Deobandi Books

ماہنامہ الحق اگست 2014ء

امعہ دا

44 - 64
والہانہ اداؤں اور عاجزانہ و خادمانہ افتاد طبع سے بزرگوں کے دل موہ لیتے تھے۔ قائد ملت مولانا مفتی محمودؒ کو بھی ان سے حد درجہ محبت‘اور بے تکلفی تھی۔ تحریکِ نظام مصطفی میں جب مجھے اور میرے ساتھ شفیق صاحب کو ہری پور جیل منتقل کیا گیا تو حضرت مفتی صاحب نے فرمایا: ’’میری دلی خواہش تھی اور رب سے دعا بھی مانگتا تھا کہ سمیع الحق اور شفیق کوپشاور جیل کی بجائے یہاں ہری پور جیل لایا جائے۔ مفتی صاحب کے اصرار پر ہمیں حضرت مفتی صاحب کے احاطہ نمبر ۹ میں رکھا گیا۔ چنانچہ مفتی صاحب شفیق مرحوم کے ساتھ مزید بے تکلف ہوگئے۔ سالن بنانے اور مختلف چیزوں کے پکانے میں دونوں مشاورت کرتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب مرحوم شفیق صاحب کو پکانے کے طریقے بھی بتاتے تھے اور عملاً معاونت بھی کرتے تھے۔ 
اشارۂ ابرو کو سمجھنے کی صلاحیتیں: 
	بلکہ وہ ہمارے انجینئر بھی تھے اور نقشہ نویس بھی‘ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر مشورہ کرلیتے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے دانائی اور زیرکی سے نوازا تھا۔ انہیں اشارۂ ابرو کو سمجھنے اور تعمیل و تکمیلِ حکم کی صلاحیتوں سے قدرت نے نوازا تھا۔ نقشے کے حوالے سے میرا آئیڈیا لے کر پنسل سے نقشہ بناتے، جو میرے تصور کے عین مطابق ہوتا۔ جدید دارالحدیث کی عظیم تعمیر انہی کی معاونت سے تشکیل پائی اور مکمل ہوئی۔ 
جان پر کھیل کر شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ  کا تحفظ کیا: 
شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق نے فرمایا کہ: سیاسی میدان میں اول روز سے انہوں نے ایک بنیادی کارکن کا کردار ادا کیا۔ جب وزیر اعلیٰ نصر اللہ خٹک نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کی طرف سے کاغذات واپس لینے کے جعلی دستاویزات داخل کئے اور شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اس سلسلہ میں عدالتی کاروائی کے لئے اسلام آباد پہنچنا چاہتے تھے تو صوبائی حکومت نے انہیں بروقت عدالت میں پہنچنے سے اپنے تمام تر حکومتی وسائل استعمال کرکے روکنا چاہا۔ اٹک اور پھر ترنول کے پھاٹکوں پر پولیس نے گھیرائو کیا مگر شفیق الدین فاروقی جان پر کھیل کر حکومت کے مذموم مساعی اور بھرپور تعاقب کے باوصف عدالت میں انہیں پہنچا کر رہے اور اپنے ہدف میں کامیاب ہوئے۔ 
شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ  کی ایک کرامت
	استاذ مکرم مولانا عبدالقیوم حقانی نے حاضرین مجلس سے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے 
Flag Counter