Deobandi Books

ماہنامہ الحق اگست 2014ء

امعہ دا

46 - 64
مولانا سمیع الحق کی اشکبار آنکھیں: 
	شفیق الدین فاروقی کا تذکرہ اور ان کی تاریخی خدمات و رفاقت اور تمام تر پس منظر بیان کرنے کے دوران شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق مدظلہم فرطِ غم سے نڈھال تھے۔ آواز گلوگیر تھی اور آنکھیں پرنم تھیں۔ 
بعد میں استاذ مکرم مولانا عبدالقیوم حقانی نے فرمایا: ’’برادرم شفیق الدین فاروقی کا اور کچھ بھی عمل نہ ہو مگر مولانا سمیع الحق مدظلہ کا ان کیلئے یہ دردِ دل‘ یہ شہادت اور گریہ اور فراق کے آنسو بھی نجات کیلئے کافی ہیں۔ 
سامعین و حاضرین کی آنکھیں پرنم تھیں: 
	اس موقع پر شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق مدظلہ مقبرۂ حقانیہ کی طرف چلتے ہوئے رک رک کر مولانا حقانی کو جو درد بھرے واقعات سناتے رہے، اس سے ساتھ چلنے والے رفقاء بھی محظوظ ہوتے رہے۔ جب دارالحفظ کے سامنے پہنچے، میں نے دیکھا تو ساتھ چلنے والے سب حاضرین و سامعین کی آنکھیں پرنم تھیں۔ مگر میری بدنصیبی تھی کہ لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے میں قریب نہ پہنچ سکا اور بُعد کی وجہ سے حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ کی باتیں بھی نہ سمجھ سکا۔ 
شاہ عبداللہ کی دعوت اور تکوینی نظام: 
	استاذ مکرم مولانا حقانی نے اس رمضان میں سفرِ عمرہ کے لئے شاہ عبداللہ کی مولانا سمیع الحق کو دعوت اور تکوینی امور کے حوالے سے کوئی بات چھیڑی تو شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق نے ارشاد فرمایا: 
	جی ہاں! بہت سی باتیں تکوینی ہوتی ہیں اور وقوع کے بعد جب حقائق کھلتے ہیں تب سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا تھی؟ 
	شفیق مرحوم کے سانحۂ ارتحال سے قبل ہم خاندان کے دس افراد عمرہ کے لئے تیار تھے، اور عزمِ مصمم کر رکھا تھا مگر تاخیر ہوتی رہی۔ اللہ پاک نے اس سے قبل حج و عمرہ کا ارادہ کرلینے کے بعد کبھی بھی سفرِ حج و عمرہ سے ہمیں محروم نہیں فرمایا۔ شفیق صاحب مرحوم اکثر حج او رعمروں میں ساتھ ہوتے، اب کے بار تاخیر ہوتی رہی حتی کہ جب شفیق صاحب کا انتقال ہوگیا،۲۷؍رمضان کی مبارک شب، اسی روز سعودی سفارتخانہ کے قائم مقام سفیر جناب جاسم صاحب نے ان کی وفات کے دو گھنٹے بعدفون
Flag Counter