Deobandi Books

ماہنامہ الحق اگست 2017 ء

امعہ دا

56 - 65
صاحب نے موصوف کی علمی اور اصلاحی خدمات کے مد نظر شفقت فرماتے ہوئے دعوت قبول فرما لی۔ جب ہم ان کے گائوں کے قریب پہنچے تو موصوف موٹرسا  ئیکلوں کے جلوس کے ساتھ قائد جمعیت کے استقبال کیلئے آئے ۔ اس موقع پر ان کے خوشی کی کوئی انتہاء معلوم نہیں ہورہی تھی ۔اپنے اکابرین کے ساتھ ہمیشہ بھر پور روابط استوار رکھتے آئے ۔ ختم بخاری سے قبل ترحیبی کلمات کے دوران فرمایا :’’ میں نے دارالعلوم حقانیہ میںدوران درس ایک رات خواب میں امام الاولیاء حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کی زیارت اس طرح کی ،کہ حضرت کے سامنے ایک بڑے دیگ میں دال کا پکاہوا سالن ہے اور آپ ؒ اپنے مبارک ہاتھوں سے طلبہ میں تقسیم فرمارہے ہیں اور آپ نے بندہ کو بھی اپنے مبارک ہاتھوں سے سالن دیا، جسے بندہ نے کھایا‘‘۔اگلی صبح بندہ نے حضرت مولانا مفتی محمد فرید صاحب کو خواب سنایا ، تو انہوں نے تعبیر بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آپ سے دین کی خدمت کا کام لے گا۔ 
	اس تقریب میں عم محترم نے اپنی خطاب میںان کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: کہ آج آپ کا یہ مدرسہ جس میں سینکڑوں طلبا پڑھ رہے ہیں یہ اسی شیخ الحدیث ؒ کے ہاتھ سے کھائے ہوئے دال کے اثرات وثمرات ہیں ۔ 
	افسوس آج !!وہ عظیم عالم دین ہم نے گنواں دیا ’’ رحمہ اللہ تعالیٰ ‘‘ ۔ موصوف کے مختصر احوال جو میسر ہوسکے وہ یوں ہیں: 
	آپ 1965ء کو حاجی محمد الیاس کے ہاں پیدا ہوئے ، مقامی سکول میں عصری تعلیم کی ابتداء کی 1982ء کو میٹرک پاس کیا اور پھر مٹہ ہائی سکول کے ایک عالم دین استاد قاری محمد زرین سے قرآن پاک حفظ کا آغاز کیا ، پھر ابازئی کے معروف قاری موسیٰ سے تکمیل حفظ قرآن کیا ۔ بعد ازاں تجوید کے لئے قاری عبداللہ شاہ عرف ناسافہ باچا کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے ۔ درس نظامی کا آغاز جامعہ رحمانیہ سے کیا ، وہاں سے پھر جامعہ اسلامیہ چارسدہ کا رخ کیا ، فنون کی تکمیل کے بعد دارالعلوم دیوبند کے فضلاء شیخ الحدیث مولانا مطلع الانوارؒ اور مولانا عنایت اللہ ؒسے کسب فیض پانے کے لئے دارالعلوم تخت آباد میں داخلہ لیا۔ 
	علم حدیث کے حصول کے لئے 1992ء میں ایشیاء کی عظیم اسلامی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ پہنچے جہاں 1993ء میں دستار فضیلت حاصل کی ۔طالب علمی کے زمانہ میں ایک دن آپ کی دادی فوت ہوئی تو اسباق میںانہماک کا یہ حد تھا کہ اس دن صبح پہلے مفتی صاحب کے اسباق کے لئے اکوڑہ خٹک پہنچے اسباق کے بعد مفتی صاحب کو اس حادثے کا ذکر کیا تو انہوں نے اس قربانی اور اسباق میں حاضری پر

Flag Counter