لئے جانا چاہتا ہوں، چونکہ حضرت کی زندگی میں ان کی عموماً ڈرائیونگ کی خدمت کرتے رہے، آخرت میں بھی ان کی رفاقت کے اشارے مل رہے تھے۔
تدفین کا عمل شروع ہوا تو مقبرۂ حقانیہ میں تین کرسیاں لائی گئیں۔ شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق‘ شیخ الحدیث مولانا انوار الحق تشریف فرما ہوئے۔ استاذ مکرم مولانا عبدالقیوم حقانی مدظلہ کو مولانا سمیع الحق مدظلہ نے اپنے پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا ، اور مجھے اپنے دونوں اساتذۂ کرام کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
مقبرۂ حقانیہ کی تجویز و تشکیل: شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق مدظلہ فرما رہے تھے، مقبرۂ حقانیہ کی تجویز‘ نقشہ اور تشکیل میں بھی شفیق الدین فاروقی میرے ساتھ شریک تھے۔ جب دارالحفظ کی تعمیر ہورہی تھی۔ والد مکرم شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ نے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان کے ساتھ حاجی محمد یوسف‘ حاجی غلام محمد‘ ناظم مولانا سلطان محمودؒ اورالحاج سید نو ربادشاہ و دیگر اراکین بھی تشریف فرما تھے۔ میرے دل میں اللہ نے حقانیہ کے لئے اپنے قبرستان کی تجویز القاء فرمائی۔ میں نے شفیق الدین فاروقی سے مشورہ کیا۔ انہوں نے میرے آئیڈیا کے مطابق نقشہ بنایا۔ بعد میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ سے ہم نے تذکرہ کیا کہ دارالحفظ کے باہر یہ چھوٹا خطہ مقبرہ حقانیہ کے لئے مخصوص کیا ہے،اشارتاً ہم نے گویا حضرت سے ان کی آخری آرامگاہ کی منظوری لینا چاہی تو انہوں نے بڑے غور سے بات سنی، اور خاموش ہوگئے۔ ان کے چہرے کی بشاشت اور اندازِ سماعت سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ اس پر راضی ہیں۔ اور الحمدللہ کہ جب قبرستان بنا اور سب سے پہلے ناظم سلطان محمودؒ کی تدفین ہوئی تو حضرتؒ حیات تھے۔ نماز جنازہ بھی انہوں نے پڑھائی تھی اور تدفین میں آخر تک تشریف فرما تھے۔
شیخ الحدیث مولانا حقانی نے کہا، ہاں! مجھے بھی یہ سارا منظر کل کی طرح یاد پڑتا ہے۔
مولانا سلطان محمودؒ کی تمنا: مولانا سلطان محمود کی تمنا تھی اور بارہا اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جب مجھے موت آئے تو شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کے قدموں میں ہی جاں جانِ آفریں کے سپرد ہو۔ پھر تکوینی طور پر وہی ہوا جو وہ چاہتے تھے۔ خدام نے حسنِ اتفاق سے چادر ڈال کر شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحبؒ کو جنازگاہ کے ساتھ لگی ہوئی عیدگاہ کی بنیاد پر بٹھادیا۔