کیا، تعزیت کی اور ساتھ ہی شاہ عبداللہ کی طرف سے شاہی اضیاف کے طور پر خاندان کے دس افراد کو سفرِ عمرہ کی دعوت دی ، مولانا نے شکریہ ادا کیا اور اس حادثہ کی وجہ سے دعوت قبول کرنے سے معذرت کی مگر شفیق مرحوم کے سانحہ کی وجہ سے ہم لوگ جا نہیں سکے، تب معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے ہمیں اب تک کیوں روکے رکھا۔ گویا تکوینی طور پر اپنے بندوں کو بتا دیا گیا کہ مجھ سے گلہ نہ کرو میں نے تمہیں اسلئے روک دیا تھا کہ تم لوگ شفیق صاحب کے آخری لمحات کی خدمت‘ نماز جنازہ‘ تدفین اور تعزیت سے محروم نہ رہو، ورنہ زندگی بھر یہ حسرت رہتی کہ ہم لوگ مرحوم کے آخری لمحات میں ان کی خدمت‘ نماز جنازہ اور تدفین میں شریک نہ ہوسکے او رحق رفاقت ادا کرنے سے محروم رہے۔
الحاج ایوب مامون کا دلچسپ ارشاد:
ارشاد فرمایا: الحاج ایوب مامون صاحب نے کراچی سے تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ شفیق مرحوم طویل عرصے سے خود کو ستائیسویں (۲۷) رمضان تک کھینچتے رہے۔ بالآخر اس میں وہ کامیاب ہوگئے اور اللہ نے ان کو ستا ئیسویں رمضان کی شب کو اپنے ہاں بلا لیا۔
منامی تبشیرات:
مولانا راشد الحق سمیع حقانی نے بتایا کہ ایک صاحب نے ولی کامل حضرت مولانا رحیم اللہ باچا صاحبؒ اضاخیل بالا کو خواب میں دیکھا کہ شفیق صاحب پر ہاتھ ڈالے ہوئے ان پر شفقت و محبت کی نظرِ عنایت رکھے ہوئے ہیں۔
مولانا عرفان الحق حقانی نے کہا کہ ہاں! شفیق صاحب کو بھی حضرت باچا صاحبؒ سے بے حد محبت تھی۔ وفات سے تین روز قبل کہا کہ مجھے باچا صاحب کے پاس لے جاؤ کہ ان سے ملاقات کو جی چاہتا ہے۔ پھر کہا کہ مولانا حافظ محمد ابراہیم فانیؔ صاحبؒ سے بھی ملاقات کیلئے جانا چاہتا ہوں مجھے ان کے ہاں لے چلئے۔
قرب وصال کی بشارتیں:
شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق نے فرمایا: وفات سے قبل اہل خانہ سے کہا ’’میرا اڑن کھٹولا تیار کھڑا ہے میں جانا چاہتا ہوں‘‘۔ پوچھا گیا کہاں ہے؟ اشارہ سے کہا‘ دارالعلوم میں، پھر کہا عیدگاہ کے قریب، (یہیں مقبرۂ حقانیہ ہے۔) __ ایک مرتبہ فرمایا: شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کی ڈرائیوری کے