Deobandi Books

ماہنامہ الحق دسمبر 2013ء

امعہ دا

18 - 65
سندھ ایکسپریس سے واپس ہوا۔ اس موقع پر برادرم سعیدا لرحمن سے مختصر ملاقات ہوئی۔
اراکین دارالعلوم کاسفر حج:
حاجی غلام محمد صاحب و جناب رحمان الدین صاحب نے سفر حج کوروانگی فرمائی‘ راولپنڈی تک دیگر حضرات کی طرح احقر بھی ساتھ گیا اور پھرواپس ہوا۔
۵ مئی:   شام کے بعد مردان پہونچا ‘ اشفاق کے ساتھ رات کاقیام رہا۔ اگلے روز مولانا سعد الدین کے ہاں دوپہرتک ٹھہرا۔جمعہ کو واپسی ہوئی۔
۱۳ مئی:   حاجی کرم الٰہی صاحب کے ہاں حکیم عباسی صاحب لاہور شاہ عالم مارکیٹ کی آمد ہوئی بندہ نے بھی طبی معائنہ کروایا۔ حکیم صاحب موصوف ان شاء اللہ لاہور سے دوائی بھیجیں گے۔
شیخ الحدیث صاحب کا نظام العلماء کے اجلاس میں شرکت اور آئینی کمیشن کے جوابات :
۱۶مئی: والد ماجد لاہور بدعوت مولانا احمد علی صاحب تشریف لے گئے۔ وہاں نظام العلماء کے اجلاس میں شرکت کی، اس اجلاس میں آئینی کمیشن کے سوالنامہ کے جوابات کا مسودہ تیار کیا گیا اس موقع پر علماء کی تعداد چالیس تھی۔ والد ماجد پھر تین دن بعد لاہور سے بذریعہ خیبرمیل واپس ہوئے۔
متنازعہ امریکی جاسوس طیارہ اور عالمی سرد جنگ کا آغاز:
۱۷مئی:   پیرس میں عالمی سربراہوں کی کانفرنس ناکام ہوگئی گویا سرد جنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔
 مولانا سمیع الحق کی شادی کا تذکرہ مولانا شیر علی شاہ کے قلم سے :
۱۱ستمبر:	برادرم سمیع الحق کی شادی ۱۱؍ستمبر ۶۰ء کو ہوئی۔۱۰ بجے اکوڑہ سے ایک جی ٹی ایس اور دس کاروں پر مشتمل بارات بڑی شان وشوکت سے پشاور روانہ ہوئی۔ کاروں اور جی ٹی ایس کا یہ منظر بہت شاندار نظر آرہا تھا۔ ترناب فارم کے قریب قافلہ رُکا ۔پندرہ منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ پشاور روانگی ہوئی۔اورپورے گیارہ بجے بمکان محترم الحاج کرم الہٰی صاحب جلوہ افروز ہوا۔ وہاں شاندار استقبال کیا گیا۔تقریبا ۱۵۰ مدعوین کو پرتکلف کھانا دیا گیا۔مولانا عبدالحنان ہزاروی صاحب نے نکاح پڑھایا‘ بعد از چائے نوشی محترم قاری محمد امین صاحب (راولپنڈی جامعہ عثمانیہ) نے تلاوت کلام پاک فرمائی‘ بندہ نے سہرا پہنایا۔ او رمولانا عبدالحنان صاحب ہزاروں نے مختصراً الفاظ میں حاضرین اور الحاج کرم الہٰی صاحب اوردوسرے رشتہ داروں کا شکریہ ادا کیا۔ اوران کے صحابیانہ رویہ(۱)   کو سراہا۔ پھر ۵ بجے وہاں سے بارات واپس ہوئی اور اکوڑہ ۶ بجے خیروبرکت کے ساتھ سالماً وغانماً دولہاو دلہن مکان سعید پر نزول فرما ہوئے۔ …… شیر علی شاہ کان اللہ لہ 
______________________________________
(۱)   مرحوم پشاور کے نہایت سرکردہ امیر تاجر اور علماء و صلحاء کے خادم بالخصوص حضرت شیخ الحدیث ؒ کے نہایت جاں نثار اور دارالعلوم کے فدائی تھے‘ اس کے باوجود ایک فقیر خدامست عالم شیخ الحدیث مرحوم کے گھر سے رشتہ قائم کرنا عہد سلف کی ایک مثال تھی۔

Flag Counter