ساتھ رخصت کیا‘ تمام احباب نے دعا میں ایک خاص قسم کا درد محسوس فرمایا۔ لوگوں نے مولانا سمیع الحق کے گلے میں ہار ڈالے پھرانہوں نے ایک زبردست جلوس کی قیادت کی۔ چونگی کے قریب پولیس اور F.C نے مداخلت کی‘ ہمیں جلوس سے علیحدہ کرکے حراست میں لے لیا گیا اور پولیس بس کے ذریعے اکوڑہ تھانہ پہنچادیا گیا۔تھانے پہنچنے کے بعد کاغذی کاروائی میں کچھ وقت گذرا اورپھر پولیس والے خاطرمدارت میں لگ گئے۔رات کو ۹بجے رازم خان‘ محمودالحق ‘ عبدالستار اور حامد ‘راشدگھر سے کھانا اور دودھ وغیرہ لے کر آئے‘ کھانا کھانے کے بعد تھانیدار کے کمرے میں سو گئے جوکہ ہمارے لئے خالی کیا گیا تھا۔ شاید زندگی میں پہلی رات تھی جو اسارت میں گزر رہی تھی ایک احساس تھا جوکہ چین نہیں لینے دیتا تھا۔
۳۰؍مارچ: صبح ناشتہ گھر سے آیا اورپھر محمود الحق حقانی ( مولانا مدظلہ کے بھائی پروفیسر،اسلامیہ کالج پشاور ) کو ٹیلیفون کرکے گاڑی منگوالی۔ اسی گاڑی میں نوشہرہ عدالت کو روانہ ہوئے‘ پولیس کی ایک گاڑی بھی ہمراہ تھی اور ہماری کار میں کیانی صاحب تھانیدار بمعہ اسٹین گن موجود تھا۔ نوشہرہ عدالت نے نوشہرہ جیل کے احکامات صادر کئے ‘ نوشہرہ جیل میں جگہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پشاور جیل بھیجا گیا۔ پشاور جیل میں بھی جگہ نہ تھی‘ لہٰذا پشاور سے ہری پور کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباً ساڑھے چار بجے ہری پور پہنچ گئے۔ یہاں تمام لوگ پہلے سے منتظر تھے۔ زبردست خیرمقدم ہوا۔ ایسا معلوم ہورہاتھا کہ ہری پور جیل کے ہر پودے سے پھول نوچ کر ہم پر نچھاور کئے جارہے ہیں۔ برادرم مولانا انوارالحق پہلے سے یہاں اسیر ہیں‘ ان ہی کی بیرک میں جگہ پائی۔شب بھر رات نعرے گونجتے رہے۔
مولانا سمیع الحق کی گرفتاری پر مفتی محمود کا اُن کے ہری پور جیل بھیجنے کی دعائیں:
۳۱؍مارچ : صبح نہایت سہانی تھی۔ صبح حضرت مولانا مفتی محمود صاحب سے ملاقات کی‘ مفتی صاحب نے فرمایا کہ مجھے گرفتاری کی اطلاع بذریعہ اخبار ملی تھی‘ اوراسی وقت سے دعا کررہا تھا کہ مخوں (یہ ظرافت آمیز خودساختہ نام ہے جس سے مفتی صاحب اور مولانا سمیع الحق ایک دوسرے کوپکارتے تھے) کو جلدی بھیج ‘ جیل میں اکثر احباب ملنے کے لئے آئے جوکہ خود بھی اسیر ہیں جیسے اختر ایوب (صدر ایوب کے بیٹے)،طارق صاحب‘اصغر خان کے بھائی اور کئی ایم این اے اور اہم پی اے حضرات ‘ جیل میں کل ۹ احاطے ہیں۔ ہمارا قیام احاطہ نمبر ۵ کی بیرک نمبر ۳ میں ہے۔ میرے دائیں طرف مولانا سمیع الحق صاحب کا بستر ہے اور بائیں طرف انوارا لحق کا۔ ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء طلباء ‘ وکلاء کا ایک ہجوم ہے۔ آج برادرم انوار الحق کو ایک حادثہ پیش آیا۔ دوپہر اور رات کو ہماری دعوتیں تھیں ‘ زیادہ تر وقت مفتی صاحب مدظلہ کی صحبت میں گزررہا ہے۔ مولاناسمیع الحق صاحب نے گنتی کے وقت یعنی ساڑھے چار بجے سے پانچ بجے تک جب بیرک کی تالہ بندی ہوتی ہے ترجمہ اور درس قرآن شروع