک طرف تو مخلوق کی نامناسب کدوکاوش کا یہ نتیجہ دیکھ لیں۔
اس کے برعکس کامیابی کی ایک اعلیٰ تدبیر جو خود مخلوق کے پالن ہار رب کریم نے سکھائی ہے ،جو سو فیصد کامیاب ہے۔ وہ کبھی نقصان دہ بھی نہیں ہوتی، بلکہ خود خداوند قدوس کا یہ فرمان ہے: ﴿ادعونی استجب لکم﴾۔
حسن ظن اور پختہ ارادہ کرکے فائدہ اٹھالو
آفات و مصائب سے تحفظ کے سلسلہ میں شیخ العرب و العجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی فرماتے ہیں، آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا رہے، تاکہ وہ ہم غربا کو اپنے ابتلا و امتحان سے محفوظ رکھے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندہ جیسا ظن (گمان) رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ فرماتے ہیں۔
فائدہ: یہ ملفوظ ہے تو چھوٹا، مگر بڑا جامع ہے، حضرت حاجی صاحبؒ نے اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اول تو اس حدیث پاک کی طرف اشارہ ہے کہ دعا مانگنا یہ فائدہ سے خالی نہیں۔ یا تو مطلوب چیز مل جاتی ہے۔ یا ذخیرہ آخرت ہو جاتی ہے۔ یا پھر دعا کی برکت سے آنے والے مصائب و فتن وغیرہ سے اللہ تعالیٰ دعا مانگنے والے کی حفاظت فرما لیتے ہیں تو دعا کی برکت سے ہمیں کتنی بڑی نعمت ملی کہ مستقبل میں آنے والے مصائب وفتن سے ہماری حفاظت فرما دی جاتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ حضرت حاجی صاحبؒ بہت بڑے عارف محقق اور روحانی نبّاض بھی ہیں، اس لیے بیماری کے ساتھ دوا بھی بتلادی۔ وہ یہ ہے کہ دعا کے ساتھ دوسری گُر کی بات یہ فرمائی کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس معاملہ میں جیسا حسن ظن و یقین رکھے گا ویسا ہی معاملہ اُدھر سے بھی ہمارے ساتھ کیا جائے گا، یہ بھی حدیث پاک ہی کا مفہوم ہے۔ حضرت حاجی صاحبؒ دعا کی ترغیب دے کر دعا مانگنے والوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو کس سے مانگ رہے ہو، وہ ہیں تو بہت ہی بڑے کریم، مگر اس سے مانگنے کا ڈھنگ اور طریقہ جو ہے اس کے مطابق مانگوگے تو کامیاب ہو جاوٴگے۔ وہ یہ کہ زمین و آسمان میں دینے والی صرف اور صرف وہی ایک اکیلی ذات ہے۔ اور مجھے ملے گا تو وہ بھی اسی ایک در اور چوکھٹ سے ہی ملے گا اور جو مانگا ہے وہ یقینا مجھے مل کر رہے گا۔ میرا مالک بڑا داتا اور کریم ہے، مجھے مایوس و ناکام ہرگز نہ ہونے دے گا۔ اس پختہ عزم و اعتماد اور یقین کے ساتھ جب مانگا جائے گا تو پھر ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس طرح مانگنے والوں کے لیے خوش خبری ہو کہ اس نے جو جائز مانگا وہ اس نے پالیا۔ (برکات دعا: ص59)
دعاوٴں پر مداومت سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں متوجہ ہوا کرتی ہیں
عارف باللہ مصلح الامت، حضرت شاہ وصی اللہ صاحبؒ (الہٰ آبادی) بیان فرماتے ہیں، بندہ ہر وقت تضرع و زاری اور الحاح کو اپنی خُو (عادت) بنالے اور اپنی صلاح و فلاح کا سوال (دعا) برابر اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا رہے اور جہاں تک ہوسکے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس الفاظ (یعنی ماثورہ عربی دعا) میں کرتا رہے، پھر جب اُدھر سے ہدایت توفیق، حسنِ نیت، قوتِ عبادت اور طاقتِ اجتناب معاصی وغیرہ امور عطا ہوتے ہیں تب ہی بندہ کا کام بنتا ہے۔
حضرت مصلح الامتؒ فرماتے ہیں ،میں نے خُو (دعا مانگتے رہنے کی عادت) بنانے کو اس لیے کہا کہ محض دو چار مرتبہ سرسری طور پر صرف زباں سے ان چند دعائیہ کلمات کے کہہ لینے سے کشودکار (مطلب حاصل) نہیں ہوگا، اس لیے کہ ان (دعاوٴں) کی حیثیت تلاوت قرآن کی سی نہیں ہے کہ آپ کو اس کا ثواب مل جائے، یا ایمان میں ترقی ہو جائے بلکہ ان کی حیثیت دعا ودرخواست کی ہے، اس لیے اس کے مضمون (دعا کے معنی و مطلب) کو سمجھ کر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز او رذلیل بن کر اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیے اور یہ مقام جب ہی حاصل ہوگا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت اور عنایت کو پیش نظر رکھ کران سے اپنی حاجت کو طلب کریں اور برابر طلب کرتے رہیں، یہاں تک کہ خدمتِ شاہ (دربارِ خداوندی) میں عرض حال اپنی خُو بن جائے، کیوں کہ جب وہ دیکھ لیں گے کہ میرے اس بندہ نے اپنے آپ کو میرے آگے گرا دیا ہے اور مجھی کو اپنا حاجت روا اور ملجا و ماویٰ سمجھ لیا ہے اور میرے علاوہ کسی دوسرے پر اس کی نظر نہیں رہ گئی تب وہ بھی ہماری طرف متوجہ ہو جائیں گے اور جب انہی کی توجہ ہو جائے گی تب ہی کام بنے گا، اسی لیے میں نے کہا ان ادعیہٴ ماثورہ کو سالکین و طالبین کے لیے دل سے مانگنا اور اس پر دوام برتنا اور غایت تضرع و الحاح کے ساتھ درگاہ واہب العطیات میں اپنی حاجت کو پیش کرنا یہی راہ مستقیم ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ سے مانگاہے۔
حجة الاسلام حضرت نانوتویؒ کا ملفوظ
عارف ربانی، حجة الاسلام، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (بانی دارالعلوم دیوبند) کا ایک عارفانہ کلام ملاحظہ فرمائیں اور اندازہ کیجیے کہ خدا تعالیٰ کے ہاں عجز و انکساری ندامت و خاکساری کو کیا مقام حاصل ہے! حضرت نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایک چیز نہیں اور جس دربار میں جو چیز نہیں ہوتی اس کی ان کے ہاں بڑی قدر ہوا کرتی ہے۔ اور وہ چیز ہے بندوں کی گریہ و زاری عاجزی و انکساری اور بندوں کی ندامت، یہ چیزیں دربار الٰہی میں نہیں ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے دربار میں ان چیزوں کی بڑی قدر ہوتی ہے #
نالہٴ موٴمن ہمی داریم دوست
گو تضرع کُن کہ ایں اعزاز اُوست
اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ ہم موٴمن کے نالہ (رونے دھونے) کو دوست رکھتے ہیں۔ موٴمن سے کہہ دو کہ وہ تضرع (گریہ و زاری) کرتا رہے، کیوں کہ یہ اس (موٴمن) کا اعزاز ہے۔
فائدہ: اکابرین کے ملفوظات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دعا میں مداومت اور عاجزی و گریہ و زاری ان دونوں چیزوں کا جو خوگر ہو جائے گا اس کے لیے خوش خبری ہے کہ وہ اپنے مسائل و مقاصد میں بہ آسانی کامیابی حاصل کرلے گا۔ (برکات دعا: ص65-62)
علامہ منصور پوری کی نکتہ سنجی
حضرت سلمان منصور پوری صاحبؒ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا علم ذرّہ ذرّہ پر حاوی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بصر (دیکھنا) جو شبِ تاریک میں سمندر کی سب سے زیادہ گہرائی کی تہہ میں پڑی ہوئی سوئی جیسی ادنیٰ شے کو بھی دیکھ رہی ہے، تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی سمع (سنوائی) جو تحت الثریٰ پہاڑ کے غار کے اندر والے کیڑے کی جو ہنوز پتھر کے اندر مخفی ہے اس کی آواز کو بھی سننے والی ہے۔ یعنی وہ سنتا ہے، دیکھتا ہے اور قریب بھی ہے (یعنی قریب ہونا دیکھنا اور سننا یہ تینوں اوصاف بطریقِ اکمل اس میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں) لہٰذا ہماری دعا و مناجات کو نہ سننے کا ادنیٰ سا شک و شبہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ (برکات دعا: ص70)
بہ کثرت دعائیں مانگنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے
امام سفیان ثوریؒ اپنی دعاوٴں میں فرمایا کرتے تھے اے وہ خدا! جسے وہ بندہ بہت ہی پیارا لگتا ہے جو بہ کثرت اس سے دعائیں کیا کرے اور وہ بندہ سخت بُرا معلوم ہوتا ہے جو اس سے دعا نہ کرے، اے میرے رب! یہ صفت تو تیری ہی ہے۔ کسی شاعر نے کتنا سچ کہا #
اللہ یغضبُ ان ترکتَ سوالہ
وبنی آدمَ حینَ یُسألُ یغضبُ
یعنی اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناخوش ہوتا ہے۔ اور انسان کی یہ حالت ہے کہ جب اس سے مانگو تو وہ روٹھ جاتا ہے۔ (برکات دعا: ص72)
دعاءِ یونس میں امت کے لیے درس عظیم
حضرت مجدد تھانویؒ قدرے تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ پس انہوں نے اندھیروں میں پکارا (ایک اندھیرا شکم ماہی۔ دوسرا قعر دریا۔ تیسرا اندھیری رات کا۔ غرض ان تاریکیوں میں دعا کی) کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے (یہ توحید ہے) آپ (سب نقائص سے) پاک ہیں (یہ تنزیہہ ہے) میں بے شک قصووار ہوں (یہ استغفار ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ میرا قصور معاف کرکے اس شدت سے نجات دیجیے )سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اُس گُھٹن سے نجات دی۔ اور (جس طرح دعا کرنے سے حضرت یونس علیہ السلام کو نجات دی) ہم اسی طرح (اور) ایمان والوں کو (بھی کرب سے) نجات دیا کرتے ہیں۔(برکات دعا: ص78)
دعامانگنے کا پیغمبرانہ انداز
دعا تو ہر انسان مانگتا ہے، مگر مانگنے کا سلیقہ ہر ایک کو نہیں ہوتا۔ انبیاء علیہم السلام کی دعائیں سبق آموز اور جامع ہوتی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیا چیز مانگنے کی ہے اور اسے کس وقت کس طرح مانگا جائے۔ یہاں پر پیغمبرانہ انداز دعا کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ دعا کو لفظ ربَّ، ربَّنَآ سے شروع فرمایا ہے، جس کے معنی ہیں، اے میرے پالنے والے، اے میرے پالنہار، ان الفاظ میں دعا مانگنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ خود یہ الفاظ حق تعالیٰ کی رحمت اور لطف و کرم کو متوجہ کرنے پر موٴثر و داعی ہیں، پھر دعا سے پہلے اور اخیر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہو ،جیسے ”ربَّنآ اور الحمدُ للہ الذی وہبَ لیْ“ سے ظاہر ہورہا ہے۔ پھر دعا بار بار مانگی جائے اور الحاح و زاری کے ساتھ مانگی جائے ملنے کے یقین کے ساتھ مانگی جائے، دعا مانگنے سے پہلے احکامِ خداوندی کی تعمیل بھی ہو، یہ اور ان جیسی بہت سے چیزیں تلاش کرنے سے مل جائیں گی۔ (برکات دعا: ص87)
شیطان کی ڈاکہ زنی اور مسلمانوں کی غلط فہمی
حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے فرمایا: آج کل لوگوں میں یہ بھی خَبط (جنون سوار) ہے کہ ”صاحب! ہمارا منہ دعا کے قابل نہیں“ ایک صاحب نے مجھ سے یہی کہا تھا، میں نے ان سے کہا کہ تم نماز پڑھ سکتے ہو؟ روزہ رکھ سکتے ہو؟ کلمہ پڑھ سکتے ہو؟ تو کہا کہ ہاں! یہ سب عبادات ہم کرتے ہیں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ جب تم نماز روزہ اور کلمہ کے قابل ہو تو پھر دعا کے قابل کیوں نہیں؟ یہ سب شیطانی رہزنیاں (ڈاکہ زنی) ہیں، وہ اس طرح دل میں وسوسہ ڈال کر، دعا جو ایک بڑی اہم عبادت ہے اس سے تم کو محروم رکھنا چاتا ہے اور نفس کچھ کام کرنا نہیں چاہتا، اس لیے ہر چیز کا ایک بہانا نکالتا ہے۔
مانگنے والوں کی زبان اور دل میں مطابقت ضروری ہے
حافظ ابن تیمیہؒ کے شاگردِ رشید علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں، انسانی دعاوٴں کی حیثیت ہتھیار کے مانند ہے، جب ہتھیار مضبوط اور تیز ہو تو مصیبتوں سے نجات و بچاوٴ ہو جاتا ہے، لیکن یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب کہ دعا بذات خود بھلی ہو اور دعا مانگے والی زبان اور دل ایک ساتھ رب کریم کی طرف متوجہ ہوں۔ اگر ان شرطوں میں سے کسی کی بھی کمی ہوئی تو دعا کے قبول ہونے میں شک ہے۔ (برکات دعا: ص129)
اللہ تعالیٰ کویہ ادا بہت پسند ہے
حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات (زیادہ) پسند ہے کہ بندہ سر ہوکر (یعنی ڈٹ کر، خوب اصرار کرکے) اللہ تعالیٰ سے مانگے، چناں چہ حدیث شریف میں آیا ہے: ”ان اللہَ یحبُّ الملِحِّینَ فی الدعاء“۔ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ گریہ و زاری کے ساتھ بار بار مانگنے والوں کو محبوب رکھتے ہیں۔ (برکات دعا: ص132)
دعا کی چار قسمیں ہیں
شیح العرب و العجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ نے فرمایا کہ دعا کی چار قسمیں ہیں:(۱) دعائے فرض، مثلاً نبی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے دعا کریں تو اب اس نبی علیہ السلام پر یہ کرنا فرض ہوگیا۔ (۲) دعائے واجب، جیسے دعائے قنوت (نماز وتر میں)۔ (۳) دعائے عبادت جیسا کہ عارفین کرتے ہیں اور اس سے محض عبادت مقصود ہے، جو امرِ الٰہی کی تعمیل (بجا آوری) کے طور پر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دعا میں تذلل ہے۔ اور تذلل (عاجزی انکساری) اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اسی لیے حدیث پاک میں ہے۔ ”الدعاء مخُّ العبادة“ (دعا عبادت کامغز ہے) وارد ہوا ہے۔ (برکات دعا: ص137)
دعائیں خوب مانگتے رہنے کا صحابہؓ کا وعدہ
حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،روئے زمین پر کوئی (ایسا) مسلمان نہیں جو اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگے مگر یہ کہ اللہ اس کی دعا قبول نہ فرمائے۔ یا یہ کہ اس کے برابر کوئی بُرائی اس سے دور کردی جائے، جب تک کسی گناہ اور قطع رحم کی دعا نہ مانگے۔ یہ سن کر صحابہؓ میں سے ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ یارسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) اب تو ہم خوب دعا مانگا کریں گے۔تو اس کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ بھی بہت قبول کرنے والے ہیں۔ (ترمذی، حاکم) (ماخذبرکات دعا: ص140)
دشمنوں سے نجات دلانے والا پیغمبرانہ اسلحہ
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا موٴمن کا ہتھیار ہے۔ دین کا ستون ہے، آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ (مسند ابویعلی، حاکم فی المستدرک)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاوٴں، جو تم کو دشمن سے نجات دلائے اور تمہارے لیے روزی (مینہ اور بارش کی طرح)برسائے، وہ یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کو پکارتے (دعائیں مانگتے) رہو، دن اور رات۔ یہ اس لیے کہ دعا موٴمن کا ہتھیار ہے، جو ہر قسم کی بلاوٴں کی محافظ اور حصول مال و جاہ کے لیے برابر وسیلہ ہے۔
حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں وہ چیز بتلاتا ہوں جو تمہیں تمہارے دشمنوں سے نجات دلائے اور تمہاری روزی بڑھائے، وہ یہ کہ تم رات دن میں (جس وقت بھی موقع ملے) اللہ تعالیٰ سے (اپنی حاجات کے لیے) دعا مانگا کرو، کیوں کہ دعا مسلمانوں کا ہتھیار ہے۔ (برکات دعا: ص146-145)
مسلمان کی تین عادتیں اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری لگتی ہیں
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی تین عادات بہت پسند ہیں: (۱)اپنی تمام طاقت و قوت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کردینا۔ (۲)پشیمانی کے وقت گریہ وزاری کرنا (یعنی گڑگرا کر دعائیں مانگنا)۔ (۳)تنگ دستی کے وقت صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکوہ شکایت نہ کرنا۔(برکات دعا: ص153)
تین قلوب کے ساتھ دعا کرو
عارف باللہ حضرت شیخ خواجہ علی رامتینیؒ فرمایا کرتے تھے، جب تین قلوب ایک میں جمع ہوکر دعا کرتے ہیں تو ایسی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک سورہٴ یٰسٓ کہ جو دل ہے قرآن مجید کا۔ دوسرا شب آخر (یعنی سحر و تہجد کا وقت) جو دل ہے رات کا اور ایک دل اللہ تعالیٰ کے موٴمن بندے کا ہے، لہٰذا جس وقت یہ تینوں دل جمع ہو جاتے ہیں تو دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے۔
مطلب یہ کہ تہجد کے وقت اٹھ کر نماز تہجد سے فارغ ہوکر سورہٴ یٰسٓ کی تلاوت کرنے کے بعد دل سے دعا کی جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ تین دلوں کے جمع ہونے کی وجہ سے کی جانے والی دعا ضرور قبول کی جائے گی۔ (برکات دعا: ص157)
امام رازیؒ کا اپنی زندگی بھر کا تجربہ
حضرت امام رازی رحمہ الله فرماتے ہیں، انسان اپنے معاملات (ضروریات، مشکلات و حاجات) میں جب بھی اللہ تعالیٰ کے ا وپر بھروسہ (پورا یقین) اور اطمینان رکھتا ہے، تو راستہ کی تمام مشکلات حل ہو جایا کرتی ہیں، لیکن جہاں غیر اللہ کا تصور ذہن میں اُبھرا، یا ان پر کسی طرح کا بھروسہ رکھا تو بس وہیں سے پریشانیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یہ میرا بچپن سے اب تک کا تجربہ ہے۔ (برکات دعا: ص192)
اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد یوں فرمایا
عارف ربانی حضرت شیخ سہل بن عبداللہ تستریؒ فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد فرمایا کہ، اے میرے بندو! راز مجھ سے کہو، اگر راز نہ کہہ سکو، تو نظر مجھ پر رکھو، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو حاجت تو صرف مجھ ہی سے طلب کرو، اگر ایسا کروگے تو تمہاری حاجت روائی کی جائے گی۔ (برکات دعا: ص195)
دعا کی قبولیت کے لیے یہ بات ضروری ہے
عارفوں میں سے کسی عارف نے یہ فرمایا کہ مخلوق سے سوال کرنے (مانگنے) کی برائیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سائل کی دعا اس کے حق میں مستجاب (قبول) نہیں ہوتی، کیوں کہ اجابتِ دعا کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ مخلوق سے ناامید اور ہر قسم کے علائق سے مبرّا ہوکر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے، مخلوق کی طرف نظر رکھنے کی حالت میں دعاوٴں کا قبول ہونا مشکل ہے۔ (مخزن اخلاق) ( برکات دعا: ص198)
تین آدمیوں کی دعاوٴں کے قبول ہونے میں کوئی شک نہیں
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعاوٴں کے قبول ہونے میں کوئی شک نہیں: (۱)والد کی دعا اپنے لڑکے کے لیے۔ (۲)مسافر کی دعا حالت سفر میں۔ (۳) مظلوم کی دعا حالت اضطرار میں۔(برکات دعا: ص221)
دعا کے لیے دوسروں سےدرخواست کرنا یہ پیغمبرانہ سنت ہے
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ: میں نے ایک مرتبہ عمرہ کے سفر پر جانے کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی اور ساتھ ہی یوں فرمایا: اشرکنا یا اخیْ فی دعائک و لا تنسنَا، یعنی میرے بھائی! ہم کو بھی اپنی دعا میں شریک رکھنا اور ہم کو بھول نہ جانا۔
یہ سن کر عمرؓ نے فرمایا، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اس کے بجائے اگر پوری دنیا مجھے مل جاتی تب اتنی خوشی نہ ہوتی جس قدر مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مقدس کلمات فرمانے سے ہوئی۔ (ابوداوٴد، ترمذی، مشکوٰة)
تشریح: حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعضے منافع اہل کمال کو بھی اپنے سے کم مرتبہ والوں سے پہنچ سکتے ہیں، پس کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے کو مستغنی محض سمجھے۔
اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دوسروں سے اپنے لیے دعا کرانا بھی محمود و مستحسن فعل ہے، یہ کوئی ضروری نہیں کہ جس سے دعا کے لیے کہا جائے وہ دعا کی درخواست کرنے والے سے افضل یا بڑا ہو۔
جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے دعا کے لیے فرمایا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اکابر کو بھی اپنے چھوٹوں سے دعا کے لیے کہنا چاہیے۔ (برکات دعا: ص246)
اسباب کے تحت ہر کام کے لیے کوشش کرنا انسان کے فرائض میں سے ہے
پیرانِ پیر سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: بیٹے تجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا اور تیرے کیے بغیر چارہ بھی نہیں ،بس تو کوشش کر، مدد کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اس سمندر (یعنی دنیا) میں جس کے اندر تو ہے اپنے ہاتھ پاوٴں کو ضرور ہلا، موجیں (حوادثاتِ زمانہ) تجھ کو اٹھا کر اور پلٹے دلاکر کنارہ تک لے بھی آئیں گی۔ تیرا کام دعا مانگنا ہے اور قبول کرنا اس کا کام، تیرا کام سعی کرنا ہے اور توفیق دینا اس کا کام۔ تیرا کام ہمت سے معصیتوں (گناہوں) کو چھوڑنا ہے اور بچائے رکھنا اس کا کام ہے۔ تو اس کی طلب میں سچا بن جا، یقینا وہ تجھ کو اپنے قرب کا دروازہ دکھلا دے گا، تو دیکھے گا کہ اس کی رحمت کا ہاتھ تیری طرف دراز ہوگیا۔ (برکات دعا: ص265)
حضور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا اس طرح مانگو
حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے فرمایا: حضرت فضالة بن عبیدؓ سے روایت ہے، ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک صحابی تشریف لائے اور آتے ہی نماز پڑھی، سلام پھیر کر (دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر) وہ کہنے لگے اللہمَّ اغفرلی وارحمنی۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے نماز پڑھنے والے! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر فارغ ہو جائے، تو پہلے اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد کر جس کا وہ اہل ہے، پھر مجھ پر درود بھیج، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کر، راوی فرماتے ہیں: اس واقعہ کے بعد ایک اور صحابی تھوڑی دیر میں تشریف لائے اور انہوں نے بھی دوگانہ ادا کی، سلام پھیر کر انہوں نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد (تعریف) کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا، بس اتنا سن کر خود نبیٴ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ، اے نماز پڑھنے والے! دعا مانگ، تیری (جائز) دعا قبول کی جائے گی۔ (ابوداوٴد، ترمذی، نسائی، احمد و ابن حبان) ( برکات دعا: ص273)
کوئی دعا آسمان تک نہیں پہنچتی مگر
حضرت عبداللہ بن یسرؓ سے روایت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعائیں ساری کی ساری رُکی رہتی ہیں، یہاں تک کہ اس کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی تعریف (حمد وثنا) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سے نہ ہو۔ اگر ان دونوں کے بعد دعا کرے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ (فضائل درود شریف:ص76) ( برکات دعا: ص277)
ہم دعا مانگتے ہیں یا اللہ میاں کو آرڈر دیتے ہیں
عارف باللہ حضرت مولانا صدیق احمد باندویؒ فرماتے ہیں،اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق صحیح نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ خدا سے جو مانگا کریں وہ ملتا رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام کام بناتا رہے تو اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے، ورنہ نہیں۔ نرینی (یہ ایک قصبہ کا نام ہے) میں ایک صاحب نماز کے بڑے پابند تھے، عرصہ کے بعد حضرت سے ان کی ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ انہوں نے نماز وغیرہ عبادات سب چھوڑ دی تھی اور مجھ سے کہا، مولانا میں اتنے دن سے نماز پڑھ رہا ہوں، پریشان حال ہوں، دعائیں کرتا ہوں، مگر میری پریشانی دور نہیں ہوتی، ایسی نماز پڑھنے سے کیا فائدہ؟ اس لیے میں نے نماز وغیرہ چھوڑ دی۔
یہ سن کر حضرتؒ نے فرمایا: ارے بندہٴ خدا! تم اللہ تعالیٰ کی ماننے آئے ہو یا خدا سے منوانے آئے ہو؟ نماز تو اس واسطے پڑھی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، فرض ہے، بندگی کے واسطے نماز پڑھی جاتی ہے پریشانی ہو یا نہ ہو، پھر ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کب مانگتے ہیں ہم تو اللہ تعالیٰ کو آرڈر دیتے ہیں کہ، یا اللہ یہ بھی ہو جائے، یہ بھی کر دیجیے (نعوذباللہ) جیسے نوکر سے کہا جاتا ہے کہ یہ کام کرلینا، یہ بھی کردینا ، کھیت میں ہل بھی جوت دینا، بازار سے سودا بھی لیتے آنا وغیرہ؛ اسی طرح (نعوذباللہ) ہم بھی اللہ تعالیٰ سے مانگتے نہیں بلکہ آرڈر دیتے ہیں، یاد رہے! اللہ تعالیٰ مانگنے پر دیتے ہیں، آرڈر پر نہیں دیتے۔
مانگنا اور چیز ہے، آرڈر دینا اور چیز ہے، مانگنے کے طریقے سے مانگو پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ دیتے ہیں یا نہیں؟ پہلے اللہ تعالیٰ سے نسبت تو قائم کرو، احکام پر عمل کرو﴿ایاک نعبد﴾ پہلے فرمایا کہ ہمارا آپ سے یہ تعلق ہے کہ تیری غلامی کا اقرار کرتے ہیں اور جب تیرے غلام ہیں تو تیرے سوا ہم جائیں کہاں؟ تو ہی ہماری مدد فرما!
ہم بندے بننے کو تیار نہیں اور لینے کو تیار ہیں، نماز ایک وقت کی نہیں پڑھتے، گھر میں تلاوت نہیں، ٹی وی گھر میں ہے اور چاہتے ہیں کہ جو ہم چاہیں وہ اللہ تعالیٰ پورا کردیں، شکایت کرتے ہیں کہ اولاد کہنا نہیں مانتی، ارے! تم اللہ کی کتنی مانتے ہو؟ ایک بے نمازی کی نحوست نہ معلوم کتنے گھروں تک ہوتی ہے۔ بے نمازی کے گھر اللہ کی رحمت و برکت نہیں ہوتی اور یہاں پورا کا پورا گھر بے نمازی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے آئے، دعائیں کیسے قبول ہوں؟ (برکات دعا: ص664)
خلاصہ یہ کہ آج ہم عمومی طور پر اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں اور اگر ہیں تب بھی اس پر عمل پیرا نہیں، جہاں ہم نے اسلام کی بہت سی تعلیمات سے کنارہ کشی اختیار کی وہیں ہم دعا سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں نہ اس کی تعریف کا ہمیں علم، نہ اس کی حقیقت سے واقف، نہ اس کی طاقت اور اثر پر یقین، نہ دعا کرنے کا طریقہ اور سلیقہ معلوم۔ احقر نے برکات دعا نامی حضرت مولانا ایوب صاحب سورتی ماکھنگوئی دامت برکاتہم سے اکثر و بیشتر اقتباسات اس مضمون میں نقل کردے ہیں، ورنہ کتاب تو بڑی ضخیم ہے؛ البتہ اس موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔ اللہ موٴلف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو دعاوٴں سے وابستہ کردے اور اللہ ہم سے راضی ہو جائے۔اب چند اشعار پر میں مضمون کو سمیٹتا ہوں۔ محمد یوسف شکور تاج دعا کے بارے میں فرماتے ہیں:
رد وقبول پر تیری ہرگز نہ ہو نظر
تو بندگی وعجز سے حسنِ وفا سے مانگ
اے تاج پھر تیری دعا ہو جائے گی قبول
زاری سے انکساری سے اور التجا سے مانگ
حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں:
کہاں جائے جس کا نہیں کوئی تجھ بن
کسے ڈھونڈے جو ہو طلبگار تیرا
تو میرا، میں تیرا، میں تیرا، تو میرا
ترا فضل میرا مرا کار تیرا
کوئی تجھ سے کچھ، کوئی کچھ چاہتا ہے
میں تجھ سے ہوں طلبگار تیرا
اپنی رضا میں مجھ کو مٹا دے اے مرے اللہ اے مرے اللہ
کردے فنا سب مرے ارادے اے مرے اللہ اے مرے اللہ
جام محبت اپنا پلادے اے مرے اللہ اے مرے اللہ
دل میں مری یاد اپنی رچادے اے مرے اللہ اے مرے اللہ
شغل میرا بس اب تو الٰہی شام وسحر ہو اللہ اللہ
لیٹے بیٹھے، چلتے پھرتے، آٹھ پہر ہو اللہ اللہ
مایوس نہ ہوں اہل زمیں اپنی خطا سے
تقدیر بدل جاتی ہے مضطر کی دعا سے
قفل در قبول نہ کھولے یہ بعید ہے
انسان کے پاس دست دعا ہی کلید ہے
کیوں دعا اپنی نہ ہو بابِ ظفر کی کنجی
گر یہ ہے قفلِ درِ گنج اثر کی قبول
تراشے تیرے وہم نے جو صنم ہیں
وہ اصنامِ باطل گراتا چلا جا
نہیں کوئی حاجت روا جز خدا کے
حقیقت یہی ہے بتاتا چلا جا (برکات دعا: ص778-780)