Deobandi Books

ماہنامہ الحق اگست 2014ء

امعہ دا

45 - 64
ہوئے کہا کہ شفیق بھائی نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کے سانحۂ ارتحال پر ماہنامہ الحق کی خصوصی اشاعت کے لئے اپنے مشاہدات لکھواتے ہوئے ایک دلچسپ قصہ سنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں کے دن تھے، راولپنڈی میں ایک جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحقؒ نے فرمایا کہ یہاں مولانا قاری سعید الرحمن صاحب کے مدرسہ میں آرام کرلیتے ہیں اور عصر کے وقت اکوڑہ کے لئے روانہ ہوجائیں گے، ان شاء اللہ افطار اکوڑہ میں گھر پر کریں گے‘‘۔ 
	چنانچہ واپسی پر مانسر کیمپ کے قریب اچانک گاڑی خراب ہوگئی۔ حضرت نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا خیریت ہے، شاید گرم ہونے کی وجہ سے گاڑی بند ہوگئی ہے۔ میں دیکھتا ہوں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ ریڈی ایٹر میں پانی کم ہے، قریب ہی سے پانی لے کر آیا اور دو ڈبے پانی ڈالا۔ لیکن پھر بھی کم محسوس ہوا۔ چار پانچ ڈبے ڈالنے کے بعد میں ششدرہ گیا۔ حیرانگی کی انتہا نہ رہی کہ پانی نیچے نہیں گرتا اور ریڈی ایٹر بھی خالی ہے۔ پریشان ہوکر اسی حالت میں گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ حضرت نے فرمایا: چلو بیٹے‘ اللہ مدد کرے گا۔ اور ہم اس صورت میں روانہ ہوئے کہ گاڑی کے انجن سے عجیب و غریب قسم کی آوازیں آرہی تھیں۔ سخت جھٹکے لگتے تھے۔ گاڑی خود بخود چلتے چلتے بند ہوجاتی تھی اور پھر روانہ ہوجاتی تھی۔ اسی حالت میں جب ہم گھر کے دروازے پر پہنچے تو مغرب کی اذان ہورہی تھی۔ حضرت کے ارشاد کے مطابق ہم افطاری کے وقت گھر موجود تھے۔ 
	دوسرے دن صبح مکینک (مستری) کو بلایا اور گاڑی چیک کرائی تو اس نے کہا کہ اسے ورکشاپ میں لے جاکر انجن کھولنا پڑے گا، تب صحیح صورت حال کا اندازہ ہوسکے گا۔ اور جب انجن ورکشاپ میں کھولا گیا تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی اور ششدرہ رہ گیا (جو ایک ٹیکنیکل آدمی ہی سمجھ سکتا ہے) کہ انجن میں دو پسٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔ کنکٹِنگ راڈ (conacting rod) ٹوٹنے کے بعد انجن کو بھی توڑ چکے تھے، موبل آئل اور پانی یکجا ہوگئے تھے۔ ایسی صورت میں کسی بھی انجن کا سٹارٹ رہنا بظاہر اسباب ناممکن ہے۔ یہ انجن مرمت کے قابل بھی نہ تھا۔ دوسرا انجن خرید کر اس گاڑی میں لگایا گیا۔ بہرحال عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گاڑی صرف کرامات پہ چلتی رہی اور اللہ پاک غیبی مدد کرتے رہے۔ 

Flag Counter