Deobandi Books

اللہ تعالی کا پیغام دوستی

ہم نوٹ :

15 - 26
بہکانے کی کوشش کی ہے۔ تو سن لو جب حج ختم ہوجائے گا تو مکہ کے نومسلم کچھ اونٹ اور بکریاں اپنے ساتھ لے جائیں گے اور تم لوگ خدا کے رسول کو لے جاؤگے تو بتاؤ! تم زیادہ نصیبے والے ہو یا اونٹ اور بکریاں لے جانے والے؟ بتاؤ! اونٹ اور بکریوں کی قیمت زیادہ ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی؟ بس صحابہ اس تقریر پر اتنے روئے کہ داڑھیوں سے آنسو بہہ کر نیچے گررہے تھے۔
معلوم ہوا کہ بعض وقت شیطان چھوٹی چیز دکھاکر بڑی چیز سے محروم کردیتا ہے مثلاً دکھایا کہ کوئی چہرہ نمکین اور حسین ہے، اب شیطان کے کہنے سے اللہ کا حکم توڑ کر اس حسین کو حاصل کرنے کی ناجائز اور حرام کوشش کی اور اللہ کو ناراض کردیا۔ بتاؤ! کیا یہی انصاف ہے کہ بندہ اللہ کے قانون کو توڑ دے اور اپنا دل خوش کرلے۔ مالک کی مرضی کے خلاف غلام کا اپنے دل کو خوش کرلینابھی حرام ہے۔ اللہ حکم دیتے ہیں:
قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ  اَبۡصَارِہِمۡ7؎
اے نبی! آپ ایمان والوں سے فرمادیجیے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی کرلیں۔ کسی کی ماں، کسی کی بہو، کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، کسی کی خالہ، کسی کی پھوپھی کو نہ دیکھیں اور یہ آنکھیں کھول کر اُلّو کی طرح دیکھ رہا ہے اور اللہ کو ناراض کررہا ہے۔ ایسے ہی لڑکوں کو دیکھنا بھی حرام ہے۔ کسی باپ سے پوچھو کہ اس پر کیا گزرتی ہے اگر اس کو خبر مل جائے کہ اس نے میرے لڑکے کے ساتھ بدفعلی کی۔ اگر باپ کا بس چلے تو اس مردود خبیث کا خون پی لے، مگر انسان حریص ہے شہوت کا۔ شہوت کے سامنے کچھ نہیں سوچتا کہ میرے اس فعل سے کیا حرج ہوگا۔ قومِ لوط نے بھی کچھ نہیں سوچا تھا تو کیا انجام ہوا کہ چھ لاکھ کی بستی کو حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک بازو سے اُٹھاکر لے گئے اور ان کے پانچ سو بازو ہیں، ایک بازو سے چھ لاکھ کی بستی کو آسمان تک لے گئے اور وہاں سے اُلٹ دیا۔ اس پر پھر پتھر بھی برسائے گئے اور ہر پتھر پر ان ظالموں کا نام بھی لکھا تھا۔ تو دیکھو شیطان نے کتنا نقصان پہنچایا، مرنے والی لاشوں کو ’’کیا‘‘ دکھادیا اور اللہ کے قانون کو اس قوم نے توڑ دیا۔ جس فعل کو اللہ نے منع کیا تھا اُسی فعل کو کیا اور ہلاک ہوگئے۔
_____________________________________________
7؎  النور : 30
Flag Counter