اخبار جامعہ
ادارہ
حضرت شیخ الحدیث زید مجدہ کی مصروفیات
جامعہ دارالعلوم کراچی میں امتحانی پرچوں کی چیکنگ کے دوران حضرت شیخ زید مجدہ باوجود پیرانہ سالی کے باقاعدہ دارالعلوم جاتے رہے اور چیکنگ سے متعلقہ امور کا جائزہ لیتے رہے۔
28 جولائی2011ء کو شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب برکاتہم العالیہ اسلام آباد روانہ ہوئے اور وہاں سے ٹیکسلا میں مرکز اصلاح والارشاد مسجد خاتم النبیین میں عظمت قرآن و دستار فضیلت کانفرنس سے حضرت نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ جس میں حضرت نے فرمایا کہ ” الله اور رسول کا نام لیوا کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ تاریخ امریکا کو دہشت گرد ثابت کرے گی، دیوبند یت عزت او روقار کا نام ہے جس کے تربیت یافتہ علما کرام نے پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی اور اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن وسنت کی اشاعت کے لیے قربانیاں دی ہیں دہشت گردی کے نام پر چالیس ہزار کلمہ گو مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں مدارس امن وآشتی کے مراکز ہیں اور الله اور رسول کے نام لیوا دہشت گرد نہیں ہو سکتے۔
29 جولائی کو حضرت شیخ الحدیث صاحب اسلام آباد سے ملتان تشریف لائے، یہاں وفاق المدارس کے مرکزی دفتر میں مصروفیت رہی اور وفاق کے امتحانی نتائج کا اعلان بھی کیا گیا۔
2 اگست کو حضرت شیخ مدظلہ ملتان سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے، سفر میں مولوی حماد خالد صاحب ہمراہ رہے۔
حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب کا سفر
حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب بیرونی سفر کے لیے روانہ ہوئے ، اسی سفر میں عمرہ کی سعادت بھی حاصل فرمائی تادم تحریر یہ سفر جاری ہے۔
اخبار وفاق (امتحانی نتائج)
29 شعبان المعظم کو وفاق المدارس العربیہ کے تعلیمی بورڈ نے صدر وفاق حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم الله خان صاحب کی صدارت میں سالانہ وفاقی امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ امسال وفاق المدارس کے تحت امتحان دینے والے طلبہ کرام کی تعداد پورے ملک میں دو لاکھ کے قریب ہے ۔
وفاق المدارس العربیہ کے پس منظر وپیش منظر ، اغراض و مقاصد اور منہج کے بارے میں قارئین الفاروق کا عوامی حلقہ یقینا معلومات رکھتا ہے اور مزید بھی بہت کچھ جاننے کا خواہش مند ہے لہٰذا کچھ․ چید چیدہ امور حاضر ہیں۔
آج سے تقریباً چھپن سال قبل پاکستان کے دینی مدارس اپنے علاقوں کی سطح پر انفرادی شکل میں تعلیمی خدمات انجام دے رہے تھے۔
الله تعالیٰ شانہ نے اس زمانے کے اکابر علماء کرام کو اس منتشر قوت کی شیرازہ بندی اور دینی حلقوں کے اتحاد ووحدت کا الہام فرمایا اور وفاق المدارس العربیہ جیسی خالص دینی ملکی اور تعلیمی تنظیم وجود میں آئی اور صورت اس کی یہ ہوئی کہ 1957ء میں پاکستان کے فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کاپروگرام بنایا جس کے جواب میں14،15 ربیع الثانی1379ھ بمطابق19،18 اکتوبر1957ء کو استاد العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھری نور الله مرقدہ کی صدارت میں پاکستان کے ممتاز علماء کرام کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وفاق المدارس العربیہ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کا مقصد حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے دفاعی آواز بلند کرنا، ملک بھر میں پھیلے ہوئے مدارس کو ایک نصاب تعلیم کے تحت لانا، ان میں نظم وضبط اور بہتری لانا، ایک ہی بورڈ سے ان کے امتحانات لے کر اسناد جاری کرنا اور دور حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق نصاب تعلیم میں مناسب تبدیلی اورترمیم کرنا تھا اور الحمدلله آج تک یہ ادارہ اس سفر پر کام یابی کے ساتھ گامزن ہے اور اس وقت دنیا کے سب سے بڑے غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
وفاق المدارس کے صدارتی منصب پر حضرت مولانا شمس الحق افغانی ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھری، حضرت مولانا محمدیوسف بنوری، حضرت مولانا مفتی محمود صاحب، حضرت مولانا دریس میرٹھی اور موجودہ صدر شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان ادام الله فیوضہ جیسے کبار علماء کرام فائز رہے۔
وفاق المدارس کے تحت پہلا امتحان1960ء میں منعقد ہوا۔ اس وقت کے سات سینٹروں میں100 طلبہ دورہ حدیث نے وفاق کا امتحان دیا۔ 22 سال تک وفاق المدارس بورڈ کا امتحان صرف دورہ کے طلباء تک محدود رہا۔ پھر1983 میں خاصہ،1984ء میں عامہ،1985 میں عالیہ،1989 میں متوسطہ جب کہ 2009ء میں عالمیہ سال اول ( موقوف علیہ) کا امتحان بھی وفاق کے تحت شروع ہوا۔ اسی طرح 1989 میں بنات کے تعلیمی درجات کا امتحان بھی وفاق سے لیا جانے لگا۔
اور اب صورت حال یہ ہے کہ وفاق المدارس کے تحت ہر سال تین شعبوں کا امتحان لیا جاتا ہے۔ شعبہ کتب ( بنین وبنات)۔ شعبہ تحفیظ (بنین وبنات)۔ شعبہ دراسات دینیہ ( بنین وبنات) اور یہ تینوں شعبے ملک کے پانچوں صوبوں اور آزاد کشمیر میں رائج ہیں۔
اس وقت وفاق المدارس کے فضلاء کی تعداد تقریباً652000، فاضلات508000 اور حفاظ630000 ہیں جب کہ وفاق سے الحاق شدہ مدارس13 ہزار سے متجاوز ہیں۔
اللھم زد فزد۔ آمین
جامعہ فاروقیہ میں ماہ رمضان
رمضان سال بھر کے مہینوں میں ، عبادتوں، تلاوتوں او ردعاؤں کا ایک مبارک مہینہ ہے۔ الله تعالیٰ سے اپنے گناہوں کو بخشوانے اور اپنی مرادیں منوانے کا مہینہ ہے۔ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے ، مسلمانوں کے لیے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی اور اس کی ایک ایک گھڑی متاع بے بہا ہے۔ عالم اسلام اور خاص کر پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ماہ مبارک میں الله تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کیا جائے گڑ گڑایا جائے، ملک وملت او راپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے خوب خوب دعائیں کی جائیں اور آزمائشوں اور آفتوں سے دور رہ کر پناہ طلب کی جائے۔
ماہ رمضان میں مدارس دینیہ میں تعلیمی سرگرمیاں تو معطل ہوتی ہیں، تاہم ذکر واذکار، تلاوت، درس ، تربیت، اور تزکیہ جیسے اعمال سے دینی اور روحانی فضا قائم ہوتی ہے اور دینی علمی شخصیات حلقائے درس، محافل ذکر وتزکیہ اور تربیتی مجالس کے ذریعے اپنے دینی فیوض وبرکات پھیلاتے ہیں اور طالبین وسالکین کی پیاس بجھاتے ہیں۔
جامعہ فاروقیہ کراچی کی جامع مسجد فاروقی میں اس بار حسب سابق نماز فجر کے بعد مفتی سمیع الله صاحب ( استاذ ورفیق دارالافتاء) اور نماز عصر کے بعد مفتی معاذ خالد صاحب درس حدیث اور فضائل ومسائل کے بیان میں مصروف ہیں، اور نمازی حضرات انتہائی شوق سے ان دروس میں شریک ہوتے ہیں۔
جامعہ فاروقیہ کراچی فیزII تعلیم وتعمیر
جامعہ فاروقیہ کراچی فیزII میں تعطیلات کے دورانیے میں امسال دورہ صرف ونحو کا اہتمام کیا گیا، دورہ صرف مفتی عمر فاروق صاحب اور دورہ نحو مفتی عزیز محمد صاحب نے پڑھایا۔ اسی طرح جامعہ میں زیر تعمیر عظیم الشان مسجد محمد بن قاسم کی پہلی منزل کی بھرائی بھی آخری مراحل میں ہے اور گیس کی فراہمی بھی بالکل آخری مراحل میں آگئی ہے، قارئین کرام دعا فرمائیں کہ ان تمام امور میں الله پاک ادارے کی مدد ونصرت فرمائے۔ آمیۣن