بے حد مسرت کا اظہار فرمایا اور مرحومہ کے لئے مغفرت اور قاری صاحب کے عملی ترقی میں اضافے کی خصوصی دعا فرمائی ۔ یہی وجہ تھی کہ قاری صاحب ہمیشہ کہتے بھی تھے کہ یہ جوکچھ ہے یہ حضرت مفتی صاحب کے دعائوں کا ثمرہ ہے ۔
فراغت کے فوراً بعد اپنی مادر علمی دارالعلوم رحمانیہ شبقدر سے تدریس کا آغاز کیا اور تین برس تک شیخ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ شاہ مہتمم مدرسہ مذکورہ کے زیر سایہ علمی موتیاں بکھیر تے رہے ۔ چونکہ قاری صاحب نے 1989ء کو طالب علمی کے زمانہ میں اپنے گائوں کی مسجد میں تجوید وحفظ کا مدرسہ قائم کیا تھا، جو رفتہ رفتہ درس نظامی کے طلبا کا مرجع بھی بن گیا ۔ لہٰذا 1996ء میں وہاں سے علیحدہ ہوئے اور گائوں میں اس مدرسہ کے لئے مستقل علیحدہ زمین حاصل کرکے موجود جگہ پر اس ادارہ کو منتقل کردیا ۔ چونکہ اس مدرسہ کا پہلا نام اپنے کام کے اعتبار سے مدرسہ حفظ القرآن والتجوید تھا اور اب کام کا میدان درس نظامی تک بڑھ گیا لہٰذا اپنے اساتذہ سے اس نئے مدرسہ کا نام تجویز فرمانے کے لئے اکوڑہ خٹک آئے جہاں تین اساطین علم وعمل مولانا مفتی محمد فرید مولانا فضل الٰہی اور مولانا مغفور اللہ صاحب نے اس دارالعلوم کا نام جامعہ محمدیہ تجویز فرمایا۔ اس وقت اس مدرسہ میں چھ سات سو تک طلبا مصروف تعلیم ہیں۔علاقہ اور گرد ونواح میں جامعہ محمدیہ کے درجنوں شاخیں دینی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں مسلمان بچوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ یہ سب کچھ ان شاء اللہ موصوف کے لئے باقیات صالحات ہیں۔ احقر کے ساتھ موصوف کے تعلقات برادرانہ اور حد درجہ بے تکلفی پر مبنی تھے ۔ دارالعلوم حقانیہ کے موجودہ زیر تعمیر جامع مسجد مولانا عبدالحق ؒ کے لئے سال بھر قبل جب ہم نے شبقدر اور چار سدہ کے فضلا کو متوجہ کیا تو موصوف نے مقدور بھر بڑی تندہی کے ساتھ اس کام میں حصہ لیا میں بعض اوقات ان کو چھیڑ نے کے لئے کہتا کہ آپ نے مسجد کی تعمیر میں کھل کر کام نہیں کیا ۔ تو متبسمانہ لہجے میںمختلف علاقوں میں چندوں کی تفصیل سے آگاہ فرماتے ۔
تصوف وسلوک کے سلسلہ میں آپ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد فرید صاحب کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور تکمیل اوراد ووظائف پر ان کی طرف سے ماذون ہوئے ۔اس سے قبل موقوف علیہ کے سال مولانا مطلع الانوار ؒ اور مولانا عنایت اللہ صاحب ان ہر دو حضرات سے کافی استفادہ فرمایا ۔ مولانا مفتی محمد فرید صاحب نے ایک دفعہ خوش طبعی میں پوچھا کہ بھیا بادشاہت رکھتے ہو یا نہیں ؟ انہوں نے الفاظ کو نہ سمجھتے ہوئے سوالیہ نگاہوں سے حضرت کی طرف دیکھا تو آپ نے دوبارہ فرمایا کہ بھیا بادشاہت رکھتے ہو یا نہیں ؟ یعنی امامت ۔ تو آپ نے جواب دیا کہ فی الحال تو مدرسہ میں